نماز میں پہنے جانے والے بعض ممنوعہ لباس کی صورتیں

نماز میں پہنے جانے والے بعض ممنوعہ لباس کی صورتیں

Few prohibited clothing in prayer

نماز میں پہنے جانے والے بعض ممنوعہ لباس کی صورتیں

جمع و ترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: احادیث مبارکہ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

عام طور پر موسم سرما میں نماز ی کو مندرجہ ذیل  لباس استعمال کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، لہذا ان کے بعض احکام و آداب کو جاننا ضروری ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ  فرمایا:

’’ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  نَهَى عَنْ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ، وَأَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ ‘‘ ([1])

(بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے نماز میں سدل  سے منع فرمایا ہے، اور اس سے بھی کہ کوئی شخص منہ ڈھانپ کر نماز پڑھے)۔

سدل کا معنی ہے جیسے لوگ رومال یا چادر  پہنتے ہيں تو اس کے کنارے آگے کی جانب کاندھوں سے لٹکے ہوئے ہوں جس سے نمازی انہی کو سنبھالنے میں مشغول ہوجاتا ہے۔

ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ:

’’نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ‘‘ ([2])

(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے اشتمال الصماء سے منع فرمایا ہے، اور اس سے بھی کہ کوئی شخص ایک ہی کپڑے میں یوں احتباء کرے کہ اس کی شرمگاہ پر اس میں سے کچھ نہ ہو)۔

اشتمال الصماء کا معنی ہے چادر سے جسم کو یوں بند کرکے لپیٹنا کہ  انسان ہاتھوں کو حرکت ہی نہ دے سکے۔

احتباء کا مطلب ہے گھٹنے کھڑے کرکے اس طرح بیٹھنا کہ ایک کپڑے کے ساتھ کمر اور گھٹنوں کو باندھ دیا جائے([3])۔

البتہ اگر ایسی کیفیت نہ ہو تو چادر اوپر پہنی جاسکتی ہے۔

وائل بن حجر رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو دیکھا:

’’رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ،ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ، ثُمَّ رَفَعَهُمَا، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ‘‘ ([4])

(آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے جب نماز میں داخل ہوئے اور تکبیر کہی، پھر اپنے کپڑے میں لپیٹ لیے، اور پھر اپنے داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا، پھر جب رکوع کا ارادہ فرمایا تو اپنے ہاتھوں کو کپڑے سے نکالا، پھر انہیں اٹھایا، پھر تکبیر کہی پھر رکوع فرمایا)۔

دوسری روایت میں فرمایا کہ میں شدید ٹھنڈ کے موسم میں دوبارہ آیا تو دیکھا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز میں چادریں اوڑھے ہوئے تھے اور اس کے اندر ہی اندر ان کے ہاتھ حرکت کررہے تھے([5])۔


[1] اسے امام ابو داود نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے اور شیخ البانی نے صحیح ابی داود 634 میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

[2] صحیح بخاری 367۔

[3] فتح الباری وغیرہ۔

[4] صحیح مسلم 403۔

[5]  اسے امام ابو داود نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے اور شیخ البانی نے صحیح ابی داود 727 میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

namaz_mamnoa_libaas

2019-02-04T08:25:30+00:00

Articles

Scholars