کتاب التوحید میں ضعیف احادیث کی حیثیت – شیخ محمد امان الجامی

کتاب التوحید میں ضعیف احادیث کی حیثیت – شیخ محمد امان الجامی

The status of weak narrations in Kitaab-ut-Tawheed – Shaykh Muhammad Amaan Al-Jamee

کتاب التوحید میں  ضعیف احادیث کی حیثیت   

شیخ محمد امان الجامی رحمہ اللہ المتوفی سن 1416ھ

(سابق رئیس شعبۂ عقیدہ، دراسات عالیہ، جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: شرح كتاب التوحيد ش23۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

جب شیخ محمد امان الجامی  رحمہ اللہ سے کتاب التوحید، (اس کی شرح) فتح المجید اور تیسیر العزیز الحمید میں پائی جانے والی ضعیف احادیث  کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:

دراصل استدلال دو اقسام کا ہوتا ہے:

ایک استدلال بطور تاسیس (اصل بنیاد) کے ہوتا ہے  اور ایک استدلال بطور تائید کے لیے ہوتا (یعنی جو چیز اصلاً ثابت ہے اس کی اضافی تائید کے لیے)۔

لہذا اس کتاب میں جتنی بھی ضعیف احادیث ہيں وہ تائیدی طور پر ہیں ناکہ اساسی طور پر۔

جس کی دلیل یہ ہے کہ مؤلف نے ہر ترجمے (باب کے عنوان)  کو  کسی آیت سے شروع کیا ہے  یا صحیح احادیث سے، پھر اس کے بعد کبھی کبھار  کوئی ضعیف حدیث یا اثر لے آتے ہيں۔ تو جاننا چاہیے کہ شیخ وہ پہلے شخص نہيں کہ جنہوں نے ایسا کیا ہو بلکہ علماء اہل سنت اس قسم کے معاملے میں تساہل کرلیتے ہيں یعنی تائید کے بارے میں۔ جو تائیدی دلائل ہوتے ہيں اس میں صحت کی شرط نہيں لگاتے۔ کیونکہ اس کامعنی تو صحیح ہوتا ہے  ان دلائل کی بنیاد پر جو اس سے پہلے تاسیسی طور پر کتاب وسنت سے بیان ہوچکے ہوتے ہيں۔

پس جب تک آپ کے پاس باب کی حدیث  یا باب میں جو آیت یا صحیح حدیث موجود ہے جسے ہم حدیث الباب کہتے ہيں وہ صحیح ہے، تو پھر اس کے بعد  کسی ضعیف حدیث یا ضعیف اثر کا آجانا  کہ جو اس سے پہلے ذکر کردہ  آیات و صحیح احادیث کی تائید کرتے ہوں  ، اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

او رایسا تو اہل سنت والجماعت کی تالیفات میں بہت زیادہ عام و منتشر ہے۔

جو بات جائز نہيں ہے وہ یہ ہے کہ  کسی عقیدے یا حکم کو  ثابت کرنے کے لیے ضعیف حدیث پر اعتماد کیا جائے۔ یہ جائز نہیں ہے۔ تو ہمیں چاہیے اس بات کو (اور اس فرق کو) اچھی طرح سے ذہن نشین کرلیں۔

 

2018-10-05T23:12:17+00:001. توحید, مقالات|