امام کے ساتھ ملنے والی رکعتوں کو پہلی شمار کریں گے یا آخری؟ – مختلف علماء کرام

امام کے ساتھ ملنے والی رکعتوں کو پہلی شمار کریں گے یا آخری؟ – مختلف علماء کرام

How should we count the missed units of congregational prayer? – Various ‘Ulamaa

امام کے ساتھ ملنے والی رکعتوں کو پہلی شمار کریں گے یا آخری؟

مختلف علماء کرام

ترجمہ و ترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

فتویٰ رقم 2013 دوسرا سوال:

سوال: ایک شخص نے امام کے ساتھ چار رکعتوں والی نماز کی دو رکعتیں پائیں، چناچہ جب امام نے سلام پھیرا تو اس نے کھڑے ہوکر اپنی نماز مکمل کی، پس جو رکعتیں اس نے امام کے ساتھ پائيں وہ اس کی نماز کا پہلا حصہ شمار ہوگا یا بعد میں کھڑے ہوکر جو اس نے پوری کی وہ اس کا پہلا حصہ شمار ہوگا؟

جواب از فتویٰ کمیٹی، سعودی عرب:

علماء کرام کے دو اقوال میں سے صحیح تر قول یہی ہے کہ مقتدی امام کے ساتھ جو رکعتیں پاتا ہے وہ اس کی نماز کا پہلا حصہ ہوتا ہے کیونکہ اس بارے میں وارد احادیث کی اکثر روایات لفظ  ”فَأَتِمُّوا“  (پور ی کرو ) کے ساتھ آئی ہيں، اور جو ”فَاقْضُوا “ (قضاء کرو) کے ساتھ روایات آئی ہيں تو وہ بھی بمعنی    ”أَتِمُّوا“  کے ہیں، کیونکہ روایات ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں۔ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ﴾ (البقرۃ: 200)

(پھر جب تم اپنے مناسک حج پورے کرلو)

قَضَيْتُمْ یعنی  اتمام کرلو (پورے کرلو)۔

اور اس لیے کہ بلاشبہ یہی شرعی قواعد کا تقاضہ ہے کیونکہ امام کے ساتھ پالینے والی رکعتوں کو اگرآپ  مقتدی کی نماز کا آخری حصہ بنائيں گے تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ نماز کے آخری حصہ کو اس کے پہلے حصے پر مقدم کیا گیا ہے۔

وبالله التوفيق وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء

رکن                              نائب صدر                                   صدر

عبداللہ بن قعود                  عبدالرزاق عفیفی                عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز([1])

سوال: میں امام کے ساتھ عشاء کے نماز میں اس وقت داخل ہوا  جب وہ آخری کی دو رکعتیں  پڑھ رہا تھا، چناچہ میری جو دو رکعتیں فوت ہوئی ہيں انہیں میں کس طرح ادا کروں، کیا میں ان میں سری طور پر قرأت کروں یا جہری طور پر؟

جواب از شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ :

صواب بات یہی ہے کہ مقتدی جو رکعتیں امام کے ساتھ پاتا ہے وہ اس مقتدی کی نماز کا پہلا حصہ ہوتا ہے اور جو وہ بعد میں قضاء کرتا ہے(فوت شدہ رکعتیں اٹھ کر پڑھتا ہے) وہ اس کا آخری حصہ ہوتا ہے۔ یہی صواب ہے اور علماء کرام کے دو اقوال میں سے صحیح تر قول بھی یہی ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا:

”إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا“([2])

(جب نماز قائم ہو جائے تو دوڑتے ہوئے مت آؤ بلکہ چلتے ہوئے  آؤ اور سکینت کو اپناؤ، اور جو (امام کے ساتھ ) پالو اسے پڑھ لو اور جو نہ ملے اس کو پورا کر لو)۔

یہ روایت دوسرے الفاظ کے ساتھ  بھی ہے کہ فرمایا:

”فَاقْضُوا “([3])

مطلب ہے کہ اسے تمام کرو کیونکہ دونوں روایتوں میں جمع کرنے کے سبب قضاء یہاں پر بمعنی اتمام کرنے کے آیا ہے ۔ اور یہی اللہ تعالی کے اس فرمان کا بھی معنی ہے:

﴿فَاِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ﴾ (النساء: 103)

(پھر جب تم نماز پوری کرلو تو اللہ  تعالی کا ذکر کرو)

اور یہ فرمان:

﴿فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ﴾  (البقرۃ: 200)

(پھر جب تم اپنے مناسکِ حج پورے کرلو تو اللہ کا ذکر کرو)

اور ان دو آیات میں اس کا معنی ہے جب تم اتمام کرو (پورا کرلو)۔

پس اگر مثال کے طور پر عشاء کی دو رکعتیں پالیں یا مغرب کی تو پھر وہ حسب حال باقی کو پورا کرے گا۔ لہذا اگر مغرب کی نماز تھی تو وہ اس کی دوسری کو جہری پڑھے کا اور تیسری کو بغیر جہر کے۔ اسی طرح اگر عشاء تھی تو وہ  دونوں رکعتوں کو بغیر جہر کے پڑھے گا، اور  صرف سورۂ فاتحہ پر اکتفاء کرے گا، کیونکہ وہ اس کی نماز کا آخری حصہ ہے([4])۔

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب   رحمہ اللہ   آداب المشي إلى الصلاة میں فرماتے ہیں:

اسے  چاہیے کہ اس (نماز)  کی طرف  سکینت و وقار کے ساتھ چلتا جائے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا:

”إِذَا سَمِعْتُمْ الْإِقَامَةَ فَامْشُوا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا “

 (جب تم اقامت سنو  تو چلتے ہوئے آؤ اور سکینت کو برقرار رکھو، پس جتنی نماز تم پالو اسے پڑھ لو اور جو تم سے رہ گئی ہو اس کی قضاء کرو(جو ذمے  ہوں انہیں چکاؤ))۔

شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ  اس کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

نماز کی طرف چل کرجانے کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اپنی چال میں سکینت و وقار رکھے۔ سکینت کا معنی ہے کہ اس کی حرکات میں سکون ہو اور فضول کاموں سے اجتناب ہو، جبکہ وقارکا تعلق ہیئت سے ہوتا ہے جیسے نظریں جھکانا، آواز کو نیچا رکھنا اور یہاں وہاں تانک جھانک نہ کرنا۔

اس حدیث کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  سے البخاری 636، مسلم 1359 نے روایت کیا ہے، اور یہ حدیث ان دونوں کے یہاں ” فَأَتِمُّوا“ کے لفظ کے ساتھ ہے، اور مسلم 1362 کے الفاظ ہیں:

”صَلِّ مَا أَدْرَكْتَ، وَاقْضِ مَا سَبَقَكَ “

(جو نماز (کی رکعت) پالو  اسے پڑھ لو، جو پہلے گزر چکی ہو اس کی قضاء کرو)۔

اور یہ مسند الامام احمد 10893 میں ”فَاقْضُوا “ کے لفظ کے ساتھ ہے۔

اس بنیاد پر ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جو کہتے ہیں کہ مسبوق (یعنی جس مقتدی کی امام کے پیچھے کچھ رکعات رہ گئی ہوتی ہیں)   جو چھوٹی ہوئی رکعتیں  بعد میں  پڑھتا ہے وہ اس کی نماز کا پہلا حصہ ہوتا ہے (جیسے تیسری چوتھی رکعات امام کے ساتھ پڑھنے کے بعد اٹھ کر پھر پہلی اور دوسری پڑھتا ہے)۔ جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ جو مسبوق  بعد میں پڑھتا ہے وہ  اس کی نماز کا آخری حصہ ہوتا ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا جیسا کہ صحیحین وغیرہ میں الفاظ ہیں:

” فَأَتِمُّوا“

(اس کا اتمام کرو)۔

کیونکہ جو کچھ نمازی نے پہلے ادا کیا ہوتا ہے وہ اس کی نماز کا پہلا ہی حصہ ہوتا ہے، اور جو بعد میں وہ ادا کرتا ہے وہ آخری حصہ ہی ہوتا ہے۔ او رچونکہ تکبیر تحریمہ  بھی پہلی رکعت کے شروع میں ہوتی ہے۔ ساتھ ہی  ”فَاقْضُوا “ والی روایت کو ”فَأَتِمُّوا“  والی روایت کی طرف لوٹانا بھی ممکن ہے  کیونکہ  قضاء جس طرح کسی فوت شدہ (چھوٹی ہوئی ) چیز کے تدارک کے لیے ہوتی ہے اسی طرح  کسی چیز کے اتمام او راس سے فراغت کے لیے بھی ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿فَقَضٰهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِيْ يَوْمَيْنِ﴾  (فصلت:  12)

(تو اس نے انہیں پورابنادیا سات آسمان دو دنوں میں)

یعنی ان کی تخلیق کو پورا کردیا۔

اور فرمایا:

﴿فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ﴾ (الجمعۃ: 10)

(پھر جب نماز سے فارغ ہوجاؤ تو زمین میں پھیل جاؤ)

یعنی اس سے فارغ ہوجاؤ([5])۔


[1] فتاویٰ  لجنۃ دائمہ ج 2 ص 322۔

[2] رواه الإمام أحمد في (باقي مسند المكثرين من الصحابة) برقم (9525)، والبخاري في كتاب (الجمعة) برقم (908) ومسلم في (المساجد ومواضع الصلاة) برقم (602).

[3] رواه الإمام أحمد في (باقي مسن المكثرين من الصحابة) برقم (7309).

[4] من برنامج نور على الدرب، الشريط رقم (11). (مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز 11/118).

[5] كتب ورسائل عبد المحسن بن حمد العباد البدر – ج 5: الفقه، شرح آداب المشي إلى الصلاة ص 120۔

imam_milnay_rakat_pehli_ya_akhiri

2019-02-09T18:07:19+00:00

Articles

Scholars