غیب کی ان کنجیوں پر ایمان کس طرح لایا جائے جو سورۃ لقمان کے آخر میں مذکور ہيں – شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ

غیب کی ان کنجیوں پر ایمان کس طرح لایا جائے جو سورۃ لقمان کے آخر میں مذکور ہيں – شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ

How does a Muslim believe in the keys of unseen mentioned at the end of Surah Luqmaan – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah Aal-Shaykh

غیب کی ان کنجیوں پر ایمان کس طرح لایا جائے جو سورۃ لقمان کے آخر میں مذکور ہيں   

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ حفظہ اللہ

(مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: كيفية إيمان المسلم بمفاتح الغيب المذكورة في آخر سورة لقمان۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: اللہ تعالی کا جو یہ فرمان ہے:

﴿اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ  ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا  ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ  ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ﴾ (لقمان: 34)

(بےشک اللہ کے ہی پاس قیامت کا علم ہے، اور وہ بارش برساتا ہے، اور وہ جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹوں میں ہے، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرے گا ، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بےشک اللہ تعالی سب کچھ جاننے والا، پوری اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے)

عملی طور پر ایک مسلمان کس طرح ان باتوں کو دل میں بٹھائے، اور ان پر ایمان لائے؟

جواب: ایک مومن اس پر ایمان لاتا ہے کیونکہ بے شک اللہ تعالی نے اپنی کتاب عزیز میں اس کی خبر دی ہے۔

1-  اللہ تعالی نے یہ بتلایا ہےکہ قیامت کے وقوع پذیر ہونے کا علم صرف اسی کے پاس ہے:

﴿يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا  ۭقُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ   ۚ لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ  ۂ ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ  ۭ لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً  ۭ يَسْــــَٔـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا  قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ﴾ (الاعراف: 187)

(وہ آپ  سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا ؟ کہہ دیجئے اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے، اسے اس کے وقت پر اس کے سوا کوئی ظاہر نہیں کرے گا، وہ آسمانوں اور زمین میں بہت بھاری و بوجھل واقع ہوگی، وہ تم پر نہیں آئےگی مگر اچانک۔ آپ سے پوچھتے تو ایسے ہیں جیسے آپ  اس کے بارے میں خوب تحقیق کرچکے ہيں۔ کہہ دیجئے اس کا علم تو اللہ تعالی ہی کے پاس ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے)

2- اسی طرح سے بارش بھی اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے، وہی اسے برساتا ہے:

﴿وَهُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ ۭ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ﴾ (الشوریٰ: 28)

(اور وہی ہے جو بارش برساتا ہے، اس کے بعد کہ وہ ناامید ہو چکے ہوتے ہیں ،اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، اور وہی کارساز ہے، تمام تعریفوں کے لائق ہے)

اور یہ عالم بارش نازل ہوتے وقت اور بندوں کے اس کے مستحق ہونے پر  ہوتا ہے، اور وہ اسے ایک اندازے سے اتارتا ہے:

﴿وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِي الْاَرْضِ ڰ وَاِنَّا عَلٰي ذَهَابٍۢ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَ﴾ (المؤمنون: 18)

(اور ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ کچھ پانی اتارا، پھر اسے زمین میں ٹھہرایا، اور یقینا ًہم اسے کسی بھی طرح لے جانے پر ضرور قادر ہیں)

3- پھر فرمایا: ﴿وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ﴾

(اور وہ جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹوں میں ہے)

اور وہ رحم (ماں کے پیٹ) کا حال اور انجام جانتا ہے۔ ارحام کو بھی جانتا ہے اور رحم کے حال کو بھی۔اور اس میں پلنے والے جنین اور اس کے مختلف ادوار کو بھی، اس کا حال، حاضر اور مستقبل سب جانتا ہے اور عنقریب اس کے ساتھ کیا کچھ ہوگا وہ سب، کیونکہ بلاشبہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا نُطفة، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ إِلَيْهِ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: بِكَتْبِ رِزْقِهِ، وَعَمَلِهِ، وَأَجَلِهِ، وَشَقِيٌّ، أَوْ سَعِيدٌ‘‘([1])

(بے شک تمہاری پیدائش کی تیاری تمہاری ماں کے پیٹ میں چالیس دنوں تک نطفہ کی صورت میں کی جاتی ہے، پھر اتنے ہی دنوں تک ایک جمے ہوئے خون کے صورت اختیار کئے رہتا ہے، پھر وہ اتنے ہی دنوں تک ایک گوشت کو لوتھڑا رہتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے، اور اسے چار باتوں (کے لکھنے) کا حکم دیا جاتا ہے کہ وہ لکھے: اس کے رزق، اس کے عمل، اس کی مدت زندگی، اور یہ کہ بد بخت ہے یا نیک بخت)۔

کبھی لوگ جان بھی سکتے ہیں کہ رحم میں کیا ہے، اور جنین لڑکی ہے یا لڑکا ہے، تو یہ بات اللہ تعالی کے کمالِ علم کے منافی نہیں، یہ ممکن بات ہے، لیکن رحم کا حقیقی علم جیسے امور کا انجام کار کیا ہوگا تو اس کی صحیح کیفیت بتانے پر کوئی قادر نہيں، نہ اسے اس میں کوئی دخل ہے۔ اگر ہم جانتے ہیں کے رحم میں بچہ ہے یا بچی ہے تو یہ ممکن ہے، لیکن اس کے رزق، بدبخت یا نیک بخت ہونا، امراض وصحت وغیرہ یہ ہم نہيں جانتے، یہ ہیں وہ باتیں جو اللہ تعالی نے اپنے علم غیب میں خاص رکھی ہیں۔اور یہ وہ باتیں ہیں کہ ان میں سے کسی میں بھی مداخلت جائز نہيں ہے۔

4- پھر فرمایا: ﴿وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا﴾

(اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرے گا)

نہیں جا نتا کہ کل وہ کیا کمائے گا، اور کل کیا کچھ ہوجائے گا۔ کیونکہ یہ مجہول ونامعلوم چیز ہے۔ اور یہ امر اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے۔ ہوسکتا ہے آپ نے لمبی امیدیں باندھ رکھی ہوں لیکن کوئی چیز آپ کے اور اس کے درمیان حائل ہوجائے۔ آپ بہت سی امیدیں وابستہ کریں اور کہیں پیسہ پھنسا دیں لیکن قضاء وقدر آپ کی امیدوں کے برخلاف آجائے۔ لہذا ہرحال میں اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہیں۔

5- پھر فرمایا: ﴿وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ﴾

(اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا)

کہا جاتا ہے وہ اس طرح کہ انسان اسی مٹی سے تخلیق ہوا ہوتا ہے جہاں عنقریب اسے موت آنی ہوتی ہے۔ اور کوئی انسان نہيں جانتا کہ وہ کہاں مرے گا، اس کی موت رب العالمین کے پاس لکھی ہوئی ہے او رعمر شمار کی جاچکی ہے۔ اس بات پر مخلوق میں سے کوئی بھی مطلع نہيں ہوسکتا، یہ صرف اللہ عزوجل کے پاس ہے۔ وہ جانتا ہےکہ کوئی نفس کل کیا کمائے گا، اور کس زمین میں اسے موت آئے گی۔ جانتا ہے کہ انسان اللہ کی کس زمین میں مرے گا، بر میں یا بحر میں، یہ سب اللہ رب العالمین ہی جانتا ہے۔ کوئی اس کا احاطہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔

پس ہمیں چاہیے کہ اس پر بہت سچا اور پختہ ایمان رکھیں، کیونکہ ہمیں بلاشبہ رب العالمین نے ہی اس کی خبر دی ہے اور وہ تمام قائلین میں سب سے سچا ہے، اور اللہ تعالی سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہوسکتا ہے۔

 


[1] رواه البخاري فى كتاب القدر، باب فى القدر، برقم (6594)، ومسلم فى كتاب القدر، باب كيفية الخلق الآدمي فى بطن أمه وكتابة رزقه وأجله وعمله وشقاوته وسعادته، برقم (2643)۔