Fundamentals of Sunnah of Imaam Abu Bakr Abdullaah bin AzZubair Al-Humaidee

اصول السنۃ للحمیدی

امام ابو بکر عبداللہ بن الزبیر الحمیدی رحمہ اللہ المتوفی 219ھ

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الدليل الرشيد ألي متون العقيدة والتوحيد۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ہمیں بشر بن موسیٰ نے بتایا، ہمیں الحمیدی([1]) نے بتایا کہ فرماتے ہیں:

1- ہمارے نزدیک سنت  یہ ہے کہ ایک شخص ایمان رکھے تقدیر پر اچھی ہو یا بری، میٹھی ہو یا کڑوی، اور یہ جان لے کہ جوکچھ  اسے پہنچا ہوہی نہیں سکتا تھا کہ وہ اس سے چونک جاتا، اور جو اسے نہ ملا ہو ہی نہیں سکتا تھا وہ اسے لے پاتا، اور یہ سب کا سب اللہ تعالی کی طرف سے فیصل شدہ مقدر تھا۔

2- اور بے شک ایمان قول و عمل کا نام ہے جو بڑھتا ہے اور گھٹتا ہے، قول فائدہ نہیں دے سکتا مگر عمل کے ساتھ، اور عمل فائدہ نہيں دے سکتا مگر نیت کے ساتھ، اور قول و عمل و نیت فائدہ نہیں دے سکتے مگر سنت (کی پیروی) کے ساتھ۔

3- تمام اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر ترحم کرنا (سب کے لیے رحمت کی دعاء کرتے رہنا)، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿وَالَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ﴾ (الحشر:10)

(اور جو ان کے بعد آئے وہ یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کوجو  ہم سے پہلے ایمان لائے)

ہمیں اس کے سوا اور کوئی حکم ہی نہيں دیا گیا کہ ہم ان کے لیے بخشش طلب کرتے رہیں۔ پس جو کوئی انہیں یا ان میں سے کسی کو سب و شتم  کرتا یا ان کی شان میں تنقیص و توہین کرتا ہے تو وہ سنت پر نہیں(اہل سنت نہیں)، اور نہ ہی اس کا مال فئ میں کوئی حق ہے۔

یہ بات ہمیں ایک سے زیادہ لوگوں نے مالک بن انس رضی اللہ عنہ  کے حوالے سے بتائی ہے کہ آپ نے فرمایا:

اللہ تعالی نے مال فئ کی تقسیم فرماتے ہوئے ذکر کیا ہے کہ:

﴿لِلْفُقَرَاۗءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَاَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا وَّيَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ، اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ﴾ (الحشر:8)

((مال فئی) ان فقراء اور مہاجرین  کے لیے ہے جنہیں نکال دیا گیا ان کے گھروں سے اوران کے مالوں سے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرتے ہیں وہ اور اس کی رضا مندی چاہتے ہیں ،اور اللہ اور اس کے رسول کی نصرت کرتے ہیں ، یہی لوگ سچے ہیں)

پھر اس کے بعد (سورۃ الحشر آیات 8 تا 10 میں) فرمایا کہ:

﴿وَالَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ﴾ (الحشر:10)

(اور جو ان کے بعد آئے وہ یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کوجو  ہم سے پہلے ایمان لائے)

4- اور قرآن اللہ کا کلام ہے۔ میں نے سفیان کو کہتے ہوئے سنا کہ:

اور قرآن اللہ کا کلام ہے، اور جس کسی نے کہا کہ: مخلوق ہے، تو وہ بدعتی ہے، ہم نے (اہل سنت میں سے) کسی کو ایسا کہتے ہوئے نہیں سنا۔

اور میں نےسنا کہ سفیان فرمارہے تھے:

ایمان قول و عمل کا نام ہے جو بڑھتا بھی ہے اور گھٹتا بھی ہے۔ تو ان سے ان کے بھائی ابراہیم بن عیینہ نے کہا: اے ابو محمد! یہ نہ کہو:  (ایمان) کم بھی ہوتا ہے۔ اس پر انہیں (سفیان کو) غصہ آگیا اور کہا: خاموش رہو بچے، بلکہ (اتنا کم ہوتا رہتا ہے کہ) اس میں سے کچھ باقی نہيں رہتا۔

5- اور موت کے بعد (مومنین کے لیے) روئیت باری تعالی (اللہ تعالی کے دیدار) کا اقرار کرنا۔

6- اور جو چیزیں قرآن و حدیث بیان کرتے ہيں جیسے:

﴿وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ يَدُاللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ  ۭغُلَّتْ اَيْدِيْهِمْ﴾  (المائدۃ: 64)

(اور یہود نے کہا کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے ،ان کے ہاتھ باندھے گئے)

یا جیسے:

﴿وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ﴾  (الزمر: 67)

(اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے)

اور جو اس جیسے قرآن و حدیث میں (نصوص) آئے ہيں ان میں نہ زیادتی کی جائے، نہ (بے علم) تفسیر (اور باطل تاویل) کی جائے، وہاں رک جائیں جہاں قرآن وسنت رک گئے ہيں، اور ہم کہتے ہیں کہ:

﴿اَلرَّحْمَنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى﴾  (طہ: 5)

(وہ رحمٰن ہےجو عرش پر مستوی (بلند) ہوگیا)

جو کوئی اس کے  سوا کوئی اور زعم رکھتا ہے تو وہ (اللہ تعالی کو صفات کمال سے عاری قرار دینے والا) معطل جہمی ہے۔

7- اسی طرح ہم اس بات کے قائل نہيں جس کے خوارج قائل ہیں کہ جو کوئی کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا تو وہ کافر ہوگیا۔

ہم گناہ میں سے کسی بھی چیز کی وجہ سے تکفیر نہیں کرتے۔ بلکہ کفر تو صرف ان پانچ (ارکان اسلام) کو ترک کرنے سے ہوتا ہے کہ جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا:

’’بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ، شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ، وَحَجِّ البَيتِ ‘‘([2])

(اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر ہے۔ 1-شہادتین کا اقرار، 2- نماز قائم کرنا، 3- زکوٰة  ادا کرنا، 4- رمضان کے روزےاور 5- بیت اللہ کا حج)۔

البتہ ان میں سے جو تین (ارکان) ہیں ان کے تارک (چھوڑنے والے) کے بارے میں کوئی مناظرہ نہ ہوگا (کیونکہ ان کی فرضیت تو سب پر عیاں ہیں) :  (یعنی) جو نہ شہادتین کا اقرار کرے، نہ نماز پڑھے اور نہ روزے رکھے۔ کیونکہ ان میں سے کسی چیز کو اس کے وقت سے مؤخر نہيں کیا جاسکتا اور جو کوئی جان بوجھ کر ان کو وقت  پر ادا کرنے میں کوتاہی کرے  تو اس کے بعد ان کی قضاء کافی نہیں ہوگی۔ لیکن جو زکوٰۃ ہے اسے جب بھی ادا کردے گا تو وہ اس کی طرف سے کفایت کرے گی، اگرچہ وہ اسے روکے رکھنے کی وجہ سے گنہگار ہوگا۔

اور جہاں تک حج کی بات ہے  تو جس پر یہ واجب ہوگیا ہو اور وہ راستے کا مقدور رکھتا ہو تو اس پر واجب ہے، البتہ اس پر اسی سال واجب نہیں ہے یہاں تک کہ اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہو، لہذا وہ جب اسے ادا کردے گا وہ اس کی طرف سے ادا ہوجائے گا۔اور اس کی ادائیگی کی تاخیر کرنے کی وجہ سے وہ گنہگار نہ ہوگا جیسا کہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے وہ گنہگار ہوگا۔ کیونکہ بلاشبہ زکوٰۃ مسکین مسلمانوں کا حق ہے  جسے اس نے ان پر سے روک رکھا تھا، تو وہ گنہگار رہے گا جب تک وہ انہیں پہنچ نہيں جاتا۔

جبکہ جو حج ہے تو وہ اس کے اور اس کے رب کے مابین ہے، اگر وہ اسے ادا کردیتا ہے تو وہ ادا ہوجائے گا۔اور اگر وہ اسی حال میں مر جاتا ہے کہ وہ اس کے اسباب و استطاعت رکھتا تھا مگر حج نہ کیا، تو وہ (حسرت و ندامت میں) کہے گا کہ مجھے دنیا میں لوٹایا جائے تاکہ حج کرلوں۔بہرحال اس کے اہل (ورثاء)  پر واجب ہے کہ وہ اس کی طرف سےحج کریں، اور ہم امید کرتے ہيں کہ وہ اس کی طرف سے ادا ہوجائے گا، جیسا کہ اگر اس پر قرض ہوتا  تو وہ اس کی موت کے بعد اس کی طرف سے ادا کیا جاتا۔

کتاب تمام ہوئی۔ اور تمام تعریفیں اکیلے اللہ تعالی کے لیے ہے، اور باکثرت درود وسلام ہو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اور آپ کی تمام آل و اصحاب و ازواج واولاد پر۔


[1] فتح ذي الجلال والملة في شرح أصول السنة از شیخ عبید الجابری حفظہ اللہ عنقریب شائع ہوگی، ان شاء اللہ۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[2] أخرجه البخاري 8، ومسلم 16.

usool_us_sunnah_humaidee