Introduction of Imām al-Ājurry’s Book ash-Sharīʾah and its explanation called adh-Dharīʾah

امام الآجری  رحمہ اللہ کی کتاب الشریعہ اور اس کی شرح الذریعہ کا تعارف

مکتبہ المیراث النبوی

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الذَّريعَةُ إلى بيانِ مقاصدِ كتابِ الشَّريعَةِ.

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام الآجری  رحمہ اللہ  کون ہیں؟

آپ کا نام محمد بن الحسین بن عبداللہ، ابوبکر الآجری  رحمہ اللہ  ہےجوبغدادی پھر مکی ہیں۔ حرم مکی شریف کے شیخ تھے، آپ امام، پیشوا، زاہد، حافظ، حجت اور اپنے زمانے کے حدیث، فقہ کے امام اور اثری و اخباری تھے(یعنی آثار واحادیث و روایات کے متبع)۔

اپنے زمانے کے کبار علماء سنت سے علم حاصل کیا، اسی طرح سے آپ کے شاگردوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔

اور آپ خود بھی ایک بہت بڑے عالم و مجتہد تھے۔ اور کئی تصانیف بھی آپ نے فرمائيں۔

کئی آئمہ کرام آپ  رحمہ اللہ  کی تعریف فرماتے ہیں۔

آپ  رحمہ اللہ  کی وفات سن 360ھ میں ہوئی۔

کتاب الشریعۃ کا تعارف

سلف صالحین نے عقیدۂ اہل سنت والجماعت کو ثابت کرنے اور اہل بدعت و اہواء  پر رد کرنے کے سلسلے میں بہت سے کتب تصنیف فرمائی ہيں، جن میں سے بعض مختصر، بعض متوسط اور کچھ طویل بھی ہيں۔ انہيں طویل کتب میں سے ایک کتاب الشریعۃ از امام ابو بکر محمد بن الحسین الآجری  رحمہ اللہ  م 360ھ  بھی ہے۔ اس میں 261 اعتقاد سے متعلق ابواب ہيں جو کہ 23 اجزاء پر مشتمل ہيں، جس کی روایات کی تعداد  2000 احادیث و آثار سے متجاوز ہے، اس کا اختتام آپ  رحمہ اللہ  نے ان الفاظ میں فرمایا:

میں نے اس کتاب میں جو کہ کتاب الشریعہ ہے  اول تا آخر جتنا مجھے علم تھا  اسلام کی ان باتوں میں سے ہر وہ بات شامل کردی ہے جن کے علم کی ضرورت ہوتی ہے اس وجہ سے کہ بہت سے لوگوں کے مذاہب میں بگاڑ آچکا ہے۔ اور جب بہت سی پے درپے گمراہ کن اہواء و بدعات  ظاہر ہوچکی ہیں  تومیں نے جتنا کچھ اللہ تعالی نے مجھے علم دیا ہے اس کے مطابق وہی کچھ علم بیان کیا ہے جس سے اہل حق اپنے نفسوں میں قوت محسوس کریں اور اہل بدعت و گمراہی کا قلع قمع ہو، الحمدللہ علی ذلک۔اھ

شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمہ اللہ  م 728ھ فرماتے ہیں:

اور شیخ ابو بکر الآجری  رحمہ اللہ  نے کتاب تصنیف فرمائی الشریعہ کے نام سے، اور شیخ ابو عبداللہ ابن بطہ  رحمہ اللہ  نے کتاب الابانۃ عن شریعۃ الفرقۃ الناجیۃ لکھی۔ دراصل سنت میں ان آئمہ کرام کا مقصود ”الشریعۃ“ سےیہ تھا :

وہ عقائد جو اہل سنت ایمانیات کے  تعلق سے رکھتے ہيں جیسے ان کا اعتقاد کہ بلاشبہ ایمان قول و عمل کا نام ہے، اور اللہ تعالی کو ان صفات سے موصوف کیا جائے گا جس سے خود اس نے اپنے آپ کو یا اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے اسے موصوف فرمایا ہے، اور قرآن مجید اللہ کا کلام ہے مخلوق نہیں ہے، اور یقیناً اللہ تعالی ہر چیز کا خالق ہے، جو وہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو اس نے نہیں چاہا وہ نہیں ہوا، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اور وہ محض گناہوں کے سبب اہل قبلہ کی تکفیر نہيں کرتے، اور کبیرہ گناہوں کے مرتکب کے لیے شفاعت ہونے پر ایمان لاتے ہيں اور اس جیسے دیگر عقائد اہل سنت والجماعت، پس وہ ان کے اصول اعتقاد کو ان کی شریعت کہتے ہیں، چناچہ وہ ان کی اور غیروں کی شریعت میں اس طرح سے فرق کرتے ہیں(جیسے منہج میں فرق کیا جاتا ہے)۔

الذریعہ شرح کتاب الشریعۃ از شیخ ربیع المدخلی  حفظہ اللہ  کا تعارف

شیخ ربیع بن ہادی المدخلی  حفظہ اللہ  کی شرح دراصل آپ کے دروس کا مجموعہ ہے جنہیں کتابی شکل میں لایا گیا ہے۔ اس کی کچھ امتیازی خصوصیات درج ذیل ہیں:

1- شیخ  حفظہ اللہ  نے جابجا خوارج کی نشانیاں ذکر فرماکر ان کے عیوب کا پردہ چاک کیا ہے،  اور کس طرح یہ لوگ اپنی پیدائش سے لے کر آج تک امت کے اوپر وبال بنے ہوئے ہيں۔اور ان کے ان باطل دعوؤں کی قلعی بھی کھول دی ہے کہ جن کے ذریعے وہ اپنے آپ کو اور عوام کو دھوکہ دیتے ہیں، کیونکہ بظاہر وہ نفاذو تحکیم شریعت کے لیے غیرت دکھا رہے ہوتے  ہیں، جبکہ درحقیقت انہیں سوائے دنیا کی محبت کے کسی چیز نے نہيں نکالا ہوتا، جس کا اقرار خود ان کے امامِ اول ذوالخویصرہ التمیمی نے بھی کیا تھا، اسی طرح سے اس کے بعد میں آنے والے پیروکار بھی یہ اقرار کرتے رہتے ہیں۔

2- شیخ  حفظہ اللہ  نے اس دور کے امام تکفیر سید قطب کا بھی رد کیا ہے، ساتھ میں ان کا بھی جو اس کے تعلق سے غلو کرتے ہيں اور یہ کہ یہ لوگ خود ارجاء کے وصف سے موصوف ہونے کے زیادہ لائق ہيں ان اہل سنت کی بنسبت جنہیں یہ ارجاء کی تہمت لگاتے ہيں حالانکہ وہ اہل سنت تو بدعت واہل بدعت سے بری ہیں۔

3- شیخ  حفظہ اللہ  نے صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  کے بارے میں عقیدہ اہل سنت  کی ایک سے زائد مناسبت پر وضاحت فرمائی، اور ان حق سے خارج رافضہ یا انہی کے دم چھلوں میں سے اہل سنت کہلانے والوں کے خلاف سختی برتی جو صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  پر زبان طعن دراز کرنے کی جرأت کرتے ہيں۔

4- شیخ  حفظہ اللہ  نے اس اصول کو عملی طور پر اپنا کر سمجھایا کہ ہم مخالفین کے ساتھ بھی عد  ل  وانصاف کا برتاؤ کرتے اور اس کی پابندی کرتے ہیں، جیسے فرمایا:

ہم خوارج سے بغض رکھتے ہيں، اور یہ عقیدہ رکھتے ہيں کہ یہ بدترین مخلوق  و خلائق ہيں، لیکن اس کے باوجود ہم ان پر ظلم نہيں کرتے اپنے اس ایمان کی وجہ سےکہ اسلام ہر مسلمان و کافر تک کے ساتھ عدل کرنے کو فرض قرار دیتا ہے، لہذا ضعیف روایات کی بنیاد پر ان پر کوئی حکم نہیں لگاتے۔

5- شیخ  حفظہ اللہ  اہل بدعت کی مجلس اختیار کرنے سے خبردار کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

ایک طالبعلم پر لازم ہے کہ وہ اہل بدعت کے بارے میں اپنے تعلق سے بے خوف ہوکر نہ بیٹھے، کیونکہ بلاشبہ وہ ایوب (السختیانی)و ابن سیرین رحمہما اللہ سے زیادہ تو علم نہيں رکھتا نہ ہی ان کے مرتبے تک پہنچ سکتا ہے، اور جو ان سے ملحقہ لوگ ہیں۔

6- شیخ  حفظہ اللہ  نے العرباض بن ساریہ  رضی اللہ عنہ  کی حدیث کی شرح کرتے ہوئے بہت توسع اختیار کیا ہے اور اس میں سے جلیل القدر فوائد کا استخراج فرمایا ہے۔

7- شیخ  حفظہ اللہ  نے غلو اور غالی لوگوں کے رد پر توجہ کو مرکوز رکھا ہے، اور یہ کہ امت پر جتنے مصائب و آزمائشیں ہيں ان میں بہت بڑا ہاتھ اسی غلو کا ہے۔

8- شیخ  حفظہ اللہ  نے سنت نبویہ کی قدرومنزلت بیان کرنے میں بھی توسع اختیار فرمایا ہے، اور ان عقل پرستوں پر رد کیا ہے جو سنت سے منہ موڑتے ہيں، اسی طرح حاکمیت کے داعیان کا بھی رد کیا ہے کہ وہ دعوت الی اللہ میں نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی سنت سے روگردانی کرتے ہيں۔

9- شیخ  حفظہ اللہ  نے اس اصول کو بھی بارہا ایک سے زائد مناسبت پر مقرر فرمایا ہے کہ اہل بدعت سے تحذیر (خبردار) کیا جائے گا، اور اس پر کتاب و  سنت اور سلف صالحین کے کلام سے استدلال فرمایا ہے۔

10- شیخ  حفظہ اللہ  نے اس اصول کو بھی مقرر فرمایا ہے کہ بدعت مکفرہ والے اہل بدعت میں سے جو تاویلات کا شکار ہیں ان کی تکفیر سے پہلے اقامت حجت ضروری ہے۔

11- شیخ  حفظہ اللہ  نے شرح کرتے ہوئے جو عقائد اہل سنت والجماعت امام الآجری  رحمہ اللہ  نے بیان کیے ہيں ان کی ایک ایک دلیل کرکے تفصیل بیان کی ہے، الا یہ کہ شاذ و نادر ایسا نہ کیا ہو، ساتھ ہی اسی کلام کے تحت منحرف عقائد والوں پر رد ودبھی فرمائے ہیں۔

12- شیخ  حفظہ اللہ  نے اہل سنت کے اس مقررہ قاعدہ کی بھی تائید فرمائی ہے کہ:

اعیان کی نسبت دراصل مخلوق کی خالق کی طرف نسبت ہوگی، جبکہ صفات  (جو کہ معانی ہيں)   کی صفت کی اس موصوف کی طرف نسبت ہوگی جس (موصوف) کے ساتھ وہ قائم ہے۔

13- شیخ  حفظہ اللہ  نے ان لوگوں  پر رد فرمایا کہ جو یہ گمان کرتے ہيں کہ سلف کا عقیدے میں بھی اختلاف تھا، لہذا اس سوال کے جواب میں کہ عرش زیادہ قدیم ہے یا قلم فرماتے ہیں:

یہ کوئی ضرررساں نہيں، کیا ان میں سے کسی نے عرش یا قلم کا انکار کیا ہے؟

اگر انسان عرش یا قلم کا انکار کرتا ہے تو پھر اس کا ٹھکانہ کیا ہوگا؟

ہم کہتے ہیں: ان کا اس بارے میں اختلاف دراصل بس ایک تاریخی مسئلے میں اختلاف ہے، ہر ایک نے ان نصوص سے اپنا فہم لیا ہے کہ ان دو میں سے تاریخ و وجود کے اعتبار سے کون قدیم ہے (یہ کوئی نقصان دہ نہیں)۔ جو بات اصل نقصان دہ ہوسکتی ہے وہ یہ کہ: عرش یا قلم کے وجود کا انکار کردیا جائے، کیونکہ بلاشبہ یہ انکار کرنا کتاب و سنت کے نصوص اور جس چیز پر سلف صالحین تھے اس سے تصادم کہلائے گا۔

14- شیخ  حفظہ اللہ  نے کئی ایک جگہوں پر ایمان کے مسئلے کے تعلق سے مخالفین پر رد فرمایا ہے، اور ان لوگوں کی چھپی بدنیتی کی نقاب کشائی فرمائی ہے کہ جو اہل علم کے متشابہ کلام سے چمٹ کر اہل سنت پر ارجاء کی تہمت لگاتے ہیں۔

15- اس شرح میں آپ شیخ  حفظہ اللہ  کی معارج القبول از حافظ الحکمی  رحمہ اللہ  کی ایک فصل پر لکھی گئی تعلیق بھی پائيں گے، جس میں لا الہ الا اللہ کی شرائط کا بیان ہے۔

16- کئی بار شیخ  حفظہ اللہ  نے یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ آئمہ اہل سنت کا اپنی تالیفات میں یہ طریقہ رہا ہے کہ کبھی کبھار وہ کچھ ضعیف احادیث و آثار بھی ذکر کرلیتے ہيں بشرطیکہ ان کا معانی صحیح ہوتا اور صحیح نصوص کے موافق  ہونے کے سبب عقیدہ اہل سنت والجماعت کے عقیدہ میں مقرر ہوتا۔

17- اس مبارک شرح کے بہت سے ابواب میں شیخ  حفظہ اللہ  نے اہل علم میں سے محققین کے کلام کو بھی نقل فرمایا ہے جیسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ، علامہ ابن القیم و حافظ ابن کثیر S وغیرہ۔

18- بسا اوقات شیخ  حفظہ اللہ  ایک مسئلے کو مقرر و ثابت کرنے کے لیے بہت سے نقول متبحر اہل علم کے لے کر آتے ہيں، اتنے کہ اگر اسے الگ سے کسی رجسٹر میں جمع کردیا جائے تو وہ ایک علمی تحقیق کے جیسے لگیں، جیسا کہ آپ نے  ان موضوعات میں کیا:

الف: اس آیت کے تحت جس میں اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ…﴾ (الاعراف: 172)

(اور جب تمہارے رب نے بنی آدم سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انہیں خود ان کی جانوں پر گواہ بنایا، کیا میں واقعی تمہارا رب نہیں ہوں ؟)

ب: یا جیسا کہ آپ حفظہ اللہ  نے اس وقت کیا جب مصنف  رحمہ اللہ  نے نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے خواب میں دیدار الہی  ہونے والے مسئلے کو بیان کیا۔

19- شیخ  حفظہ اللہ  کا اختلاف کے موقع پر ترجیح کے قواعد کو استعمال کرنا جن میں سے یہ ہے کہ کتاب و سنت کے محکم دلائل سے تمسک اختیار کرنا اور ان میں سے ضعیف پر صحیح کو ترجیح دینا۔

اس مبارک شرح کو پڑھنے والے پر عنقریب اس سے بھی زیادہ علوم و فوائد ظاہر ہوں گے ان شاء اللہ جو ہم نے یہاں ذکر کیے اور جو خوبیاں ہم نے بتائی اس سے بھی بڑھ کر پائے گا، اور اللہ تعالی اپنا فضل جسے  چاہے عطاء کرتا ہے، اور اللہ بہت وسیع فضل والا ہے([1])۔


[1] اس شرح کا اردو ترجمہ پیر تا جمعہ شام 5 بجے (پاکستان وقت کے مطابق) توحید خالص ریڈیو پر براہ راست  نشر کیا جاتا ہے۔

kitab_ush_shariah_sharh_zariya_taruf