فون پر ہیلو hello کہنا کیسا ہے؟ – مختلف علماء کرام

فون پر ہیلو hello کہنا کیسا ہے؟ – مختلف علماء کرام

Saying "hello" on phone? – Various 'Ulamaa

فون پر ہیلو hello کہنا کیسا ہے؟   

مختلف علماء کرام

ترجمہ و ترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال:  کیافون پر  کلمہ ’’ ألو (ہیلو) کہنا  جائز ہے، لوگ کہتے ہیں: یہ لفظ مسلمانوں کا نہيں بلکہ نصاریٰ کا ہے، ہماری اور سامعین کی اس بارے میں رہنمائی فرمائیں؟

جواب از شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ:

میں اس کلمے ’’ ألو میں کوئی حرج نہيں جانتا کیونکہ لوگ اس کے عادی ہيں اور جانتے پہچانتے ہيں، لہذا اس میں کوئی حرج نہيں۔ اور بہت سے عجمی کلمات سے لوگ اچھی طرح مانوس ہيں اور ان کے مابین وہ عام ہے، تو اس کا کوئی نقصان نہيں۔ اور اگر ’’ ألو کے بجائے  ’’نعم کہیں تو بھی یہ سب ٹھیک ہيں۔ مقصود یہی ہے کہ اس کلمے ’’ ألو کہنے میں کوئی حرج نہيں، واللہ اعلم۔

 (فتویٰ  : كلمة ( ألو ) في الهاتف)

شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ سلام کے تعلق سے فرماتے ہیں:

۔۔۔مرحباًیا أهلاً، یا حياك اللهجیسے کلمات اصل جواب نہيں بنتے، اور انسان برئ الذمہ نہيں ہوتا، ضروری ہے کہ وہ کہے: عليك السلام پھر اھلاً سہلا ًمرحبا ً(خوش آمدید) وغیرہ جو چاہے کہے۔اور عجیب بات ہے کہ یہ محمدی نبوی صیغہ السلام عليك، عليك السلام قریب ہے کہ فون پر کی جانے والی گفتگو میں مفقود ہورہا ہے، کیونکہ جب آپ اپنے ساتھی کو فون کرتے ہيں اور ریسیوراٹھاتے ہيں تو کیا کہتے ہیں؟ ہیلو، ہیلو اور اس کا معنی ہے: مرحباً یا أهلاً یا اس جیسا۔ بلکہ کہیں: السلام عليك تاکہ وہ جواب دے  عليك السلام اور اس طرح دس نیکیاں آپ کو مل جائيں۔

(مسائل في السلام، اللقاء الشهري – 13)

اسی طرح کی بات شیخ رحمہ اللہ حلیۃ طالب العلم کی شرح  الفصل السابع المحاذير: احذر اللحن میں  فرماتے ہیں کہ غیروں کی نقالی میں ہم اپنے شخصیت کھو بیٹھے ہیں اور بچوں کو بائی بائی اور ہیلو وغیرہ سکھلاتے ہيں بجائے سلام کے۔

اور شیخ بکر ابو زید رحمہ اللہ نے بھی اپنے رسالے آداب الهاتف ص 13 میں اسے غیروں کا طریقہ بتلا کر منع فرمایا ہے([1]

 


[1] البتہ اس تعلق سے ہمارے یہاں بعض جہلاء کی طرف سے جو عام پیغام پھیلایا جاتا ہے کہ امام کعبہ وغیرہ نے فون پر ہیلو کہنے کو حرام کہا ہے اور ہیلو کا معنی جہنمی کے ہیں بلکہ جھوٹی اور بے اصل بات ہے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)