Ruling regarding making Du’a against an oppressor? – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah bin Baaz

ظالم کے خلاف بددعاء کرنے کا حکم 

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ المتوفی سن 1420ھ

(سابق مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: نور على الدرب – حكم الدعاء على الظالم۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سائلہ کہتی ہے کہ مجھ پر کچھ لوگوں نے ظلم کیا ہے، جب میری دلی تکلیف حد سے بڑھ جاتی ہے تو میں ان کے خلاف بددعاء کرنی لگتی ہوں، پھر جب تھوڑا پرسکون ہوتی ہوں تو اللہ تعالی سے استغفار کرتی ہوں اور کوشش کرتی ہوں ان لوگوں سے درگزر کرنے کی۔ لیکن پھر بعد میں دوبارہ سے وہی حالت ہوجاتی ہے اور ان پر پھر سے بددعائيں کرنے لگتی ہوں جب کبھی یاد کرتی ہوں کہ ان کی وجہ سے مجھے کس قدر تکالیف کا سامنا کرنا پڑا، سماحۃ الشیخ کیا آپ اس بارے میں کچھ رہنمائی فرمائيں گے؟

جواب: ظالم کے خلاف اس کے کیے گئے ظلم کے بقدر بددعاء کرنے میں کوئی حرج نہيں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الْجَــهْرَ بِالسُّوْۗءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ﴾ (النسا: 148)

(اللہ تعالی اعلانیہ بدزبانی کو پسند نہیں فرماتا، الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو)

جو کوئی ظلم کرتا ہے تو خود اس بات کا مستحق بن جاتا ہے کہ اس کے خلاف بددعاء ہو۔ البتہ اگر آپ معاف کردیں اور درگزر سے کام لیں تو آپ کے لیے اجر عظیم ہوگا۔ اور اگر بہرحال آپ اس پر جس نے آپ پر ظلم کیا اس کے ظلم کے بقدر بددعاء کر ہی لیں تو بے شک اللہ تعالی اسے اس کے ظلم کا بدلہ جس کا وہ مستحق بنتا ہو ضرور دے گا، لہذا اس میں کوئی حرج نہيں۔ اور اگرآپ چھوڑ دیں اور درگزر کریں تو آپ کے لیے بڑا اجر ہوگا۔ پس آپ کے لیے اجر عظیم ہوگا اگر آپ درگزر سے کام لیں اور صبر کریں۔

میزبان: احسن اللہ الیکم۔

 

Read/Download PDF