جمعے کے دن کی مبارکباد دینے کا حکم – مختلف علماء کرام

جمعے کے دن کی مبارکباد دینے کا حکم – مختلف علماء کرام

Ruling regarding offering greetings on Friday by saying “Jum’ah Mubarak!” – Various ‘Ulamaa

جمعہ کے دن کی مبارکباد دینے کا حکم   

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: احسن اللہ الیکم، سائل کہتا ہے: کثرت سے یہ جملہ لوگوں میں متداول ہے کہ ’’جمعہ مبارک‘‘ کیا یہ جائز ہے؟

جواب از شیخ احمد بن یحیی النجمی رحمہ اللہ:

ہمیں یہ بات سلف سے نہیں ملتی([1])۔

سوال: ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو ہر جمعے موبائل میسج یا انٹرنیٹ فارمز پرجمعہ مبارک  کہنے کا کیا حکم ہے؟

جواب از شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ:

اس کی کوئی اصل نہیں، اور یہ بدعت ہے۔ جمعے کی دن کی مبارکباد دینا جائز نہيں۔ اس بارے میں کوئی بھی چیز وارد نہیں، نہ ہی یہ سلف کا عمل رہا ہے۔ چناچہ یہ ایک نوایجاد کردہ بدعت ہے۔ اور بدعتی لوگ آج کل موبائلوں اور انٹرنیٹ کا اپنی بدعات کی ترویج کے لیے اس طرح سے خوب استعمال کررہے ہیں ۔

(شیخ کی آفیشل ویب سائٹ سے فتویٰ: حكم التهنئة بقول جمعة مباركة يوم الجمعة)

آپ ہی سے سوال ہوا: جزاکم اللہ خیراً، یہ بھائی آپ سے جمعہ کے دن کی مبارکباد دینے کے بارے میں سوال کرتا ہے  جیسا کہ ہمارا یوں کہنا: جمعہ مبارک! اسی طرح سے جمعے کے دن کو مخصوص کرنا موبائل کے ذریعے میسج بھیجنے کے لیے ، اور اس پیغام کے آخر میں لکھا ہوتا ہےکہ جمعہ کے دن کثرت کے ساتھ دعاء کرو  اور جمعہ مبارک۔۔۔وجزاکم اللہ خیراً؟

جواب: یہ بدعت کو نشر کرنے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے، جمعہ کے دن کی مبارکباد دینے کی کوئی اصل نہيں ۔ اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جمعہ مبارک دن ہے ، اور بہت عظیم دن ہے، اس میں نماز جمعہ ہوتی ہے، اس میں ایک قبولیت ِدعاء کی گھڑی ہوتی ہے، اور اس میں مسلمانوں کا اجتماع ہوتا ہے اور اس کے بہت سے فضائل ہيں۔ لیکن ہم ہر حال میں دلیل کی پیروی کرتے ہيں چناچہ یہ بات کہیں وارد نہیں ہے کہ جمعہ کے دن کی مبارکباد دی جاتی ہو یا اس میں کثرت دعاء کرو۔

مگر درحقیقت آجکل یہ موبائلز بدعتیوں کے بھرپور خدمتگار بن گئے ہیں۔ آپ کو چاہیے کہ اس سے اور جو کچھ اس پر نشر ہوتا ہے اسے چوکنا اور خبردار رہیں([2])۔

سوال: اس بنیاد پر کہ جمعہ کا دن عید کا دن ہے، کیا اس دن کی مبارکبادی دینا جائز ہے جیسے کہ کہا جائے: جمعہ مبارک یا مقبول جمعہ؟

جواب از شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ:

واللہ! ہم ایسی کوئی چیز نہيں جانتے جو اس پر دلالت کرتی ہو۔ البتہ عید الفطر بلکہ عیدین کے متعلق یہ بات صحابہ کرام y سے آئی ہے کہ وہ جب ایک دوسرے سےملتے تو کہتے:

’’تقبل الله منا ومنكم‘‘

(اللہ تعالی ہم سے اور آپ سے قبول فرمائے)۔

یا،

’’تقبل الله طاعتكم‘‘

(اللہ تعالی آپ کی اطاعت وعبادت کو قبول فرمائے)([3])۔

سوال: جمعہ مبارک ! کہنے کا کیا حکم ہے؟

جواب از شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ حفظہ اللہ:

اس کی کوئی اصل نہيں، لوگ موبائل کے ذریعے جمعے کے دن نشر کرتے ہيں کہ جمعہ مبارک۔ جمعہ مبارک تو ہے بلاشبہ، اور اللہ تعالی نے ہمارے لیے اسے خاص فرمایا ہے جبکہ یہود ونصاریٰ اس سے محروم رہ گئے۔لیکن رہا سوال کہ ہر جمعہ کو یوں مبارکبادی دینا؟  تو اس کی میں کوئی اصل وبنیاد نہيں جانتا([4])۔


[1] ویب سائٹ سحاب السلفیۃ پر موجود آڈیو کلپ۔

[2] یوٹیوب پر موجود ویڈیو ’’حكم التهنئه بيوم الجمعة يقال جمعة مباركة وغيره للشيخ صالح الفوزان‘‘سے ماخوذ۔

[3] شرح سنن ابن ماجه.شريط(84)۔

[4] یوٹیوب پر موجود ویڈیو کلپ: حكم قول جمعة مباركة للمفتي الشيخ عبدالعزيز آل شيخ۔

2019-01-11T11:41:22+00:00

Articles

Scholars