حکمرانوں کے علاوہ کسی کی بیعت کرنے کا حکم – شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز

حکمرانوں کے علاوہ کسی کی بیعت کرنے کا حکم – شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز

Giving Ba'yt (pledge) to other than the ruler – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah bin Baaz

حکمرانوں کے علاوہ کسی کی بیعت کرنے کا حکم   

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ  المتوفی سن 1420ھ

(سابق مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مجموع الفتاوى: حكم من عقد بيعة لغير ولاة الأمور۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال:بعض موجودہ فرقے  اپنے ان امراء  کی بیعت کرتے ہیں جنہیں انہوں نے خود منتخب کیا ہوتا ہے(یعنی اپنی جماعت کا امیر بنایا ہوتا ہے)۔ اور اس کی سمع وطاعت کے وجوب اور بیعت نہ توڑنے کے قائل ہوتے ہيں، حالانکہ وہ ان شرعی حکمرانوں کے ماتحت ہوتے ہيں کہ جن کی عام مسلمانوں نے بیعت کررکھی ہوتی ہے۔ تو کیا یہ جائز ہے؟ مطلب یہ کہ  ایک فرد کے گلے میں دو بیعتیں ہوسکتی ہیں، اور یہ بیعتیں کہاں تک ٹھیک ہیں؟

جواب: یہ بیعت باطل ہے اس پر عمل کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ یہ حکومت کے خلاف بغاوت پر لے جاتی ہے اور بہت سے فتنوں کو اور حکمرانوں کے خلاف خروج کو جنم دیتی ہے۔  جبکہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ فرمایا:

’’أوصيكم بتقوى الله والسمع والطاعة وإن تأمر عليكم عبد، فإنه من يعش منكم فسيرى اختلافًا كثيرًا، فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين من بعدي، تمسكوا بها وعضوا عليها بالنواجذ، وإياكم ومحدثات الأمور فإن كل محدثة بدعة، وكل بدعة ضلالة ‘‘([1])

(میں تمہیں اللہ تعالی کا تقویٰ  اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں، اور سننے اور اطاعت کرنے کی اگرچہ تمہارے اوپر کوئی غلام ہی حکومت کیوں نہ کرے، کیونکہ بے شک تم میں سے جو زیادہ عرصہ زندہ رہے گا تو عنقریب وہ بہت اختلاف پائے گا، پس تمہیں چاہیے کہ تم میری سنت کو اور میرے بعد آنے والے خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا ،اس سے تمسک اختیار کرنا اور اپنے جبڑوں سے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھنا، اور دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے بچنا، کیونکہ یقیناً دین میں ہر نیا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے)۔

اور یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ فرمایا:

’’عَلَى الْمَرْءِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ،مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةِ اللهِ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةِ اللهِ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ‘‘([2])

(ایک (مسلمان) انسان پر (حکمران کی) بات سننا اور اطاعت کرناواجب ہے ہر چیز میں خواہ پسند ہو یا ناپسند، جب تک کسی معصیت الہی کا حکم نہ دیا جائے، پس اگر معصیت الہی کا حکم دیا جائے تو (اس کی اس بات میں) سننا اور اطاعت کرنا نہیں ہے)۔

اور فرمایا:

’’إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ‘‘([3])

(اطاعت تو صرف معروف بات میں ہی کی جاتی ہے)۔

اور آپ p نے فرمایا:

’’مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ، فَلْيَكْرَهْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ ‘‘([4])

(جس نے اپنے امیر میں معصیت الہی میں سے کوئی چیز دیکھی تو وہ اس معصیت الہی کو ناپسند کرے جو وہ کررہا ہے، لیکن اپنا ہاتھ ہرگز بھی اطاعت سے نہ کھینچے)۔

اس بارے میں باکثرت احادیث موجود ہیں، جو سب کی سب معروف میں حکمرانوں کی سمع و طاعت کے وجوب پر اور    عدمِ خروج پر دلالت کرتی ہیں، الا یہ  کہ وہ خروج کرنے والوں پر کوئی کھلم کھلا کفر   ظاہر کریں  جس کے بارے میں ان کے پاس اللہ تعالی کی طرف سے واضح برہان موجود ہو۔

بے شک بعض لوگوں کی بیعت کا ہونا  حکومت کے خلاف بغاوت  اور عام حکمران  پر خروج کی طرف لے جاتا ہے، لہذا اسے ترک کرنا واجب ہے، اور اس پر عمل کرنا حرام ہے۔

پھر یہ بات بھی ہے کہ جو کوئی اپنے امیر (حکمران) میں کوئی کھلم کھلا کفر بھی دیکھے تو اسے چاہیے کہ اسے نصیحت کرتا رہے یہاں تک کہ وہ اس سے باز آجائے۔ کیونکہ ایسے پر بھی خروج جائز نہيں اگر اس کے نتیجے میں زیادہ شر مرتب ہوتا ہو۔ کیونکہ  منکر کو اس سے بھی بڑے منکر سے زائل نہيں کیا جاسکتا۔ جیسا کہ اس بارے میں اہل علم رحمہم اللہ نے دلیل سے اصول ثابت فرمایا ہے جیسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ او رعلامہ ابن القیم رحمہما اللہ۔

والله ولي التوفيق۔

[من ضمن الأسئلة الموجهة لسماحته من (جريدة المسلمون). (مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز 28/250)]

 


[1]أخرجه الترمذي في كتاب العلم، باب ما جاء في الأخذ بالسنة واجتناب البدع برقم 2676، وابن ماجه في المقدمة، باب اتباع سنة الخلفاء الراشدين المهديين برقم 42، وأحمد في مسند الشاميين، حديث العرباض بن سارية عن النبي صلى الله عليه وسلم برقم 16694.سنن ترمذی 2676 کے الفاظ ہیں: ’’وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يَوْمًا بَعْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالسَّمْعِ، وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ يَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّهَا ضَلَالَةٌ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَعَلَيْهِ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذ‘‘  اور شیخ البانی نے اسے صحیح الترمذی میں صحیح قرار دیا ہے۔(توحید خالص ڈاٹ کام)

[2] أخرجه مسلم في كتاب الإمارة؛ باب وجوب طاعة الأمراء في غير معصية الله برقم 1839۔

[3] أخرجه البخاري في كتاب المغازي، باب سرية عبدالله بن حذافة السهمي برقم 4340، ومسلم في كتاب الإمارة، باب وجوب طاعة الأمراء في غير معصية الله برقم 1840، واللفظ لمسلم۔

[4] أخرجه مسلم في كتاب الإمارة، باب خيار الأئمة وشرارهم برقم 1855۔