منافقین متردد رہتے ہیں – امام محمد بن جریر ابو جعفر الطبری

منافقین متردد رہتے ہیں – امام محمد بن جریر ابو جعفر الطبری

The hypocrites swaying back & forth – Imam Muhammad bin Jareer at-Tabaree

منافقین متردد رہتے ہیں

امام محمد بن جریر ابو جعفر الطبری رحمہ اللہ المتوفی سن 310ھ

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: جامع البيان عن تأويل آي القرآن

پیشکش: میراث الانبیاء ڈاٹ نیٹ


بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ تعالی کے اس فرمان کے تفسیر:

﴿مُذَبْذَبِيْنَ بَيْنَ ذٰلِكَ، لَآ اِلٰى هٰٓؤُلَاءِ وَلَآ اِلٰى هٰٓؤُلَاءِ ۭوَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِيْلًا ﴾ (النساء: 143)

(اس کے درمیان متردد ہیں، نہ اُن کی طرف ہیں اور نہ اِن کی طرف ،اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر آپ اس کے لیے ہرگز کوئی راستہ نہ پائیں گے)

ابو جعفرفرماتے ہیں: اللہ تعالی کا اپنے قول ’’مذبذبين‘‘ سے مراد متردد ہیں۔

اور ’’التذبذب‘‘  کا اصل تحرک واضطراب ہے، جیسا کہ  النابغة الذُّبيانيکہتا ہے:

أَلــم تَـرَ أَنَّ اللـهَ أَعْطَـاكَ سُـورَةً

تَــرَى كُـلَّ مَلْـكٍ دُونَهَـا يَتَذَبْـذَبُ

اللہ تعالی کی اس سے مراد یہ ہے کہ منافقین اپنے دین کے تعلق سے حیرت میں ہی رہتے ہیں، اپنے اعتقاد میں صحت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ پس یہ لوگ نہ مومنین  کے ساتھ بصیرت پر ہوتے ہیں اور نہ ہی مشرکین کے ساتھ جہالت میں ہوتے ہیں۔ لیکن یہ دونوں کے مابین حیران وششدر ہوتے ہیں۔  لہذا ان کی مثال ویسی ہی ہے جو مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی دی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ فرمایا:

’’مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ فِي هَذِهِ مَرَّةً وَفِي هَذِهِ مَرَّةً لَا تَدْرِي أَيَّهَا تَتْبَعُ‘‘([1])

(منافق کی مثال  اس بکری کی طرح ہے جو بکرے کی طلب میں دو ریوڑوں کے درمیان رہتی ہے۔ کبھی اس ریوڑ میں جاتی ہے، تو کبھی اس ریوڑ میں، اسے تسلی نہیں ہوتی کہ کس ریوڑ کے ساتھ رہے)۔

جوکچھ ہم نے کہا اسی طرح سے کچھ مفسرین ذکر کرتے ہیں، جنہوں نے ایسا فرمایا ان میں سے السدی ہیں وہ فرماتے ہیں:

﴿مُذَبْذَبِيْنَ بَيْنَ ذٰلِكَ ڰ لَآ اِلٰى هٰٓؤُلَاءِ وَلَآ اِلٰى هٰٓؤُلَاءِ ﴾

یعنی مشرکین بھی نہيں اس طور پر کہ شرک ظاہر کرتے ہوں، اور نہ ہی مومنین ہیں۔

قتادہ سے روایت ہے فرمایا:

﴿مُذَبْذَبِيْنَ بَيْنَ ذٰلِكَ ڰ لَآ اِلٰى هٰٓؤُلَاءِ وَلَآ اِلٰى هٰٓؤُلَاءِ ﴾

یعنی نہ وہ مخلص مومنین ہیں اور نہ شرک کی صراحت کرنے والے مشرکین ہيں۔ اور ہمارے لیے یہ بیان کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مومن، منافق اور کافر کی مثال بیان فرمایا کرتے تھے:

’’ كَمَثَلِ رَهْطٍ ثَلاثَةٍ دَفَعُوا إِلَى نَهْرٍ، فَوَقَعَ الْمُؤْمِنُ فَقَطَعَ، ثُمَّ وَقَعَ الْمُنَافِقُ حَتَّى إِذَا كَادَ يَصِلُ إِلَى الْمُؤْمِنِ نَادَاهُ الْكَافِرُ: أَنْ هَلُمَّ إِلَيَّ، فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ، وَنَادَاهُ الْمُؤْمِنُ: أَنْ هَلُمَّ إِلَيَّ، فَإِنَّ عِنْدِي وَعِنْدِي، يُحْصِي لَهُ مَا عِنْدَهُ، فمَا زَالَ الْمُنَافِقُ يَتَرَدَّدُ بَيْنَهُمَا، حَتَّى أَتَى عَلَيْهِ آذِيٌّ فَغَرَّقَهُ، وَإِنَّ الْمُنَافِقَ لَمْ يَزَلْ فِي شَكٍّ وَشُبْهَةٍ، حَتَّى أَتَى عَلَيْهِ الْمَوْتُ وَهُوَ كَذَلِكَ‘‘

(جیسا کہ تین لوگوں کا ایک گروہ ہے جن کا گزر ایک نہر پر سے ہوا، مومن اس میں اترا اور پار کرگیا، پھر منافق اترا یہاں تک کہ وہ مومن کے پاس پہنچنے ہی والا تھا کہ اسے کافر نے آواز لگائی کہ میری طرف چلے آؤ، کیونکہ مجھے تمہارے اوپر خدشہ ہے! اور مومن نے بھی اسے پکار لگائی کہ میری طرف چلے آؤ کیونکہ میرے پاس یہ یہ ہے، جو کچھ اس کے پاس ہے شمار کروانے لگا، منافق ان دونوں کے مابین متردد ہی رہا یہاں تک کہ ایک شدید موج آئی اور اسے غرق کرگئی۔اور ایک منافق ہمیشہ شک وشبہہ میں ہی رہتا ہے یہاں تک کہ اسے موت آجاتی ہے اور وہ اسی حال میں ہوتا ہے)۔

اور ہمارے لیے بیان کیا گیا کہ اللہ تعالی کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ:

’’مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ ثَاغِيَةٍ بَيْنَ غَنَمَيْنِ، رَأَتْ غَنَمًا عَلَى نَشَزٍ فَأَتَتْهَا فَلَمْ تَعْرِفْ، ثُمَّ رَأَتْ غَنَمًا عَلَى نَشَزٍ فَأَتَتْهَا وَشَامَّتْهَا فَلَمْ تَعْرِفْ‘‘

(منافق کی مثال اس بکری کی سی ہے جو دو ریوڑوں کے مابین ہوتی ہے، جب ایک ریوڑ کو کسی ٹیلے پر دیکھتی ہے ان کے پاس دوڑی چلی جاتی ہے پس انہیں اپنوں میں سے نہيں جانتی، پھر ایک ریوڑ کو کسی  ٹیلے پر دیکھتی ہے ان کے پاس دوڑی چلی جاتی ہے اور سونگھتی ہے مگر انہیں بھی اپنوں میں سے نہيں جانتی)۔

اور مجاہد سے روایت ہے اس قول ’’مذبذبين‘‘ کے تعلق سے فرمایا یہ منافقین ہیں۔

اور مجاہد سے روایت ہے:

﴿مُذَبْذَبِيْنَ بَيْنَ ذٰلِكَ ڰ لَآ اِلٰى هٰٓؤُلَاءِ وَلَآ اِلٰى هٰٓؤُلَاءِ ﴾

فرمایا: نہ وہ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہوتا ہے اور نہ ان یہود کی طرف۔

ابن جریج سے روایت ہے اس فرمان ’’مذبذبين بين ذلك‘‘ کے تعلق سے کہ: انہوں نے ایمان کو خالص نہيں کیا کہ مومنین کےساتھ ہوتے، اور نہ اہل شرک کے ساتھ ہوئے۔

ابن زید اس فرمان ’’مذبذبين بين ذلك‘‘کے متعلق  فرماتے ہیں یعنی اسلام وکفر کے مابین ہیں ’’لا إلى هؤلاء ولا إلى هؤلاء‘‘۔

جبکہ اللہ تعالی کا یہ فرمانا:

﴿وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِيْلًا﴾

(اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر آپ اس کے لیے ہرگز کوئی راستہ نہ پائیں گے)

مطلب جسے اللہ تعالی ہدایت کی راہ یعنی وہ اسلام ہے جس کی طرف اللہ تعالی اپنے بندوں کو بلاتا ہےسے گمراہ فرمادے اور اسے توفیق نہ دے تو  ﴿فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ ﴾ اے محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ اس کے لیے ہر گز بھی کوئی  ﴿سَبِيْلًا﴾ یعنی اس کے سوا حق کی جانب کوئی راستہ نہیں پائیں گے۔ اور کون سی سبیل اور راستہ ہوسکتا ہے حق کی جانب سوائے اسلام کے؟ اللہ سبحانہ وتعالی نے تو خبر دے دی ہے کہ جو کوئی اسلام کے علاوہ کسی اور دین کا طالب ہوگا تو وہ اس سے ہرگز بھی قبول نہيں کیا جائے گا ، پس جسے اللہ تعالی اسی سے بےبہرہ کردے تو وہ یقیناً گمراہ ہوا جسے اس کے سوا کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔

 


[1] اسے امام النسائی نےاپنی سنن 5037 میں روایت فرمایا اور شیخ البانی نے صحیح النسائی 5052 میں سے صحیح فرمایا ہے۔

2017-06-15T10:47:29+00:00

Articles

Scholars