تمام جماعتیں اہل سنت، اہل حدیث و سلفی ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں – شیخ محمد بن صالح العثیمین

تمام جماعتیں اہل سنت، اہل حدیث و سلفی ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں – شیخ محمد بن صالح العثیمین

Every Jama'at claims to be AhlusSunnah, AhlulHadeeth and Salafee – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

تمام جماعتیں اہل سنت، اہل حدیث و سلفی ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین  رحمہ اللہ  المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال:فضیلۃ الشیخ آج جب ہم عالم اسلامی پرنظر دوڑاتے ہیں تو بہت سے جماعتوں کو پاتے ہیں کہ جو اسلام کی طرف دعوت دے رہی ہیں، اور سب یہی کہتی ہیں کہ میں منہج سلف پر ہوں اور میرے پاس کتاب و سنت ہے، چناچہ ہمارا ان جماعتوں کے تعلق سے کیا مؤقف ہونا چاہیے، اور ان جماعتوں کے امیروں میں سے کسی امیر کی بیعت کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: ان جماعتوں کا حکم کہ جن میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ہم ہی حق پر ہیں، بہت آسان ہے، اس طرح کہ ہم ضرور ان سے  پوچھیں گے کہ آخر حق ہے کیا؟ حق وہی ہے جس پر کتاب و سنت دلالت کرتے ہيں، اورواقعی کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنا تنازع و جھگڑے کو ختم کردیتا ہے (لیکن) اس کے لیے جو واقعی مومن ہو،  البتہ جو اپنی ہوائے نفس کی پیروی کرتا ہوں تو اسے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا﴾ (النساء: 59)

(پھر اگر تم کسی چیز پر اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ  تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ  تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان ہے، یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے)

پس ہم ان جماعتوں سے کہتے ہيں سب مجتمع ہوجاؤ تاکہ ہم میں سے ہر ایک  اپنے دل میں چھپی ہوائے نفس کو مارے اور ایک اچھی نیت کرے، وہ یہ کہ  یقیناً وہ فوراً اس چیز کو تسلیم کرے گا  جس پر  قرآن وسنت دلالت کرتے ہيں، اس بنیاد پر کہ خود کو ہوائے نفس کی پیروی سے پاک کرتا ہوا ایسا کرے ناکہ تقلید و تعصب کے پیش نظر ایسا کرے۔ کیونکہ انسان  کا قرآن وسنت کا فہم  ا س کے پہلے سے بنائے ہوئے عقیدے کے مطابق ہو توپھر اس کا کوئی فائدہ نہيں، کیونکہ  عنقریب یہ اس کے عقیدے کو مزید بگاڑ دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ علماء کرام بڑی پیاری بات فرماتے ہیں کہ:

انسان پر واجب ہے کہ وہ پہلے دلیل دیکھے پھر اس کے مطابق (اپنے عقیدے کی) بنیاد رکھے، نایہ کہ پہلے سے (کسی عقیدے کی ) بنیاد رکھ لے پھر اس کے لیے دلیل تلاش کرتا پھرے۔

کیونکہ بلاشبہ جو اصل ہے وہ دلیل ہے، اور جو کسی چیز کا حکم ہے وہ اس کی فرع ہے۔لہذا ممکن نہيں کہ ہم  اس ترتیب کو ہی بدل لیں ، اس طرح کہ حکم جو کہ فرع ہے اسے اصل بنالیں اور اصل جو کہ دلیل ہے اسے فرع بنالیں۔

پھر یہ بات بھی ہے کہ اگر کوئی انسان  دلیل سے پہلے ہی کوئی عقیدہ بنا لیتا ہے تو پھر اس کی نیت اچھی نہيں رہتی، پھر وہ کتاب  وسنت کے نصوص کو زبردستی توڑ مروڑ کر  اپنے  عقیدے کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے، جس کی وجہ سے  وہ اپنی ہوائے نفس کی پیروی پر ہی جما رہتا ہے اور ہدایت کی پیروی نہیں کرتا۔

ہم ان جماعتوں سے کہیں گے کہ جن میں سے ہر ایک حق پر ہونے کا دعویٰ کرتی ہے  کہ تم نے غلط کیا، جو مطلوب تھا وہ یہ کہ اپنی نیت کو اچھا رکھتے یعنی ہوائے نفس اور تعصب سے پاک رکھتے،  پھر دیکھو یہ کتاب اللہ ہے اور یہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ اگر ان دونوں میں اس جھگڑے و تنازع  کا حل نہ ہوتا تو کبھی بھی اللہ تعالی ان کی طرف رہنمائی نہ فرماتا۔ کیونکہ بے شک اللہ تعالی جس بھی چیز کی طرف رہنمائی فرماتا ہے ضرور اس میں مصلحت ہوتی ہے: ﴿فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ﴾   (تو اسے لوٹاؤ اللہ  تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف)۔ لیکن  وہ بلاء و آزمائش جو کتاب وسنت کی طرف جاکر بھی اتفاق نہ ہونے  کی صورت میں ہوتی ہے  وہ دراصل اس شرط کا مفقود ہونا ہے جو اس آیت میں ذکر ہوئی: ﴿اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ﴾  (اگر تمہیں اللہ  تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان ہے) کیونکہ بعض لوگ ہوسکتا ہے کتاب و سنت کی طرف رجوع بھی کرتے ہوں لیکن ایمان کے ساتھ نہیں بلکہ اپنی ہوائے نفس اور تعصب کے ساتھ جس سے وہ ٹس سے مس نہيں ہوتے۔ تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

بہرحال جو ان میں سے کتاب وسنت پر ہوگا  تو اسے چاہیے کہ وہ ان جماعتوں کے حال کے بارے میں اللہ تعالی سے مدد طلب کرے  تو عنقریب حق باطل سے نکھر کر اس کے سامنے واضح ہوجائے  گا۔ اس لیے اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ﴾  (الانبیاء: 18)

(بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں تو وہ اس کا دماغ کچل دیتا ہے، پس اسی وقت وہ مٹ کر نابود ہوجاتا ہے)

جہاں تک سوال ہے کسی شخص (جماعت کے امیر وغیرہ) کی بیعت کرنا تو یہ جائز نہيں ہے۔ کیونکہ بے شک بیعت تو ملک کے حکمران کی ہوتی ہے۔ اگر ہم چاہیں اور یہ کہنا شروع کردیں کہ ہر انسان  کی بیعت ہوتی ہے تو پھر امت تفرقے کا شکار ہوجائے گی۔ اور ایک ہی ملک میں جہاں سینکڑوں بستیاں ہوں تو پھر کتنے امام ہوجائيں گے؟ سو امام، سو ریاستیں! یہی تو تفرقہ ہے۔

لہذا جب تک کسی ملک پر شرعی حاکم موجود ہے تو  جائز نہيں کہ لوگوں میں سے کسی کی بھی بیعت کی جائے۔ رہی بات کہ اگر حاکم اللہ تعالی کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلے اور حکومت نہیں کرتا تو اس کی مختلف حالتیں ہیں۔ چناچہ جو شرعی نصوص کا تقاضہ بنتا ہے اس کے مطابق:

کبھی یہ کفر ہوسکتا ہے۔

کبھی ظلم۔

اور کبھی  فسق۔

 ہمارے ذمے  یہ ہے کہ اگر وہ حاکم ایسے کفر بواح (کھلم کھلا کفر) پر مصر رہتا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی کی طرف سے ہمارے پاس واضح برہان و دلیل ہو تو ہم اپنے مقدور بھر اسے ہٹانے کی کوشش کریں۔ لیکن  اس صورت میں ہمیں لائق نہیں کہ ہم اس کے سامنے ڈٹ جائیں جبکہ ہمارے پاس  کوئی طاقت ہی نہ ہو۔ کیونکہ بے شک اس صورت میں تو یہ خود کو بنا سوچے سمجھے ہلاکت و فتنے میں ڈالنا اور شریعت  کے مخالف ہوا۔

اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ میں جہاد کا حکم نہيں دیا گیا، کیوں؟ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس وقت اتنی قوت نہیں تھی کہ جس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں مکہ سے نکال باہر کرتے یا قتل کردیتے۔ پس مثال کے طور پر اس تھوڑی سے نفری کا اسلحے سے لیس حکومت   پر حملہ کرنا  بلاشبہ خود کو بلاسوچے سمجھے ہلاکت میں ڈالنا  اور حکمت کے سراسر خلاف ہے۔

اگر آپ کفر بواح دیکھتے ہيں جس کے بارے میں آپ کے پاس اللہ تعالی کی طرف سے برہان ہے۔ تو پھر اس پانچویں شرط کا انتظار کیجئے جو کہ قدرت و طاقت ہے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکمرانوں پر خروج کی اجازت نہيں دی مگر شرائط کے ساتھ۔ جو یہ ہیں:

الا یہ کہ تم کوئی کھلم کھلا کفر دیکھو جس کے بارے میں تمہارے پاس اللہ تعالی کی طرف سے واضح دلیل ہو، یہ چار شرائط ہوگئيں۔ پانچویں شرط  دراصل واجب شرط ہے۔ جبکہ اس سے پہلے والی چار شرائط جواز کی شرط ہیں۔ واجبی شرط یہی ہے کہ ہمارے پاس اس حکمران اور اس کی حکومت کے ازالے کی  قدرت وطاقت ہو۔ لیکن بلاطاقت و قدرت کے(ہرگز نہیں)، انسان پھر اللہ تعالی کی طرف سے مشکل کشائی کا انتظار کرے۔ اور خوامخواہ خود سے ایسے کو دعوت نہ دے کہ جو اس کا، اس کے گروہ کا او ردوسروں کا خاتمہ کردے۔

ان پانچ شرطوں کو امید ہے کہ آپ اب اچھی طرح سے سمجھ گئے ہوں گے:

الا یہ کہ تم دیکھو یعنی خود سے دیکھو خود مشاہدہ کرکے جانو یہ نہيں کہ بس کہیں سے منقول ہو۔ کیونکہ ممکن ہے کوئی بات اس کی اصل حقیقت سے  ہٹ کر نقل کی گئی ہو، کفر نقل کی گئی ہو لیکن ہو فسق۔ کیونکہ حاکم کے خلاف  خروج جائز نہیں اگرچہ فسق ہی کیوں نہ موجود ہو، فسق میں سے بھی کتنا ہی بڑا فسق کیوں نہ ہو کفر کے علاوہ۔ یعنی اگر وہ شراب پیتا ہے، ناحق قتل کرتا ہے، اسے حلال جان کر نہيں بلکہ ظلماً ایسا کرتا ہے۔ تو پھر جائز نہيں کہ اس کے خلاف خروج کیا جائے۔ کفر بواح کا مطلب ہے بالکل صریح ہو یعنی کسی تاویل کی گنجائش نہ ہو۔ البتہ وہ کفر جس میں تاویل کی گنجائش ہوتی ہے تو اس صورت میں حکمران متأول (تاویل کرنے والا) کہلائے گا۔

ہمارے پاس اس بارے میں اللہ تعالی کی طرف سے برہان ہو یعنی ہمارے پاس کتاب  و سنت سے دلیل ہو وہ مثالیں نہ ہوں کہ جن میں  خطاء و صواب کا امکان ہوتا ہے۔تو یہ چار شرائط ہوگئیں۔

پانچویں شرط جو خروج کی موجب ہے کہ اس کی قدرت ہو، اور یہ جو شرط ہے یعنی قدرت کی، یہ تو تمام تر واجبات کے لیے شرط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا﴾ (البقرۃ: 286)

(اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں کرتا)

اور یہ فرمان:

﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ (التغابن:  16)

(تو جہاں تک تم کو قدرت ہو اللہ سے ڈرتے رہو)

لہذا وہ بھائی جو چاہتے ہیں جماعتیں بنائيں او رہر جماعت کا اپنا امیر ہو، اس بنیاد پر کہ  ا ن کا جو حکمران ہے وہ ا ن کی نظر میں کوئی شرعی حکمران نہیں ہے، ہم ان سے کہتے ہيں کہ ایسا کرنا ناجائز ہے۔امت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور ہر جماعت کا اپنا امیر ہو یہ بہت عظیم غلطی ہے۔ اللہ تعالی نے تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا بلکہ اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبرکردی کہ بلاشبہ ایسے لوگوں سے تمہارا کوئی تعلق نہیں([1])۔

لیکن انہیں چاہیے کہ اس حکمران کے ازالے کے لیے تیاریاں کریں جس پر خروج کے جواز کی شرائط منطبق ہوتی ہیں، تاکہ اللہ تعالی انہيں قوت دے اور اس کے ازالے میں ان کی مدد واعانت فرمائے۔

[آڈیو فتویٰ:  البيعة لولي الأمر الحاكم على البلد و لا يجوز اعطائها للجماعات]

سوال: شیخ اگر ا س کا عذر یہ ہو کہ متعدد اسلامی ریاستیں موجود ہيں  او ربیعت تو صرف ایک امام (اعظم) کی ہوتی ہے، جو کہ مفقود ہے؟

جواب: یہ عذر باطل ہے اور مسلمانوں کے اجماع کے برخلاف ہے۔ کیونکہ متعدد اسلامی خلافتیں  ایک زمانے سے چلی آرہی ہيں،  بلکہ یہ تو صحابہ کرام y کے دور سے ہی متعدد ہوگئی تھیں اور آج تک متعدد ہيں۔ اور اہل سنت کے تمام آئمہ  اس بات پر متفق ہيں  کہ بے شک بیعت اس امام  یا امیر (حکمران)  کی ہوگی جس کی سرحدوں میں وہ رہتے ہيں، اور کسی نے بھی اس کا کبھی انکار نہيں کیا۔ اور جو اس قسم کی بات کرتا ہے دراصل یہ شیطان کی طرف سے ایک تلبیس ہے۔ ورنہ سب یہ بات بخوبی جانتے ہيں کہ بے شک مسلمانوں کا  آج تک یہی طریقۂ کار رہا ہے  کہ وہ اسی کی بیعت کرتے ہيں جو ان کے علاقے میں حکومت کرتا ہے، اور وہ اسی کی اطاعت کے وجوب کے قائل ہوتے ہیں۔

ہم اس شخص سے پوچھتےہيں اگر آپ کا یہ مؤقف ہے کہ بیعت اسی امام کی ہوتی ہے جوتمام مسلمانوں کا ایک امام ہوتا ہے  اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ  سب لوگ آج بغیر امام کے جی رہے ہیں! جبکہ یہ بات تو محال ہے اور ناممکن ہے۔ اگر ہم اس مؤقف کو لے لیں  تو تمام امور افراتفری کا شکار ہوجائيں گے۔ ہر انسان بولے گا کہ مجھ پر کسی کی اطاعت واجب نہيں ہے۔ لہذا اس قول کے نتیجے میں جو عظیم منکرات مرتب ہوں گے وہ کسی پر مخفی نہيں۔

[آڈیو کلپ:  رفض البيعة لولي الأمر بعذر تعدد الحكام]

سوال: فضیلۃ الشیخ ویسے اس بیعت کی شرائط کیا ہیں، اور کسی پاگل  کے بیعت کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: کونسی بیعت کی شرائط؟

سائل: اس بیعت کی جو بعض جماعتوں کے یہاں پائی جاتی ہے؟

جواب:  وہ بیعت جو ان جماعتوں کے یہاں پائی جاتی ہے یہ عوام کے لیے ایک منکر بیعت ہے۔ کیونکہ بلاشبہ اس کا مطلب ہے کہ انسان اپنے لیے دو امام و دو سلطان(حکام) تسلیم کرتا ہے۔ ایک امام اعظم  جو کہ پورے ملک کا امام (حکمران) ہے، اور دوسرا وہ امام (اس کی جماعت والا) جس کی اس نے بیعت کی۔

اس پر مزید اضافہ اس شر کا بھی کرلیجئے جو آئمہ (حکام) پر خروج  کی طرف لے جاتا ہے، جس سے وہ خون خرابہ اور  اموال تلف ہوتے ہيں کہ جسے اللہ کے سوا کوئی نہيں جانتا۔

البتہ اگر انسان سفر کرتا ہے  اور ان مسافروں کے گروہ پر  کسی کو امیر بناتا ہے  تو سنت میں یہ آیا ہے۔ اگر کوئی گروہ سفر کرے  تو اپنے اوپر کسی کو امیر بنالے۔

[آڈیو فتویٰ:  وجوب البيعة للحاكم المسلم و عقوبة من ليس له بيعة]

 


[1] اس آیت کی طرف اشارہ ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ  ۭ اِنَّمَآ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ﴾ (الانعام: 159) (بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ تو اللہ  تعالیٰ کے حوالے ہے ، پھر وہ ان کو ان کا کیا ہوا جتلا دے گا) (توحید خالص ڈاٹ کام)