بداخلاق و بدمزاج بیوی کے تعلق سے نصیحت – شیخ عبید بن عبداللہ الجابری

بداخلاق و بدمزاج بیوی کے تعلق سے نصیحت – شیخ عبید بن عبداللہ الجابری

Advice regarding the ill-mannered wife – Shaykh Ubaid bin Abdullaah Al-Jabiree

بداخلاق و بدمزاج بیوی کے تعلق سے نصیحت   

فضیلۃ الشیخ عبید بن عبداللہ الجابری حفظہ اللہ

(سابق مدرس جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ میراث الانبیاء: ما نصيحتكم للزوجة التي تسب زوجها؟

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال:  احسن اللہ الیکم، شیخنا یہ نواں سوال ہے، سائل کہتا ہے کہ: آپ کی اس بیوی کے لیے کیا نصیحت ہے جو اپنے شوہر کو گالیاں تک دیتی ہے، اور کہتی ہے: تم خبیث ہو یا پاگل ہو اور اس کے علاوہ اس قسم کی باتيں غصے کی حالت میں کہتی ہے، پھر اس کے بعد نادم ہوتی ہے، توبہ کرتی ہے، پھر واپس سے اسی طرح کرنے لگتی ہے (یعنی یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے)؟

جواب:  

(سبحان اللہ! اگر بیوی کا یہ حال ہو تو) تھوڑا ڈنڈے سے علاج ہونا چاہیے کہ کتنے اس کی کمر پر مارے جائيں!  اسے چاہیے کہ اس کا بائیکاٹ کرے (بستر الگ)([1])۔ اور اس کے گھر والوں کو اس کی خبر کرے۔ یہ تو  بالکل پاگل پنہ ہے! اسے ایک مضبوط مرد کی ضرورت ہے، کسی ڈھیلے کمزور کی نہيں کہ جو ماشاء اللہ بس ہاتھ پھیر کر سہلا رہا ہو!!  بلکہ ڈنڈا ہو، اور (حدیث کے مطابق) بنا زخمی کیے مار ہو([2])۔ اس کا معاملہ اس کے گھر والوں تک پہنچایا جائے تاکہ وہ اسے کچھ ادب سکھائیں۔ اور اگر وہ اس پر صبر نہيں کرسکتا تو اچھائی کے ساتھ چھوڑ دے(طلاق دے دے)۔

حقیقت یہ ہے کہ میری ایک وصیت ہے مردوں اور خواتین دونوں کے لیے۔ عورتوں کے تعلق سے یہ کہ اگر وہ اپنے شوہر میں ازدواجی تعلقات و ذمہ داریوں میں برائی و لاپرواہی دیکھتی ہےجس کی وہ تاب نہیں لاسکتی، تو پھر اسے چاہیے کہ صبر نہ کرتی رہے یہاں تک کہ بچے پیدا ہوجائیں، پھر خود (وہ اور) اس کے گھر والے حرج محسوس کریں (یعنی بچوں ہوجانے کے بعد طلاق لینے سے بڑے مسائل ہوتے ہيں)۔ تو میری یہی رائے ہے کہ جلد ہی خلاصی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے(یعنی ایسے حالات میں بچے ہونے سے پہلے جلد ہی فیصلہ کرلینا بہتر ہے)۔

اسی طرح سے مرد حضرات کے تعلق سے جو دیکھیں کہ بیوی بالکل پاگل پنہ کرتی ہے اور بہت ٹیڑھی ہے جس کی وہ تاب نہيں لاسکتا، تو اس پر صبر نہ کرتا رہے، بلکہ اچھے طور پر اسے رخصت کردے، اس سے پہلے کہ اس سے بچے پیدا ہوجائيں پھر اس کے لیے قدم اٹھانا نہایت مشکل اور تکلیف دہ ہوجائے۔

 


[1] اللہ تعالی کے اس فرمان سے ماخوذ ہے کہ فرمایا:

﴿اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ ۭ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ  ۭ وَالّٰتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ وَاهْجُرُوْھُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْھُنَّ ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًا  ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيْرًا﴾ (النساء: 34)

(مرد عورتوں پر نگران ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت عطاء کی اور اس وجہ سے کہ ان (شوہروں)  نے اپنے مالوں سے خرچ کیا۔ پس نیک صالح عورتیں فرماں بردار ہیں،(شوہر کی)  غیرحاضری میں حفاظت  کرنے والی ہیں(عزت آبرو، مال واوالاد وراز وغیرہ کی)، جیسا کہ اللہ نےبھی ان (کے حقوق) کی حفاظت کی ہے ۔البتہ وہ عورتیں جن کی نافرمانی وسرکشی سے تمہیں اندیشہ (یا سامنا) ہے، سو انہیں وعظ و نصیحت کرو ،اور بستروں میں ان سے الگ ہوجاؤ ،اور انہیں مارو، پھر اگر وہ تمہاری فرماں برداری کریں تو ان پر (زیادتی کا) کوئی راستہ (اور بہانہ) تلاش نہ کرو، بے شک اللہ ہمیشہ سے بہت بلند، بہت بڑا ہے)۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

[2] جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبۂ حجۃ الوداع میں فرمایا:

’’اتَّقُوا اللَّهَ في النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ ، وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ فَعَلْنَ ذلك فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غير مُبَرِّحٍ ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ‘‘ (صحیح مسلم 1218)

 (عورتوں کے تعلق سے اللہ تعالی سے ڈرو کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امان میں لیا ہے، اور ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلمے کے ذریعے اپنے لیے حلال کیا ہے، تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی ایسے کو نہ آنے دیں جسے تم ناگوار سمجھتے ہو، اگر وہ ایسا کریں تو انہيں ایسی تادیبی ہلکی مار مارو جو بہت شدید اور زخمی کرنے والے نہ ہو، اور ان عورتوں کا تم پر حق ہے کہ انہيں معروف طریقے سے (حسب ضرورت و قدرت) کھلاؤ پلاؤ اور پہناؤ)۔

اور معاویہ بن حیدۃ القشیری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا:

’’مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ؟ قَالَ: أَنْ تُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَتَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ أَوِ اكْتَسَبْتَ، وَلَا تَضْرِبْ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ‘‘   (امام ابو داود نے اپنی سنن 2142 میں اسے روایت کیا ہے اور شیخ البانی نے صحیح ابی داود میں اسے صحیح قرار دیا ہے)

(ہم میں سے کسی کی بیوی کا اس پر کیا حق ہے؟ فرمایا: جو کھاؤ اسے کھلاؤ، جو پہنو یا کماؤ اسے پہناؤ، اس کے چہر ے پر نہ مارنا،  نہ ناگواری  میں برا کہنا(جیسے تیرا بیڑہ غر ق ہو وغیرہ) اور اس کا بائیکاٹ نہ کرنا مگر (کسی شرعی وجہ سے کرنا بھی ہو تو) صرف گھر میں)۔  (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

2018-03-20T10:37:31+00:00