Honoring the Hadeeth of the messenger صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

حدیث ِرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم 

مختلف علماء کرام

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ علی الحدادی حفظہ اللہ نے جب حدیث کی کتاب الأربعين في مذهب السلف پر شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ سے مقدمہ  لکھنے کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا:

” میں حدیث ِرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےمقدم نہيں ہوسکتا، جس کے پاس حدیث ہی شرفِ قبولیت نہ رکھے تو اسے کوئی چیز بھی فائدہ نہيں دے سکتی، ایسے شخص کے تو دل میں ہی مرض ہے “۔

شیخ علی الحدادی حفظہ اللہ  فرماتے ہیں:

آپ کا یہ فرمان سنت نبویہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و توقیر کے تعلق سے ایک عظیم درس ہے۔

شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ امام احمد بن حنبل : کے رسالے اصول السنۃ میں آپ کے اس فرمان: ”اس (سنت) کے لیے مثالیں بیان نہیں کی جاتیں‘‘ کے تحت فرماتے ہیں:

 یعنی اگر نص آ جائے تو اس کے آگے سر تسلیم خم کر دیں:

﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا﴾ (النساء:65)

(نہیں ہرگز نہیں آپ کے ربّ کی قسم یہ لوگ ایمان والے نہیں ہو سکتے  جب تک آپ کو حاکم (فیصلہ کرنے والا  ) ہر اس چیز میں نہ بنا دیں جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں ، پھر جو کچھ فیصلہ آپ کر لیں اس سے اپنے دل میں کوئی تنگی بھی نہ پائیں، بلکہ مکمل طریقے سے سر تسلیم خم کر دیں)

اگر کوئی انسان آپ کے سامنے صحیح ثابت شدہ حدیث بیان کرتا ہے  یا حسن درجے کی تو یہ نہیں کہ واللہ !واللہ ! یعنی  (اس سے ٹکراؤ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے)مختلف مثالیں بیان نہ کرو۔ یہ وہی بات ہے جوابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی فرمائی جیسا کہ سنن ابن ماجہ کے مقدمے ([1])میں  آپ دیکھ سکتے ہیں۔

یعنی جب آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ :

’’عَلَى مَنْ أَكَلَ مَا مَسَّتْهُ النَّارُ الْوُضُوءَ‘‘

( ہر وہ چیز جو آگ پر پکی ہو یا آگ اس کو چھوئی ہو اسے کھانے والے پر وضو ہے) ۔

اس حدیث  کو اس مسئلے کے تحت ذکر فرمایا کہ جس نے کوئی ایسی چیز کھائی ہو  جو آگ پر پکی ہو تواسے وضوء کا حکم ہے([2])، تو صحابہ رضی اللہ عنہم  میں سے کسی ایک نے یہ کہا: پھر خود ’’حمیم‘‘ یعنی گرم پانی  کا کیا حکم ہے، کیا ہم اس سے وضوء کریں؟  تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا بَلَغَكَ حَدِیْثَ رَسُولِ اَللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  فَلَا تَضْرِبْ لَهُ الْأَمْثَالَ ‘‘

(اے بھتیجے ،  جب تمہارے پاس کوئی حدیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ جایا کرے تو اس طرح سے مثال بیان نہ کرو)۔

یعنی بس تسلیم کرو یہ قاعدہ ہے ، بارک اللہ فیکم۔

[1] رواه ابن ماجه فى المقدمة، باب تعظيم رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والتغليظ على من عارضه، حديث رقم (22)، مختضراً كتاب الطهارة وسننها، باب الوضوء مما غيرت النار، حديث رقم (485). والترمذي: كتاب الطهارة، باب ماجاء فى الوضوء مما غيرت النار، حديث رقم (79)۔

[2] البتہ یہ حکم دیگر احادیث کی روشنی میں منسوخ ہے تفصیل کے لیے دیکھیں سنن أبي داود،كتاب الطهارة،باب في ترك الوضوء مما مست الناراور دیگر شروحات کتب احادیث۔

hadees_rasool_ki_tazeem