Explanation of Book ash-Sharīʾah of Imām al-Ājurry – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

شرح کتاب الشریعۃ از امام ابو بکر الآجرّی رحمہ اللہ

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: زبیر بن محمد عباسی

مصدر: الذَّريعَةُ إلى بيانِ مقاصدِ كتابِ الشَّريعَةِ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام الآجری  رحمہ اللہ کی کتاب الشریعہ اور اس کی شرح الذریعہ کا تعارف PDF

امام ابو بکر محمد بن حسین بن عبداللہ الآجری رحمہ اللہ کا تعارف

آپ کا نام و نسب و منزلت

آپ کی ولادت

آپ کی پرورش

آپ کی شیوخ

آپ کی شاگرد

آپ کا فقہی مذہب

امام الآجری رحمہ اللہ کسی معین مذہب کی پابندی نہیں کرتے تھے، بلکہ وہ خود فقیہ و مجتہد تھے

امام الآجری کا عقیدہ

آپ کی تصنیفات

علماء کرام کا امام الآجری کی تعریف فرمانا

آپ کی وفات

Download MP3

امام الآجری رحمہ اللہ کا مقدمہ

حدیث: يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله… پر کلام

باب 1: الجماعۃ کو لازم پکڑنے، اور تفرقے سے ممانعت، اتباع کرنے اور بدعات کو ترک کرنے کا بیان

یہود و نصاری کی ہلاکت کا سبب اختلاف و تفرقہ بازی تھی، اور اس کا اہم ترین سبب حسد و ضدبازی تھا

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں بھی اہل بدعت کی تفرقے بازی کا سبب ضدبازی، حسد، دنیا و پیسوں کی محبت ہے خصوصاً اس دور میں

موجودہ دور کے بعض اہل بدعت کے افعال و اقوال کے نمونے جو سلفیت کے پردے کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں

Download MP3

[احادیث کے راویان کے نام ذکر کیے جانے کی اہمیت پر ایک تنبیہ]

مصنف کا وہ آیات ذکر کرنا جن میں یہود و نصاری کا ضدبازی و حسد کی بنا پر تفرقہ کرنے کا بیان ہے

مصنف کا وہ آیات ذکر کرنا جن میں تفرقہ بازی سے منع اور اجتماع کا حکم دیا گیا ہے

مصنف کا وہ دلیل بیان کرنا جس میں اس امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی تفرقہ ہوجانے کا ذکر ہے

سورۃ ھود آیات (وَّلَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ، اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ ۭ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ) [ھود: 118-119] کی تفسیر

Download MP3

مصنف کا وہ دلیل بیان کرنا جس میں اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس چیز کی اتباع کرنے کا حکم دیا ہے جو ان کی طرف نازل کی گئی، اور سابقہ امتوں کی اہواء کی پیروی سے خبردار کیا گیا ہے

مصنف کا آیات کے اس معنی کےتعلق سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر بیان کرنا

باب2: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی امت کو الجماعۃ کو لازم پکڑنے اور آپ کا انہیں تفرقے بازی سے ڈرانے کا ذکر

جماعت کو لازم پکڑنے کے حکم کے متعلق عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث

حدیث عمر رضی اللہ عنہ پر تعلیق

جماعت کو لازم پکڑنے کے حکم کے متعلق الحارث الاشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث

حدیث الحارث رضی اللہ عنہ پر تعلیق

جماعت سے جدا ہونے والے کے لیے وعید پر مبنی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث

حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پر تعلیق

مختلف راہوں کے ذکر کے متعلق ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث

حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر تعلیق

مختلف راہوں کے ذکر کے متعلق جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث

Download MP3

صراط مستقیم کی مثال ذکر کرنے والی نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی حدیث

حدیث النواس رضی اللہ عنہ پر تعلیق

ابن مسعود رضی اللہ کا اثر: “إن هذا الصراط محتضر…” اور اس پر تعلیق

ابن مسعود رضی اللہ کا اثر: “أيها الناس عليكم بالطاعة والجماعة…” اور اس پر تعلیق

الشعبی رحمہ اللہ کا اثر: “كان يقال: من أراد بحبحة الجنة”

ابو العالیہ رحمہ اللہ کا اثر: “تعلموا الإسلام، فإذا تعلمتموه فلا ترغبوا عنه…” اور اس پر تعلیق

جس کے ساتھ اللہ تعالی کا خیر کا ارادہ ہو اس کی نشانی کہ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سلف صالحین کی اتباع کرتا ہے

Download MP3

باب 3: امتوں کا اپنے دین میں تفرقہ کرنا اور یہ امت کتنے فرقوں میں بٹ جائے گی کا بیان

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہود و نصاری میں اور اپنی امت میں بھی تفرقے بازی کی خبر دینا، اور فرقۂ ناجیہ کی صفت

یوسف بن اسباط رحمہ اللہ کا اثر بدعت کے اصول (جڑوں) کا تعین کرنے اور فرقۂ ناجیہ کے ذکر کے بارے میں

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان روایات کا ذکر جن میں امت کے افتراق کا بیان ہے

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی روایت

انس و علی رضی اللہ عنہما کی روایت

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی روایت

معاویہ رضی اللہ عنہ کی روایت

ابن سیرین رحمہ اللہ کا اثر: اگر کوئی شخص سیدھے راستے پر ہے تو ہو ضرور آثار پر ہوگا۔۔۔

باب کی شرح

اس باب کی سابقہ باب سے مناسبت کا بیان اور اس کے عنوان کی شرح

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک عقیدے پر تھے، انہوں نے اختلاف نہیں کیا مگر صرف اجتہادی مسائل میں جو ان کے بھائی چارے واخوت پر اثر انداز نہیں ہوا

ان تمام احادیث کا اس بات پر اتفاق کہ موسی و عیسی علیہما الصلاۃ والسلام کی امت میں تفرقہ ہونے کی خبردینا، اور ایسی بات کی خبر دینا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں نہیں تھی یعنی امت میں تفرقہ بازی اور اس کا بعد میں وقوع پذیر ہونا

دوسرے فرقوں سے ہٹ کر اہل حدیث کا الجماعۃ کے وصف اور جس چیز پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے اس کا حقدار ہونا

اشاعرہ کے وہ عقائد جن کی وجہ سے وہ اہل سنت والجماعت سے الگ ہیں

امت پر واجب ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم جس چیز پر تھے اسے اپنے منہج میں اپنائے کیونکہ بلاشبہ یہی راہِ نجات ہے

اہل سنت والجماعت کا اجمالی عقیدہ

Download MP3

باب4: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی امت کے بارے میں خوف، اور انہيں اپنے سے پہلے گزرے ہوؤں کے طریقوں پر چلنے سے ڈرانا

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت

عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کی روایت

شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کی روایت

حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت

مصنف کا یہ خبر دینا کہ اکثر لوگ اپنے امور میں اہل کتاب کی مشابہت اختیار کرنے میں واقع ہوئے

تعلیق: مصنف کے زمانے کے بعد تو آزمائشوں اور فتنوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور اللہ تعالی کے منہج حق سے دوری ہوئی ہے سوائے طائفۂ ناجیہ جس پر اللہ رحم فرمائے کے

باب 5: خوارج کی مذمت اور ان کے برے مذاہب، اور ان سے قتال کے مباح ہونے کا بیان، اور اس کے ثواب کا بیان جو انہیں قتل کرے یا ان کے ہاتھوں قتل ہو

مصنف کا اہل علم کا اس بارے میں اتفاق نقل کرنا کہ بلاشبہ خوارج ایک بری قوم ہيں جو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمان ہے، اگرچہ وہ نماز پڑھیں اور روزے رکھیں

مصنف کا خوارج کے معاملے کی ابتداء، ان کا پروان چڑھنا اور جو کچھ ان کے ساتھ امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں ہوا کا بیان

اس پر تعلیق

خوارج کے سینگ کے ظاہر ہونے سے لے کر آج تک ان کا مالی معاملات سے جڑے رہنا

Download Mp3

حکمرانوں پر صبر کرنا اگرچہ وہ ظلم و جور کریں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ہے، اور آپ کے بعد یہی منہج رہا ہے آئمہ سنت کا

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا امت کو حجاج و یزید کے ظلم و جور پر صبر کرنے کا حکم کرنا

ان قراء (علماء) کا نادم ہونا جو حجاج کے خلاف نکلے تھے

مسلمان حکمران کے خلاف خروج نہ کرنا ایجنٹ یا جسوس ہونا نہیں ہے

امام احمد رحمہ اللہ کا خلفاء پر خروج سے منع کرنا حالانکہ وہ کتنی بڑی بڑی باتوں میں مبتلا تھے اور ان کی طرف سے اہل سنت کو کیا کچھ نہیں سہنا پڑا تھا جیسے قتل، تعذیب و اہانت و تذلیل

حکمران پر خروج جائز نہيں اگرچہ اس سے کفربواح (کھلم کھلا کفر) ہی صادر کیوں نہ ہو اگر خروج کا فساد اس کے نتیجے میں ملنے والی مصلحت پر بڑا ہو

Download MP3

ہمارے زمانے کے خوارج کا حاکمیت کے تعلق سے غلو کرنا انہوں نے اپنے امام ذوالخویصرہ اور جو اس کے پشت (نسل) سے نکلے ان سے وراثت میں لیا ہے

موجودہ دور کے خوارج کا مزے و اطمینان سے یہود و نصاری کے پاس رہنا اور اس میں چھپا راز

موجودہ دور کے خوارج نے خروج اور غالی ارجاء کو جمع کردیا ہے

سلف کی بنیادی کتب کی جانب رجوع کرنے اور سید قطب و حسن البنا اور ان جیسوں کی کتب کو پھینک دینے کی نصیحت

یہ لوگ سب سے زیادہ اہل سنت سلفیوں کو تکلیف و اذیت دیتے ہیں پھر اپنے آپ کو سلفی کہلاتے ہیں!

غلو نے خوارج کو غرور اور خودپسندی میں مبتلا کیا پس وہ ہلاک ہوگئے

سید قطب اور اس کے پیروکار اولین خوارج کے وارثین ہيں

اہل سنت حکمرانوں وغیرہ کی غلطیوں سے بری ہوتے ہیں اور شریعت کی مخالفت کو ناپسند کرتے ہیں اور بقدر استطاعت اس کا رد بھی کرتےہیں، اور کبھی بھی نافرمانی و معصیت سے راضی نہیں ہوتے

مصنف کا خوارج کی عبادت میں محنت کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہنا کہ: یہ انہیں کوئی فائدہ نہيں پہنچائے گا۔۔۔ اس پر تعلیق

Download MP3

بڑی بڑی بدعات و عظیم منکرات جدید خوارج کے نزدیک حاکمیت کے آگے کوئی حیثیت نہيں رکھتیں

اگر ہم داعیان حاکمیت کی حمایت بھی کریں تو اس میں بھی توحید کا مسئلہ اولی ہے کہ اس سے ابتداء کی جائے

عقیدے کی اصلاح سے ہر چیز ٹھیک ہوجاتی ہے

حاکمیت کے داعیان پر رد کہ وہ معاشروں کی تکفیر کرتے ہيں

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے ولایت و عہدہ نہیں دیتے تھے جو اسے طلب کرتا تھا

داعیان حاکمیت کا کرسی پانے کی حرص کرنا اور اسلام کے نام پر مغربی نظاموں کو قابل قبول چیز بناکر پیش کرنا

اس مقولے کا رد کہ: اس کا عقیدہ سلفی ہے لیکن منہج اخوانی ہے!

قدیم اور جدید خوارج میں موازنہ

مصنف کے قول: اللہ تعالی نے بھی ہمیں ان سے خبردار فرمایا ہے۔۔۔ پر تعلیق

Download MP3

مصنف کے قول: اور ان سے ہمیں خلفائے راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی خبردار فرمایا ہے۔۔۔ پر تعلیق

خوارج کا تکفیری مذہب سید قطب کے تکفیری مذہب کے سامنے تو کچھ بھی نہيں (یعنی ان سے بھی گیا گزرا تکفیری منہج ہے)

قطبی (سید قطب کے پیروکار) لوگ سلفی منہج اور اس کے علماء کی صورت مسخ کرکے پیش کرتے ہيں جبکہ سید قطب کو ملمع سازی کرتے ہوئے خوبصورت بناکر اور اس کی گمراہیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پیش کرتے ہیں

مصنف کے اس قول: خوارج اور تاقیامت جو بھی ان کے طریقے پر چلتے رہیں گے وہ قدیم ہوں یا جدید اس منہج کو وراثت میں منتقل کرتے چلے آئے ہيں

انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کا طریقہ حکومت تک پہنچنے کا بھی آسان ترین طریقہ ہے

Download MP3

باب 6: جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس سے متعلق سنن و آثار

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی روایت

ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ کی روایت

انس و ابو سعید رضی اللہ عنہما کی روایت

ان پر تعلیق

خوارج سے متعلق احادیث حد تواتر کو  پہنچتی ہیں

احادیث میں وارد واقعے کی مفردات کی شرح

ان احادیث سے جن معانی کا استفادہ ہوتا ہے ان کا بیان

Download MP3

کعب احبار رحمہ اللہ کا اثر اس کے متعلق جسے خوارج قتل کردیں

عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ان لوگوں سے خبردار کرنے کے تعلق سے جو متشابہہ کی ٹوہ میں رہتے ہیں

اس پر تعلیق

سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا اثر جس میں خوارج کے شبہہ کو نقل کرتے ہیں

خوارج کی مذمت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اثر

اس پر تعلیق

Download MP3

خوارج کی مذمت میں الحسن البصری رحمہ اللہ کا اثر

مصنف کا خوارج سے دھوکہ نہ کھانے سے خبردار کرنا خواہ لوگ ان کی عبادات و محنت سے کتنے ہی متاثر کیوں نہ ہوں

اس پر تعلیق

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خوارج کے دین سے نکل جانے کے سبب  ان سے قتال کا حکم دینا، اس لیے نہيں کہ وہ محض باغی اور جنگجو ہیں

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکمرانوں کے ظلم و جور پر صبر کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ اہل بدعت کے قتال کا حکم دیا ہے

الحسن البصری رحمہ اللہ کے خوارج سے متعلق پہلے اثر پر تعلیق

خوارج کی تکفیر کے تعلق سے اختلاف

الحسن البصری رحمہ اللہ کے دوسرے اثر پر تعلیق

سلف کا اجماع اس پر قرار پایا ہے کہ حکمران پر خروج کو ترک کیا جائے جب تک وہ دائرہ اسلام میں ہے

اگر حکمران کافر بھی ہوجائے تو بھی اس پر خروج نہیں کیا جائے گا الا یہ کہ مسلمانوں کے پاس اس کے ازالے کی قدرت ہو اور اس کے باقی رہنے سے بڑھ کر فساد متوقع نہ ہو

وہ قراء (اہل علم) نادم ہوئے جنہوں نے حجاج بن یوسف پر خروج کیا تھا

خروج کے نتیجے میں تاریخ کی ابتداء سے لے کر آج تک کوئی مصلحت حاصل نہیں ہوئی

حکم بغیرما انزل اللہ کرنے والے حاکم کے مختلف احوال

Download MP3

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث اس عبادت گزار شخص کے بارے میں جسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قتل کا حکم دیا، لیکن وہ قتل نہ ہو پایا

اس پر تعلیق

نمازیوں کی حرمت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا نماز کی قدر و منزلت کی معرفت رکھنا برخلاف خوارج کے عمل کے (کہ وہ نماز اور نمازیوں کی حرمت پامال کرتے ہیں)

انس رضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث ایک اور طریق سے

اس پر تعلیق

مصنف کا اس حدیث کی روایت لانے سے مقصود اہل بدعت سے دھوکہ سے خبردار کرنا ہے اگرچہ وہ دین داری میں کتنی ہی مبالغہ آرائی کیوں نہ کرتے ہوں

تبلیغی جماعت سے خصوصی طور پر اور صوفیوں سے عام طور پر خبردار کرنا اگرچہ وہ عبادت گزاری و زہد (پرہیزگاری) ہی کیوں نہ دکھاتے ہوں

Download MP3

باب 7: علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا خوارج کے خلاف قتال کرنے کا ذکر کہ جن کے خلاف قتال کے ذریعے اللہ تعالی نے آپ کی عزت افزائی فرمائی

عبید اللہ بن ابی رافع مولی ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی علی رضی اللہ عنہ سے روایت

عبیدہ السلمانی کی علی رضی اللہ عنہ سے روایت

جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت

مسروق رحمہ اللہ کی روایت

اس پر تعلیق

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خوارج کے خلاف قتال میں کوئی اختلاف نہيں کیا جیسا کہ جمل و صفین کے بارے میں اختلاف کیا

Download MP3