Even the Mujahideen should have their incorrect beliefs rectified – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah bin Baaz

مجاہدین کی بھی بدعقیدگی درست کرنا ضروری ہے

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ المتوفی سن 1420ھ

(سابق مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: شیخ کی ویب سائٹ سے فتویٰ: لا يجوز تأخير البيان عن وقت الحاجة۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال: کیا کسی مجاہدکے لیے مشروع ہے کہ وہ ضرورت کے باوجود بیان کو مؤخرکردے جب وہ بعض مجاہدین کو دیکھے کہ وہ بعض انواع توحید کی مخالفت کررہے ہیں؟

جواب: قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ: بے شک بیان کو ضرورت کے باوجود مؤخر کرنا جائز نہيں۔ اگر کوئی حق سے جاہل پایا جائے تو واجب ہے کہ اس کو تعلیم دی جائے ایسے کی طرف سے جو اس حق کو جانتا ہے، جائز نہيں کہ اس میں فلاں فلاں کا لحاظ کرتے ہوئے اس کی خاطر تاخیر کی جائے ۔ اگر ایک مومن سنتا ہے کسی کو کہ وہ اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرتا ہے، یا کوئی بدعت دیکھتا ہے جو شریعت الہی کے خلاف ہو یا کوئی ظاہر معصیت دیکھتا ہے تو اس پر اہل بدعت اور معاصی کا اچھے اسلوب سے انکار کرنا واجب ہے ۔ اور واجب ہے کہ اللہ تعالی کی توحید کے متعلق اس کا حق بیان کیا جائے، یا بدعت کا انکار کیاجائے یا معصیت کا انکار کیا جائے ایسے اسلوب سے جس سے نفع کی امید ہو، ساتھ میں ان تمام باتوں میں نرمی وحکمت کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔

البتہ جہاں تک معاملہ ہے سنتوں کا تو اس بارے میں کچھ وسعت ہے، اگر ان میں سے بعض پر تنبیہ کو وہ چھوڑ بھی دیتا ہے کسی شرعی مصلحت کے پیش نظر تو اس میں کوئی حرج نہیں، جیسے نماز میں آمین بالجہریا رفع الیدین وغیرہ جیسی سنتیں، اگر وہ دیکھتا ہے کہ اس بارے میں کلام کرنے کو کسی دوسرے وقت یا دوسرے اجتماع تک مؤخر کردینا زیادہ مناسب ہوگا تو اس صورت میں اس بارے میں کچھ وسعت ہے، کیونکہ بلاشبہ یہ سنتوں میں سے ہیں ناکہ فرائض میں سے([1])۔


[1] مزید تفصیل کے لیے پڑھیں ہماری ویب سائٹ پر مقالات: ’’جہاد میں عقیدے کی اہمیت‘‘  مختلف علماء کرام اور ’’سلفی علماء موجودہ جہادی تحریکوں کی حمایت کیوں  نہيں کرتے‘‘  از شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

mujahideen_badaqeedgi_durust_krna_zarori_hai