The difference between the real scholars and jurists, and those who pose as them – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

حقیقی علماء و فقہاء اور بہرروپیوں میں فرق

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: شرح الأصول الستة۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب  رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

چوتھا اصول

حقیقی علماء وفقہاء کرام کا بیان

علم و علماء اور فقہ و فقہاء کا بیان، اور ان لوگوں کا بیان جو ان جیسا روپ دھار لیتے ہيں مگر درحقیقت وہ ان میں سے نہیں، اللہ تعالی نے اس اصول کو سورۂ بقرہ کے شروع میں اس آیت ﴿ يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ۔۔۔﴾  (البقرة: من الآية40) (اے بنی اسرائیل! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی۔۔۔) سے لے کر ابراہیم  علیہ الصلاۃ والسلام  کے ذکر سے پہلے کی اس آیت﴿ يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا۔۔۔﴾  (البقرة: من الآية122) تک جو پہلی آیت ہی کی طرح ہے (اے بنی اسرائیل! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی۔۔۔)میں بیان فرمایا۔ اس کی مزید وضاحت وہ کلامِ کثیرکرتا ہےجوسنت میں صراحتاً ذکر ہواجو ایک عام انسان اور نابلد کے لئے بھی بالکل کھلم کھلااور واضح ہے۔ پھر یہ بھی ایک اجنبی ترین چیز بن گیا، اور علم وفقہ ہی بدعت وگمراہی بن گیا، اور ان کے نزدیک بہترین شخص وہ ٹھہرا جو حق میں باطل کی آمیزش کرتاہے، اور وہ علم جو اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر فرض قرار دیا اور اس کی تعریف فرمائی، اس کے ساتھ کلام نہیں کرتا مگر زندیق یا پاگل!، اور جو اس (حقیقی علم) کا انکار کرے، اس سے دشمنی برتے، اور اس سے سختی کے ساتھ روکے اور منع کرے وہ (ان کے نزدیک) فقیہ اور عالم ہے!!۔

شیخ صالح الفوزان  حفظہ اللہ  فرماتے ہیں:

شیخ الاسلام  رحمہ اللہ  کا یہ فرمانا کہ:

علم و علماء اور فقہ و فقہاء کا بیان۔۔۔

یہ ایک عظیم اصول ہے، جو اس بارے میں ہے کہ العلم سے کیا مراد ہے؟ جاننا چاہیےکہ بلاشبہ اس علم سے مراد شرعی علم ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر مبنی ہوتا ہے۔یہ ہے علم نافع، جبکہ جو دنیاوی علوم ہیں جیسے صنعت و حرفت و طب وغیرہ تو ان پر بناقید کے علم کا اطلاق نہیں ہوتا۔

جب کہا جاتا ہے کہ العلم کہ جس کی فضیلت ہے تو اس سے مراد شرعی علم ہوتا ہے، جبکہ جو صنعت و حرفت و پیشہ وارانہ علم ہے  تو یہ بس مباح علوم ہيں ان پر العلم کے نام کا اطلاق  بغیر قید کے نہيں ہوتا۔

لہذا انہیں یوں کہا جاتا ہے: انجینئرنگ کا علم، طب (میڈیکل) کا علم، لیکن صد افسوس کہ آج لوگوں کے عرف عام میں جب علم (اور تعلیم) کا ذکر ہوتا ہے تو وہ اس سے مراد یہی عصری علوم لیتے ہيں۔ اور جب وہ قرآن سے کچھ سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہيں کہ اس کی گواہی تو عصری علم دیتا ہے، اسی طرح کوئی حدیث آتی ہے تو یہی کہنے لگتے ہیں: اس کی گواہی تو یہ عصری علم دیتا ہے۔

چناچہ آج العلم سے مراد یہی صنعت و حرفت و طب وغیرہ کا علم بن کر رہ گیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہوسکتا ہے یہ جسے علم کہہ رہے ہیں وہ جہالت ہو، کیونکہ عین ممکن ہے اس میں بہت سے غلطیاں پائی جاتی ہوں، اس وجہ سے کہ یہ بہرحال انسانی کاوش ہی ہے(جس میں ہمیشہ غلطی کا امکان تو رہتا ہی ہے) برخلاف شرعی علم کے ، کیونکہ وہ تو بلاشبہ اللہ تعالی  کی طرف سے  ہے، جس کی خوبی ہے کہ:

﴿لَّا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ ۭتَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ﴾(فصلت: 42)

(اس کے پاس باطل نہ اس کے آگے سے آسکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے، یہ ایک کمال حکمت والے، تمام خوبیوں والے کی طرف سے اتاری ہوئی ہے)

فرمان باری تعالی ہے:

﴿اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰۗؤُا﴾ (فاطر: 28)

(اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف علماء ہی ڈرتے ہیں)

یہ شریعت کے علماء ہیں کہ جو اللہ تعالی کی معرفت رکھتے ہیں، جبکہ جو انجینئرنگ، صناعت، ایجادات کرنے والے اور طب کے علماء ہیں تو ہوسکتا ہے وہ اللہ تعالی کے حق سے ہی جاہل ہوں اور اس کی معرفت ہی نہ رکھتے ہوں۔ اور اگر رکھتے بھی ہوں تو وہ قاصر ہو، لیکن جو اللہ تعالی کی حقیقی معرفت رکھتے ہیں وہ شریعت کے علماء ہيں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰۗؤُا﴾

کیونکہ وہ اللہ تعالی کو اس کے اسماء و صفات کی معرفت کے ذریعے جانتے ہیں، اس کے حق کی معرفت رکھتے ہیں اور یہ علم طب یا علم انجینئرنگ سے حاصل نہیں ہوسکتی، بلکہ اس سے تو صرف ہوسکتا ہے فقط توحید ربوبیت حاصل ہوجائے، البتہ جو توحید الوہیت ہے تو یہ صرف اور صرف علم شریعت سے ہی حاصل ہوسکتی ہے۔

پھر شیخ الاسلام  رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

اور ان لوگوں کا بیان جو ان جیسا روپ دھار لیتے ہيں مگر درحقیقت وہ ان میں سے نہیں۔۔۔

یہاں  یہ بیان کرنے سے مقصود کہ جو لوگ اہل علم جیسا روپ دھار لیتے ہيں مگر درحقیقت وہ ان میں سے نہیں و ہ ہیں کہ جو بس اہل علم کی نقالی کرتے ہیں اور ان جیسا روپ دھار لیتے ہيں حالانکہ وہ علم کی ابجد سے بھی واقف نہيں ہوتے۔ تو ایسے لوگوں کا نقصان بہت بڑا ہے خود اپنے لیے بھی اور امت کے لیے بھی، کیونکہ یقیناً پھر وہ اللہ تعالی پر بغیر علم کے بات کریں گے، اور لوگوں کو بغیر علم کے گمراہ کریں گے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا لِّيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ﴾  (الانعام: 144)

( پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھےتاکہ لوگوں کو بغیر کسی  علم کے گمراہ کرے)

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ:

دنیا کو چار لوگ بگاڑتے ہیں: نیم فقیہ، نیم نحوی، نیم طبیب، نیم متکلم، ایک شہروں میں بگاڑ پیدا کرتا ہے تو ایک زبان میں، ایک بدن میں بگاڑ پیدا کرتا ہے تو ایک دین میں۔

پھر شیخ الاسلام  رحمہ اللہ  نے سورۃ البقرۃ کی جو آیات ذکر کیں بنی اسرائیل کے تعلق سے اس کی شرح میں شیخ  حفظہ اللہ  فرماتے ہیں:

اللہ تعالی نے سورۃ البقرۃ  میں بہت سے آیات بنی اسرائیل کو اپنی نعمتوں کی یاددہانی کے لیے نازل فرمائی ہیں، اور انہيں محمد  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی اتباع  کا حکم دیا ہے کہ جن کی نبوت و رسالت کو وہ اپنی کتابوں میں اچھی طرح سے جانتے تھے، اور ان کے انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی بشارت دیتے چلے آئے تھے، اس فرمان سےاللہ تعالی نے یہ باتيں شروع فرمائیں:

﴿يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَوْفُوْا بِعَهْدِىْٓ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ﴾  (البقرۃ: 40)

(اے بنی اسرائیل ! میری وہ نعمت یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی اور تم میرا عہد پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا)

اور اس قول پر انہيں ختم فرمایا:

﴿يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَنِّىْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ، وَاتَّقُوْا يَوْمًا لَّا تَجْزِيْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ﴾  (البقرۃ: 122-123)

(اے بنی اسرائیل ! میری وہ نعمت یاد کرو جو میں نے تم پر کی اور یہ کہ بلاشبہ میں نے تمہیں دنیا جہان پر فضیلت بخشی، اور اس دن سے بچو جب نہ کوئی جان کسی جان کے کچھ کام آئے گی،اور نہ اس سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا، اور نہ اسے کوئی سفارش ہی فائدہ  دے گی)

پھر اس کے بعد ابراہیم  علیہ الصلاۃ والسلام  کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

﴿وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ۔۔۔﴾ (البقرۃ: 124)

(اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں کے ساتھ آزمایا)

یہ ساری آیات جو پہلی اور آخری آیت کے مابین ہيں بہت سی آیات ہیں جو ساری کی ساری بنی اسرائیل سے متعلق ہيں ان کو اللہ کی نعمتیں جیسے رسولوں کا بھیجا جانا اور کتابوں کو نازل کیا جانا یاد دلائی گئی ہيں ، اور یہ کہ ان پر واجب ہے کہ وہ اللہ کے اس رسول محمد  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر ایمان لائيں۔

اور بنی اسرائیل دراصل اولاد یعقوب  علیہ الصلاۃ والسلام  ہيں، اسرائیل سے مراد یعقوب  علیہ الصلاۃ والسلام  ہیں، کیونکہ وہ ان کی اولاد میں سے تھے جو بارہ اولاد تھیں، ان کے بیٹوں میں سے ہر بیٹے کی اولادیں ہوئيں، اور تمام اولادوں کو السبط کہا جاتا ہے جو عرب میں قبائل کی مانند ہوتے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَقَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا﴾  (الاعراف: 160)

(اور ہم نے انہیں بارہ قبیلوں میں تقسیم کردیا)

پھر شیخ ا لاسلام  رحمہ اللہ  کا یہ فرمانا:

اس کی مزید وضاحت وہ کلامِ کثیرکرتا ہےجوسنت میں صراحتاً ذکر ہواجو ایک عام انسان اور نابلد کے لئے بھی بالکل کھلم کھلااور واضح ہے۔۔۔

اس کی شرح میں فرمایا:

جی بالکل  ایسی احادیث آئی ہيں کہ جن میں علم حاصل کرنے پر ابھارا گیا ہے اور اس کی ترغیب دی گئی ہے، اور بیان کیا گیا ہے کہ علم نافع کیا ہوتا ہےاور کونسا علم ہے جو نفع نہیں دیتا اس تعلق سے بہت کچھ آیا ہے۔ اگر آپ  امام ابن عبدالبر  رحمہ اللہ  کی کتاب جامع بیان العلم وفضلہ  یا ان کے علاوہ دیکھیں گے تو اس بات کو اچھی طرح سے جان لیں گے۔

پھر شیخ الاسلام  رحمہ اللہ  نے فرمایا:

پھر یہ بھی ایک اجنبی ترین چیز بن گیا، اور علم وفقہ ہی بدعت وگمراہی بن گیا۔۔۔

شیخ اس کی شرح میں فرماتے ہیں:

بعض متاخرین کے یہاں علم و فقہ  ہی بدعات و گمراہی بن کر رہ گیا، کیونکہ انہوں نے اس صحیح علم کو چھوڑ دیا جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر مبنی تھا، پس ان کے نزدیک علم بس یہی رہ گیا کہ: فلاں حضرت نے یہ فرمایا، فلاں حضرت نے وہ فرمایا بس حکایایتیں ۔

جیسا کہ ان کا یہ قول کہ: فلاں کی قبر نے ایسے ایسے نفع پہنچایا، اور فلاں زمین کے ٹکڑے پر فلاں نے خواب میں یہ دیکھا (یعنی بس خواب، قصے کہانیاں)  بس یہ ہے ان لوگوں کا علم، یا  پھر وہ ان احادیث کو چھانتے رہتے ہیں جو من گھڑت ہيں اور مدفون ہيں جنہیں اہل علم نے دفنا دیا ہے، اور واضح کردیا ہے کہ یہ جھوٹی روایات ہیں۔ تو آپ پائيں گے ان خرافت زدہ لوگوں کو کہ وہ ان روایات کو صحیح بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کی اسانید کو مزین کرکے اس کی مرمت کرتے ہیں پھر کہتے ہیں: یہ تو صحیح احادیث ہیں! جبکہ واقعی جو صحیح احادیث ہيں جو بخاری، مسلم، سنن اربع اور معتبر مسانید میں وارد ہيں اسے چھوڑ دیتے ہيں، اس لیے چھوڑ دیتے ہيں کیونکہ وہ ان کے مطلب کی نہیں ہیں۔

شیخ الاسلام  رحمہ اللہ  مزید فرماتے ہیں:

اور ان کے نزدیک بہترین شخص وہ ٹھہرا جو حق میں باطل کی آمیزش کرتاہے۔۔۔

شیخ  حفظہ اللہ  اس کی شرح میں فرماتے ہیں:

واجب ہے کہ حق کو باطل سے ممتاز کرکے  ان کے درمیان فاصلہ کیا جائے۔لیکن اگر ان کے درمیان خلط ملط کردیا جائے  تو یہی تلبیس، تدلیس اور لوگوں کو دھوکہ دینا ہے۔

شیخ الاسلام  رحمہ اللہ  نے فرمایا:

اور وہ علم جو اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر فرض قرار دیا اور اس کی تعریف فرمائی، اس کے ساتھ کلام نہیں کرتا مگر زندیق یا پاگل!۔۔۔

شيخ  حفظہ اللہ  اس کی شرح میں فرماتے ہیں:

کیونکہ وہ اس چیز کی مخالفت کرتا ہے جس پر یہ لوگ چل رہے ہیں۔ پس وہ علم اور اہل علم جن کی تعریف  و مدح اللہ تعالی نے فرمائی ہے ان کے نزدیک جہل بن کر رہ گیا ہے، جو کوئی اس علم کے ساتھ بات کرتا ہے تو وہ پاگل ہے! کیونکہ  ان کا کہنا ہے کہ: بلاشبہ یہ جو علم اللہ تعالی نے فرض قرار دیا ہے یہ تو اس چیز کو بدل دینے کی بات کرتا ہے جس پر لوگ چل رہے ہیں!! اور یہ تو ہمارے باپ دادوں کا دین تبدیل کردینے کی بات کرتا ہے!!

شیخ الاسلام  رحمہ اللہ  آخر میں فرماتے ہیں:

اور جو اس (حقیقی علم) کا انکار کرے، اس سے دشمنی برتے، اور اس سے سختی کے ساتھ روکے اور منع کرے وہ (ان کے نزدیک) فقیہ اور عالم ہے!!۔

اس کی شرح میں شیخ فوزان  حفظہ اللہ  فرماتے ہیں:

جو کوئی علم نافع سے روکنے کے لیے (کتابیں) تصنیف کرے اور مذموم علم کی تعریف کرتے ہوئے اسے لوگوں میں نشر کرتا  پھرے تو اس کے متعلق یہ کہتے ہیں: یہی تو اصل فقیہ ہے، یہی تو عالم ہے! جبکہ جو صحیح علم نشر کرتا ہے تو اس کے بارے میں کہتے ہیں: یہ ٹھیک بندہ نہيں ہے، یہ تو جاہل ہے، یہ تو لوگوں میں تفرقہ ڈالنا چاہتا ہے، ہم تو بس سب کو جمع کرنا (اتحادِ امت) چاہتے ہیں ناکہ تفریق، یعنی بس اجتماع و اتحاد خواہ وہ باطل پر ہی کیوں نہ ہو، ہم وہ تفریق نہيں چاہتے  جس سے حق و باطل میں تمیز ہو، اور پاک و ناپاک میں تمیز ہو۔ حالانکہ یہ بات تو محال ہے، کیونکہ باطل پر کبھی بھی اجتماع نہیں ہوسکتا، اجتماع تو صرف اور صرف حق پر ہوسکتا ہے، شاعر کہتا ہے:

إذا ما الجُرْحُ رُمّ على فَسَادٍ            تَبَيّنَ فيهِ إِهْمَالُ الطّبيبِ

haqeeqi_ulamaa_aur_behropiyo_may_farq