Principles of Tafseer – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

اصولِ تفسیر   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: أصول في التفسير

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

مقدمہ

الحمد لله ، نحمده ونستعينه ، ونستغفره ونتوب إليه ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا ، من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له ، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له ، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله ؛ صلى الله عليه وسلم ، وعلى آله وأصحابه ، ومن تبعهم بإحسان وسلم تسليماً ، أما بعد :

ہر قسم کے فن سے متعلق یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ کوئی بھی شخص اس کے اصولوں کو جانتا ہو۔ جو اس کے فہم اور ان اصولوں کے ذریعہ تخریجِ مسائل میں مددگار ثابت ہوں گے۔ اور تاکہ اس کا علم قوی اساس اور مضبوط ستونوں پر قائم ہو۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: ’’من حُرِم الأصول حرم الوصول‘‘ (جو اصول کی معرفت سے محروم رہا وہ منزلِ مقصود تک پہنچے سے محروم رہا)۔

اور تمام فنونِ علم میں سب سے بہترین واشرف علم علمِ تفسیر ہے۔ جو کلام اللہ کے معانی کی وضاحت کرتا ہے۔ اہل علم نے اس کے لیے بھی اصول وضع فرمائے ہیں جیسا کہ انہوں نے اصولِ حدیث یا اصول ِفقہ وغیرہ کے لیے اصول وضع فرمائے ہیں۔

میں نے معھد العلمیہ،جامعہ امام محمد بن سعود الاسلامیہ (ریاض) کے طالبعلموں کے لیے اس علم کے تعلق سےجتنا مجھ سے ہوسکا کچھ ضروری باتیں لکھی تھیں۔ پس کچھ لوگوں نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اسے علیحدہ طور پر ایک رسالے کی شکل دے دوں، تاکہ یہ آسان تر اور یکجا ہوجائے۔ لہذا میں نے ان کی اس طلب پر لبیک کہا۔

اور اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ اس کے ذریعہ نفع پہنچائے۔

اس میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے:

القرآن الکریم:

1- قرآن مجید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کب نازل ہوا  اور فرشتوں میں سے کون اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کرنازل ہوئے ۔

2- قرآن میں سے سب سے پہلے کیا نازل ہوا۔

3- قرآن کریم کا نزول دو طرح کا ہے: سببی اور ابتدائی۔

4- قرآن مجید کا مکی اور مدنی ہونا، اور اسے وقتا ًفوقتاً نازل ہونے کی حکمت، اور ترتیبِ قرآن۔

5- عہدِ نبوی میں قرآن حکیم کی کتابت وحفاظت۔

6- عہدِ ابو بکر وعثمان رضی اللہ عنہما میں قرآن شریف کا جمع کیا جانا۔

تفسیر:

1- تفسیر کا لغوی واصطلاحی معنی، اس کا حکم اور اس کی غرض وغایت۔

2- تفسیر قرآن کے سلسلے میں ایک مسلمان پر کیا واجب ہے۔

3- تفسیر قرآن کے مراجع یہ ہیں:

            1- خود کلام اللہ یعنی قرآن کی تفسیر قرآن سے ہونا۔

            2- سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیونکہ آپ ہی اللہ تعالی کی طرف سے اس کو پہنچانے والے ہیں، اور تمام

                لوگوں میں سب سے زیادہ کتاب اللہ میں اللہ تعالی کی حقیقی مراد کو جاننے والے ہیں۔

            3- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خصوصا ًوہ صحابہ جنہوں نے قرآن کی تفسیرکا خاص اہتمام فرمایا، کیونکہ

    قرآن مجید ان کی زبان میں اور ان کے زمانے میں نازل ہوا۔

            4- کبار تابعین کرام رحمہم اللہ جنہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تفسیر حاصل کرنے کا اہتمام فرمایا۔

            5- سیاق وسباق کے اعتبار سے قرآنی کلمات کے شرعی یا لغوی معنی کا جو تقاضہ ہو اسے لینا، اور اگر

               شرعی اور لغوی معنی میں کہیں اختلاف ہو تو وہاں شرعی معنی کو ترجیح دینا الا یہ کہ کوئی خاص

  دلیل موجود ہے جس کی وجہ سے کبھی لغوی معنی کو شرعی معنی پر ترجیح حاصل ہوجائے۔

4- تفسیرِ ماثور میں وارد ہونے والے اختلاف کی انواع واقسام۔

5- ترجمہِ قرآن: اس کی تعریف، انواع اور ان تمام انواع کا حکم۔

٭ پانچ مشہور مفسرین کی سیرت کا بیان۔ تین صحابہ میں سے اور دو تابعین میں سے۔

٭محکم ومتشابہ کے اعتبار سے قرآن کریم کی اقسام:

            = متشابہ آیات سے متعلق راسخین فی العلم اور کجروؤں کا مؤقف۔

            = حقیقی اور نسبی متشابہات۔

            = قرآن مجید کے محکم ومتشبہ میں تقسیم ہونے کی حکمت۔

٭ قرآن کریم کی آیات میں تعارض پائے جانے کا وہم اور اس کا جواب مثالوں کے ساتھ۔

٭ قرآن کریم میں قَسَم کا بیان: اس کی تعریف، صیغے اور فوائد۔

٭ قرآن کریم میں قصص: ان کی تعریف، غرض وغایت، ان کی تکرار اور طوالت ، اختصار واسلوب کے فرق میں حکمت-

٭ اسرائیلیات: یعنی وہ بنی اسرائیل سے مروی روایات جنہیں تفسیر میں شامل کردیا گیا اور ان کے تعلق سے علماء کرام کا مؤقف۔

٭ ضمیر: اس کی تعریف، مرجع، جہاں ضمیر استعمال ہونا چاہیے وہاں اسم کا اظہار کرنا اور اس کا فائدہ،ایک ضمیر سے دوسرے ضمیر کی جانب التفات کرنا اور اس کا فائدہ، ضمیر منفصل کا استعمال اور اس کا فائدہ۔