عام تعدیل پر جاننے والے کی جرح مقدم ہے – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

عام تعدیل پر جاننے والے کی جرح مقدم ہے – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

A detailed criticism by the one who has knowledge is given precedence over general praise – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

عام تعدیل پر جاننے والے کی جرح مقدم ہے   

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: فتاوى الشيخ ربيع المدخلي حفظه الله [ ج 1 ص 250 ]۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال:سائل کہتا ہے کیا یہ قاعدہ کہ:  الجرح المفسر (مقدم) على التعديل المبهم  (جرح مفسر (تفصیلی تنقید) تعدیل (تعریف)مبہم پر  فوقیت رکھتی ہے) علماء کے نزدیک اتفاقی قاعدہ ہے، اور کیا اس کی تطبیق اسلامی جماعتوں پر کی جاسکتی ہے، کیونکہ بعض اہل علم نے ان جماعتوں کی تعدیل کی ہے جبکہ بعض نے جرح کی ہے، پس کیا ہم جرح کرنے والے کو تعدیل کرنے والے پر مقدم کریں گے، کیونکہ اس کے پاس (ان کے حال کا) زیادہ علم ہے ؟

جواب: جی، یہ منہج قائم    ہے اور تاقیامت چلتا رہے گا، ان شاء اللہ۔ کیونکہ یہ وہ صحیح اسلامی منہج ہے جس پر مسلمانوں کی حیات قائم ہے، اسی پر ان  کا دین قائم ہے، اور اسی کے ذریعے ان کے دین، عزت اور اموال کی حفاظت ہوتی ہے۔ اسلام میں یہ عظیم منہج ہے، اس کی شان سوائے فاسد تصور و فکر رکھنے والے منحرف  شخص کے کوئی نہيں گرا سکتا۔

جی ہاں یہ منہج آج کی جماعتوں پر بھی لاگو  ہوگا۔ ہوسکتا ہے کوئی شخص ان کا تزکیہ دے ،وہ خود تو فاضل شخص ہو مگر اس تزکیے کی بنیاد بس ان کا ظاہر ہو، حالانکہ وہ اس قوم کی حقیقت پوری طرح سے نہ جانتا ہو۔ مگر کوئی دوسرا شخص آتا ہے اور وہ ان کی کتب پڑھتا ہے ان کی حقیقت حال کا مشاہدہ کرتا ہے تو پاتا ہے کہ جس نے ان کاتزکیہ دیا تھا وہ انجانے میں غلطی میں واقع ہوا ہے، پس اس نے بس ظاہر دیکھ کر تزکیہ دے دیا۔

اور ایسا ہوجاتا ہے آئمہ کبار تک کے ساتھ ہوتا ہے۔ کتنے ہی ایسے انسان ہيں جن کی  امام احمد : نے  تعدیل کی لیکن ان کے تلامیذ نے جو کہ ان کے مرتبے تک نہيں پہنچتے ان لوگوں کے  پاس جو کچھ ہے اسے جانا اور ان کے بارے جو قدح و جرح ہے اسے بیان کیا اور انہيں ساقط قرار دیا، اگرچہ ان کا تزکیہ امام احمد : دے چکے تھے۔ اسی طرح سے امام الشافعی :  نے کچھ لوگوں کا تزکیہ بیان کیا لیکن دوسروں نے ان کی جرح کی۔ لہذا ان کی جرح مفسر جو کہ حقیقت کی معرفت پر قائم ہے کو ان آئمہ کے اقوال پر مقدم کیا گیا کہ جنہوں نے جو کچھ ان کے سامنے ظاہر تھا اس بنیاد پر تزکیہ بیان فرمایا۔

آج کوئی انسان آتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہ طالبعلم ہے، اور بظاہر دین داری ، عبادت گزاری وعمدہ اخلاق کا مظاہرہ کرتا ہے، اور آپ کے پاس کچھ دن بیٹھتا اور ٹکتا ہے تو آپ اس کے ظاہر پر ہی حکم کی بنیاد رکھتے ہو۔ خود میں نے واللہ! اس سال کئی لوگوں کا تزکیہ بیان کیا، واللہ!  میرے ساتھ وہ لگے رہے ماشاء اللہ کیا دین داری و عبادت گزاری وغیرہ آخر تک ظاہر کرتے رہے۔۔۔لیکن بعد میں میرے سامنے ان کی جرح ظاہر ہوئی۔اگر میرے سامنے کوئی نمازپڑھے گا، زکوٰة دے گا، ذکر الہی کرے گا، میرےساتھ سفر کرے گا۔۔۔الخ تو میں جو دیکھوں گا اس کے مطابق ہی گواہی دوں گا، اور اللہ تعالی کے سامنے تو ہم کسی کی پارسائی بیان نہيں کرسکتے (کیونکہ وہ ظاہر اور پوشیدہ سب کچھ جانتا ہے)۔ لیکن کوئی دوسرا شخص آتا ہے جو اسے مجھ سے زیادہ جانتا ہے، ا س کے سامنے وہ غلطیاں آشکارا ہوتی ہیں اور ایسی باتیں آشکارا ہوتی ہیں جو اس کی عدالت پر قدح کا سبب بنتی ہیں، پس وہ علم  کی روشنی میں جرح کرے گا اور اپنی اس جرح کو وہ دلائل کے ساتھ ثابت کرے گا اور اپنی جرح کی تفسیر و تفصیل بیان کرے گا، تو اس کی جرح میری تعدیل پر مقدم ہوگی، اور میں اسے تسلیم کروں گا۔ اس نے اس شخص کی جرح پر دلائل پیش کیے تو فی الواقع حق اس کے ساتھ ہے۔

چناچہ کوئی جماعت علماء میں سے کسی عالم کے پاس آتی ہے اور کہتی ہے: واللہ! ہم اہل سنت میں سے ہيں، اور ہم توحید کی طرف دعوت دیتے اور شرک کے خلاف اور قبرپرستی کے خلاف لڑتے ہيں اور یہ یہ کرتے ہيں۔ اور وہ ان میں خیر و صلاح دیکھتا ہے  تو ان کے لیے ایسا کچھ لکھ دیتا ہے جو ان کی معاونت کرے، جیسے  بے شک وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دعوت دیتےہيں۔ لیکن پھر طلاب العلم میں سے کچھ لوگ جب ان کے ساتھ چلتے ہيں، میل ملاپ کرتے ہيں تو پاتے ہیں کہ حقیقت بالکل مختلف ہے، او ریہ لوگ اہل بدعت میں سے ہيں اور بلاشبہ یہ تو صوفیوں اور خرافیوں میں سے ہیں)[1](۔ اور وہ اپنی باتوں پر دلائل بھی پیش کرتے ہيں تو ان کی تصدیق کی جاتی ہے، اور میرے تعدیل پر یا اس عالم کی تعدیل پر اسے فوقیت دی جاتی ہے۔ یہ عمومی قاعدہ ہے اور افراد و جماعتوں کے تعلق سےتاقیامت  ہمیشہ جاری و ساری رہے گا ان شاء اللہ۔

 


[1] جیسا کہ تبلیغی جماعت والوں نے سعودی علماء کرام سے اپنی تائید میں اسی قسم کی باتيں ظاہر کرکے پہلے فتاویٰ  لیے تھے، بعد ازیں ان کی حقیقت واضح کی گئی تو ان کا تفصیلی رد کیا گیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیں ہماری ویب سائٹ پر شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ کی کتاب تبلیغی جماعت کے بارے میں علماء اہل سنت کے اقوال۔ (توحیدخالص ڈاٹ کام)