کیا امانت میں کوتاہی انسان کی توحید پر اثر انداز ہوتی ہے؟ – شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ

کیا امانت میں کوتاہی انسان کی توحید پر اثر انداز ہوتی ہے؟ – شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ

Does a lack of honesty have an effect on one's Tawheed? – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah Aal-Shaykh

کیا امانت میں کوتاہی انسان کی توحید پر اثر انداز ہوتی ہے؟   

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ حفظہ اللہ

(مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: أثر التقصير في أداء الأمانة، في التوحيد، ومفهوم حفظ الأمانة۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: کیا امانت اور اس کی ادائیگی کے تعلق سے کوتاہی کا شکارہونا توحید  پر قدغن لگاتا ہے، اور امانت کی حفاظت کا مختلف انواع کے اعتبار سے کیا مفہوم ہے؟

جواب: امانت کی اصل اور اس کی اساس اللہ تعالی کی توحید ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ  ۭ قَالُوْا بَلٰي، شَهِدْنَا﴾ (الاعراف: 172)

(اور جب آپ کے رب نے بنی آدم سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا ،اور انہیں خود ان کی جانوں پر گواہ بنایا کہ کیا میں واقعی تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا: کیوں نہیں، ہم گواہی دیتے ہيں)

اور فرمایا:

﴿اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ، وَّاَنِ اعْبُدُوْنِيْ، ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَــقِيْمٌ﴾ (یس: 60)

(کیا میں نے تم سے عہد نہيں لیا تھا اے اولاد آدم! کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا، یہی سیدھا راستہ ہے)

پس امانت کی اصل یہی ہے کہ جو بندے کو اللہ تعالی کی توحید اور دین میں اللہ تعالی کے لیے اخلاص اپنانے کی امانت دی گئی ہے، اور یہ پختہ اعتقاد رکھنا کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود برحق نہيں، اور اس کے سوا اوروں کو چھوڑ دینا۔ یہ وہ سب سے عظیم امانت ہے جو بندے کے اپنے نفس کے تعلق سے اسے سونپی گئی ہے۔ پھر اسے اخلاص کی امانت سونپی گئی ہے کہ اس کے تمام اعمال خالص اللہ تعالی کے لیے ہوں جن میں کوئی ریاءکاری اور نمود ونمائش نہ ہو، فرمایا:

﴿فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا﴾ (الکہف: 110)

(پس جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو لازم ہے کہ وہ عمل صالح کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے)([1])

اسی طرح وضوء میں امانت اس طرح سے کہ اچھی طرح سے خوبصورت وضوء کریں، غسل جنابت کریں۔ پھر پنج وقتہ نمازیں ان کے اوقات میں باجماعت ادا کریں، پس یہ بھی آپ کے گلے میں امانت ہيں۔

پھراپنے مال کی زکوٰۃ ادا کریں، اسی طرح آپ کے رمضان کے روزے، بیت اللہ کا حج، والدین سے حسن سلوک، صلہ رحمی، مہمان نوازی، مسلمانوں کے مابین صلح صفائی کی کوشش یہ سب امانتیں ہيں، فرمایا:

﴿وَالَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ﴾ (المؤمنون: 8)

(اور وہی (مومنین) جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی پاسداری ولحاظ رکھنے والے ہیں)

وہ امانتیں ادا کرتے ہيں۔ اگر ان پر کوئی ذمہ داری ڈالی جاتی ہے تو اپنی اس مسئولیت کو مطلوبہ طور پر پورا کرتے ہيں، نہ دھوکہ فریب کرتے ہيں، نہ جھوٹ بولتے، کا م چوری کرتے یا قوانین کو پامال کرتے ہيں، بلکہ وہ اپنے اقوال وافعال میں سچے ہوتےہیں([2]

 


[1] شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی اطاعت کرے اور ان کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کرے، فرمان باری تعالی ہے:

﴿اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا﴾ (النساء: 58)

(بےشک اللہ تعالی  تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں کو ادا کرو)

﴿يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِكُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾ (الانفال: 27)

(اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو، جبکہ تم جانتے ہو)۔  (مختصر مفہوم فتویٰ: تفسير الآية: إنا عرضنا الأمانة) (توحید خالص ڈاٹ کام)

[2] امانت کی مزید مثالوں میں سے یہ مشہور آیت بھی پیش کی جاسکتی ہے:

﴿اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْاِنْسَانُ ۭ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا﴾ (الاحزاب: 72)

(بےشک ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے ، اور انسان نے اسے اٹھا لیا، بلاشبہ وہ ہمیشہ سے بہت ظالم، بہت جاہل ہے)۔

امام ابن جریر الطبری رحمہ اللہ مختلف اقوال اس کی تفسیر میں ذکر کرکے فرماتے ہیں کہ ان میں کوئی تضاد نہيں:

’’ان اقوال میں سے اولیٰ بالصواب ان کا قول ہے جو کہتے ہیں: اس امانت سے مراد اس موقع پر امانت کے تمام معانی ہیں ،دین کے تعلق سے امانت ہو یا لوگوں کے تعلق سے امانت، وہ اس لیے کیونکہ یہاں اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان: ﴿عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ﴾ میں امانت کے بعض معانی کو خاص نہیں فرمایا (یعنی عام رکھا ہے)‘‘اھ (تفسیر الطبری 20/342)۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)