اسلام میں الولاء والبراء (دوستی و دشمنی) کا عقیدہ – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

اسلام میں الولاء والبراء (دوستی و دشمنی) کا عقیدہ – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

The Aqeedah of Al-Wala wal-Bara (alliance and dissociation) in Islaam – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

اسلام میں دوستی و دشمنی کا عقیدہ   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: محاضرات في العقيدة والدعوة جلد 1 درس 13 الولاء والبراء فى الإسلام

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ تعالی اور اس کے رسول کی محبت کے بعد اللہ کے اولیاء (دوستوں) کی محبت اور اللہ کے دشمنوں سے دشمنی واجب ہوجاتی ہے۔

اسلامی عقیدے کے اصول میں سے ہے کہ ایک مسلمان پر واجب ہے  جو اس عقیدے کو بطور دین اپناتا ہے کہ وہ اس عقیدے کے حاملین سے دوستی رکھے اور اس کے دشمنان سے دشمنی۔ چناچہ وہ اہل توحید و اخلاص سے محبت و دوستی کرے، جبکہ اہل شرک سے نفرت اور دشمنی کرے۔اور یہ ملت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام اور جو ان کے ساتھی تھے ان( کے اس منہج) میں سے ہےکہ جن کی پیروی واقتداء کا ہمیں حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۡ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاۗءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗٓ﴾  (الممتحنہ: 4)

(یقینا ًتمہارے لیے ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کے ساتھ تھے ایک اچھا نمونہ تھا، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ بے شک ہم تم سے اور ان تمام چیزوں سے بری ہیں جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، ہم تمہیں نہیں مانتے اور ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہوگیا، یہاں تک کہ تم اس اکیلے اللہ پر ایمان لاؤ)

او ریہ دین محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے بھی ہے:

﴿يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓى اَوْلِيَاۗءَ  ۘبَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ﴾ (المائدۃ: 51)

(اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، ان تو بس ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو انہیں دوست بنائے گا تو یقیناً وہ ان میں سے ہے، بے شک  اللہ تعالی ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا)

یہ اہل کتاب سے موالات (محبت ودوستی) رکھنے   کے حرام ہونے کے بارے میں ہے ، جبکہ عمومی طور پر تمام کافروں سے موالات کے حرام ہونے کے تعلق سے فرمایا:

﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَاۗءَ﴾ (الممتحنہ: 1)

(اے ایمان والو! میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ)

بلکہ اللہ تعالی نے تو مومنین پر کافروں سے موالات کو حرام قرار دیا ہے چاہے نسب کے اعتبار سے وہ اس کا قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَاۗءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَاۗءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَي الْاِيْمَانِ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴾  (التوبۃ 23)

(اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے باپوں اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ بناؤ، اگر وہ ایمان کے مقابلے میں کفر سے محبت رکھیں اور تم میں سے جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا سو وہی لوگ ظالم ہیں)

اور فرمایا:

﴿لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَوْ كَانُوْٓا اٰبَاۗءَهُمْ اَوْ اَبْنَاۗءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِيْرَتَهُمْ﴾ (المجادلۃ: 22)

( تم ان لوگوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں نہیں پاؤ گے کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی، خواہ وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے، یا ان کے بھائی، یا ان کا خاندان)

حالانکہ اس عظیم اصول سے بہت سے لوگ  لاعلم ہيں۔ یہاں تک کہ میں نے بعض ایسے لوگوں تک کوعربی ریڈیو پر  سنا جو علم و دعوت کی طرف منسوب ہوتے ہيں  کہ نصاریٰ ہمارے بھائی ہیں، سبحان اللہ! یہ کیا ہی خطرناک بات ہے۔

جیسا کہ اللہ تعالی نے یقیناً اسلامی عقیدے کے دشمن کافروں سے موالات کو حرام قرار دیا ہے  تو  اس کے برعکس اس نے مومنین سے موالات و محبت کو واجب قرار دیا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ رٰكِعُوْنَ، وَمَنْ يَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ﴾ (المائدۃ: 55-56)

(تمہارے دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، وہ جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ (اللہ کے آگے) جھکنے والے ہیں، اور جو کوئی اللہ کو اور اس کے رسول کو اور ان لوگوں کو دوست بنائے جو ایمان لائے ہیں تو یقیناً حزب اللہ (اللہ کا گروہ)  ہی وہ لوگ ہیں جو غالب ہیں)

اور فرمایا:

﴿مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗٓ اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ﴾ (الفتح: 29)

(محمد اللہ کے رسول ہیں اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں)

اور فرمایا:

﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ﴾ (الحجرات: 10)

(مومن تو بھائی بھائی ہیں)

لہذا مومنین دین و عقیدے میں بھائی بھائی ہيں اگرچہ ان کے نسب، وطن اور زمانے ایک دوسرے سے جدا ہوں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَالَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ ﴾ (الحشر: 10)

 (اور جو ان کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جنہوں نے ایمان لانے میں ہم سے پہل کی اور ہمارے دلوں میں ان لوگوں کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ جو ایمان لائے، اے ہمارے رب ! یقیناً تو بےحد شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے)

پس مومنین  اول خلقت سے لے کے آخر تک خواہ جتنے ہی ان کے وطن دور ہوں، زمانوں میں فاصلہ ہوں، بہرحال بھائی بھائی ہيں اور باہم محبت کرنے والے ہيں، ان کے آخر والے ان کے پہلے والوں کے نقش قدم  پر چلتے ہیں، ایک دوسرے کے لیے دعائيں کرتے ہيں اور ایک دوسرے کے لیے بخشش طلب کرتے ہیں۔