مسلمان ممالک میں اسلامی ریاست کے قیام کی تحریکیں چلانا؟ – شیخ محمد بن عمر بازمول

مسلمان ممالک میں اسلامی ریاست کے قیام کی تحریکیں چلانا؟ – شیخ محمد بن عمر بازمول

Constituting fronts & organizations for the establishment of an Islamic state within Muslim countries? – Shaykh Muhammad bin Umar Bazmool

مسلمان ممالک میں اسلامی ریاست کے قیام کی تحریکیں چلانا؟   

فضیلۃ الشیخ محمد بن عمر بازمول حفظہ اللہ

(سنئیر پروفیسر جامعہ ام القری ومدرس مسجد الحرام، مکہ مکرمہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: علمني ديني 2 – على جدران الفيسبوك، الإصدار الثاني۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

یہ بات مجھ سے مطلوب نہيں کہ میں خلافت اسلامیہ کی ریاست قائم کروں۔ بلکہ یہ تو ولی الامر (حکمران) کی مسئولیت میں سے ہے۔ ہاں، میں اس کے ساتھ اس میں تعاون اور مدد کروں گا اس کی بنا معصیت الہی کے  سمع و طاعت کر کے، اور اسے رائے اور مشورہ  اور خفیہ نصیحت دے کر۔

جان لیں  ایسے فرقوں اور جماعتیں جنہوں نے اپنا مقصد خلافت راشدہ کی ریاست کا قیام بنا رکھا ہے، وہ سیدھے راستے سے گمراہ ہیں اور دین کی مخالفت کی ہے۔

 ان کی گمراہی کی دلیل یہ ہے کہ:

اس  کام (یعنی ان کا ایسی تحریک چلانے ) کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہم الجماعۃ کے لزوم کے قائل نہيں، نہ ہی حکمرانوں کی سمع و طاعت کے قائل ہیں (یعنی کہ جماعۃ المسلمین اور ان کے امام مفقود ہیں، جسے لانے کے لیے تحریک چلائی جارہی ہے)۔ کیونکہ بے شک خلاف راشدہ کے قیام کی کوشش وتحریک کا صاف معنی ہے  کہ الجماعۃ سے خروج، اور حکام کی سمع و طاعت کو ترک کرنا۔ جبکہ (دین میں) اصل اصول یہ ہے کہ: لزوم جماعت ہو اور ولاۃ امور (حکام) کی سمع و طاعت ہو، اور اس پر ان کی بیعت کا تحفظ کیا جائے لیکن معصیت الہی کے علاوہ امور میں۔  اور ان کے ساتھ معروف کاموں میں تعاون کیا جائے۔ امید ہے کہ اللہ تعالی ان کی مدد و معاونت فرما‏ئے گا کہ وہ خلافت راشدہ کو پالیں گے۔ کیونکہ یہ ان کی مسئولیت میں سے ہے ناکہ عام مسلمانوں کی انفرادی مسئولیت، یا جو یہ  گمراہ حزبی جماعتیں اور تنظیمیں نعرے لگاتی پھرتی ہيں۔ یہی وجہ ہے کہ ان سب نے (اپنی جماعت بندی و تنظیم سازی کی) اسی کو بنیاد بنایا ہوتا ہے خواہ علانیہ ہو یا خفیہ طور پر، اور اپنے پیروکاروں (کارکنان) کی اسی پر تربیت کرتی ہيں!

دیکھیں کس طرح امام ابن تیمیہ  رحمہ اللہ م 728ھ نے اس مسئلے کو آئمہ (حکام) کے ساتھ ہی جوڑا ہے، عام مسلمانوں  سے متعلق اس کام کو باور نہيں کروایا بلکہ خواص کے متعلق بھی نہيں، جب آپ نے مجموع الفتاوی 34/175-176 میں یہ فرمایا:

’’ سنت تو یہی ہے کہ مسلمانوں کا ایک ہی امام ہو اور باقی سب اس کے (وزراء یا) نائبین ہوں۔ لیکن اگر بالفرض امت کے بعض گنہگاروں کی اور باقیوں کے عاجز ہونے کی  وجہ سے امت اس ایک امام کی امامت سے نکل جاتی ہے اور اس کے متعدد آئمہ بن جاتے ہیں۔ تو پھر ہر امام وحکمران پر یہ واجب ہوگا کہ وہ حدود کو قائم کرے اور حقوق کو ادا کرے ‘‘۔

یہ بات جان لیں کہ اہل سنت والجماعت کے یہاں یہ بات مقرر ہے کہ ولی امر کے ساتھ (صحیح مسنون و سلفی) معاملہ کرنا اس بات پر منحصر ہے کہ الجماعۃ کو لازم پکڑا جائے اور جو کچھ وہ حکم دے اس میں سوائے معصیت الہی کے اس کی سمع و طاعت کی جائے۔ اگرچہ وہ حکمران قاصر یا عاجز ہو خلافت والی ریاست قائم کرنے میں۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ م 241ھ عبدوس کی روایت سے اصول السنۃ ص 64 میں فرماتےہیں:

’’اور سمع و طاعت آئمہ و امیر المؤمنین (حکام) کی کی جائے گی، خواہ نیک ہو یا بد ۔اور جو خلافت پر والی ومتمکن ہوجائے اور لوگ اس پر مجتمع ہوکر راضی ہوجائیں، یاپھر  جو تلوار کے زور سےان پر  غالب آجائے یہاں تک کہ (اپنے آپ) خلیفہ بن بیٹھے، اور امیر المؤمنین (مسلمانوں کا حاکم) کہلایا جانے لگے (ان کی بھی سمع و طاعت ہوگی)‘‘([1])۔

اور اس کا لزوم اختیار کرنا اگرچہ آئمہ خلافت قائم کرنے میں ناکام ہوں، یا اس بارے میں نافرمانی کا شکار ہوں۔ تمام زمانوں سے لے کر آج کے دن تک اس بات پر اہل علم کا اجماع ہے ۔ ہم نے کبھی نہ سنا نہ پڑھا کہ کسی عالم نے بیعت کو توڑ دینے  اور الجماعۃ سے خارج ہونے کی دعوت دی ہو اس وجہ سے کہ حکمران خلافت کے قیام کی کوشش نہيں کرتا۔

اور جب امام ابن کثیر  رحمہ اللہ م 749ھ نے اس مسئلے کو اپنی تفسیر( 1/74 ط۔ مکتبہ النھضہ، مکہ مکرمہ) میں ذکر کیا تو فرمایا:

’’اور یہ حال تو بنی عباس کے خلفاء جو عراق میں ہیں، فاطمیوں کے جو مصر میں ہیں اور امویوں کے جو مغرب میں ہیں کہ مشابہ ہے‘‘۔

اور امام محمد بن عبدالوہاب التمیمی رحمہ اللہ م 1206ھ الدرر السنیۃ 9/5 میں فرماتے ہیں:

’’ ہر مذہب کے آئمہ کرام  اس بات پر متفق ہیں کہ جو کوئی بھی کسی ایک یا اس سے زائد ممالک پر غالب آجائے تو تمام چیزوں کے بارے میں اس کا حکم امام (امام اعظم/خلیفہ) کا ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کبھی بھی یہ دنیا کے امور استقامت پر نہیں آسکتے تھے، کیونکہ لوگ تو ایک زمانۂ طویل سے یعنی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے دور سے پہلے سےلے کر اب تک کسی ایک امام وخلیفہ پر تو کبھی متفق ہوئے ہی نہیں۔ اس کے باوجود ہمیں نہیں معلوم کہ کسی عالم نے یہ کہا ہو کہ (خلیفہ یا امام کے تعلق سے دینی) احکام جب تک امام اعظم (یعنی تمام مسلم دنیا کا ایک ہی خلیفہ) نہ ہو تو ان پر عمل درست نہیں ‘‘۔

اور امام الشوکانی رحمہ اللہ م 1250ھ السیل الجرار 4/502  میں فرماتے ہیں:

’’ جب اسلامی علاقے وسعت پزیر ہوئے، اور مسلمانوں میں اختلاف واقع ہوا، اور خطوں میں سے ہر خطےپر ایک سلطان (حکمران) حاکم بن گیا۔ تو مسلمان اہلیان وطن کا اس  بات پر اتفاق ہوگیا کہ جب کبھی ان میں سے کوئی فوت ہو تو اس کے قائم مقام کو منصب پر فائز کرنے میں جلدی کرتے ہيں۔اور یہ بات بالکل معلوم ہے کہ کسی نے اس میں مخالفت نہيں کی، بلکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح قبض کی گئی اس وقت سے لے کر آج کے دن تک تمام کے تمام مسلمانوں کااسی بات پر  اجماع ہے ‘‘۔

اوراس میں 4/512  بھی دیکھیں([2])۔

 


[1] اصول السنۃ رسالے کی شرح از شیخ ربیع المدخلی  حفظہ اللہ ہم شائع کرچکے ہيں، اور ہماری ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[2] اس کے یہ الفاظ ہیں: ’’ لیکن اسلام کے انتشار وچار سو پھیل جانے، اس کے زیرسایہ ممالک کی توسیع ہوجانے، اور اس کے اکناف واطراف میں کافی دوری ومسافت ہوجانے کے باعث اب ہر علاقے یا ملک کی ولایت اس کے امام یا سلطان کی ہوگی، اور اسی طرح سے کسی دوسرے ملک یا علاقے کی بھی اپنی حکومت وولایت ہوگی، کسی دوسرے علاقے کی حکومت کا امر یا نہی کسی غیرملک پر نافذ نہیں ہوگا بلکہ ہر ملک والے کو اپنی ولایت یا حکومت کی جانب ہی رجوع کرنا چاہیے۔ متعدد آئمہ وسلاطین ہونے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ ان میں سے ہر ایک کی اپنی بیعت ہوجانے کے بعد اس کے ملک میں اسی کے اوامر ونواہی نافذ ہوں گے، اسی طرح سے کسی دوسرے خطے یا ملک میں اس خطے کےحکمران وسلطان کے۔ اور اگر کوئی اس حاکم کے خلاف اس کے ملک میں بغاوت کرے کہ جہاں اس کی ولایت ثابت ہوچکی ہے اور وہاں کے لوگوں نے اس کی بیعت کرلی ہے، تو اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسے قتل کردیا جائے۔ کسی دوسرے اسلامی ملک کے لوگوں پر اس کی اطاعت واجب نہیں اور نہ ہی اس کی ولایت وحکومت کے ماتحت ہونا ضروری ہے، کیونکہ ان کے مابین عظیم مسافت حائل ہے کہ جس کی وجہ سے اسے اپنے امام یا سلطان کی خبر ہی نہ ہوسکے، اور معلوم ہی نہ ہو کہ آیا وہ زندہ بھی ہے یا مرگیا ہے، اب اس حال میں اس طرح ایک ہی حکمران کی اطاعت کو سب پر لازم کرنا ایسی تکلیف یعنی شرعی فریضہ ہوگا جو کہ انسانی بساط وطاقت سے باہر ہوگا(جو کہ شریعت میں جائز نہیں)۔ اور یہ حقیقت تو ہر اس شخص پر آشکارا ہے کہ جو لوگوں اور ممالک  کے حالات پر مطلع ہو۔۔۔ پس اسے اچھی طرح سے جان لیں۔ کیونکہ یہی شرعی قواعد کے اور دلائل جس بات پر دلالت کرتے ہیں کے زیادہ مناسب حال ہے۔ اور جو کوئی اس کی مخالفت میں بولے تو اس کی قطعی پرواہ نہ کرو، کیونکہ اول اسلام میں جو اسلامی ولایت وحکومت تھی اور اب جو اس کی حالت ہے اس میں واضح فرق ازہر من الشمس ہے۔ جو اس حقیقت کا انکاری ہو تو وہ بہت ہی بیکار وفضول شخص ہے کہ جو کسی حجت ودلیل سے مخاطب کیے جانے کے لائق ہی نہیں، کیونکہ وہ اسے سمجھ ہی نہیں سکتا ‘‘۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)