The reality of seeking blessing from the hair of the prophet (salAllaho alaihi wasallam) – Shaykh Rabee' bin Hadee Al-Madkhalee

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک سے تبرک لینے کی حقیقت

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: شیخ کی آفیشل ویب سائٹ سے فتوی (فتاوى في العقيدة والمنهج)

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: سائل کہتا ہے جیسا کہ آپ نے ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینے مبارک کا ذکر فرمایا پس کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثارمیں سے کوئی چیز آج باقی ہے جیسا کہ آپ کے بال (موئے مبارک)، اور اگر کوئی چیز موجود بھی ہو تواس سے تبرک کیسے لیا جائے گا؟

جواب: آج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار میں سے کوئی بھی چیز باقی نہیں۔ جو کوئی ان میں سے کسی چیز کے موجود ہونے کا دعویٰدار ہے تو وہ جھوٹا اور خرافات پرست انسان ہے۔

ہم ہندوستان گئے اور ایسے لوگ دیکھے جو یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک موجود ہیں۔ یہ لوگ جھوٹے ہیں اور دجل وفریب کرتے ہیں۔ اسی طرح سے ہم نے دیکھا میرے خیال سے پاکستان یا بنگلہ دیش میں مسجد ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ قدم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود ہیں!

اور دھلی میں ایک مشہور بڑی مسجد ہے جس کا ایک امام ہے جس کا نام بخاری ہے اور وہ بہت مشہور ومعروف ہے۔ یورپ تک سے باقاعدہ مردوزن نیم عریاں لباس میں اس بخاری کی مسجد میں آتے ہیں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار ہیں جن پر قبے کی طرح کچھ بنا ہوا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ بیہودہ عورتوں اور مردوں کا مجمع ہوتا ہےکہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک کے دیدار کے لیے آیا ہوتا ہے۔ میں نے جب اس منکر کو دیکھا تو اس امام کے پاس جاپہنچا اور اسے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ: آپ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلماس مقام پر آئے تھے اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار ہیں؟ اس نے کہا: لوگ ایسا ایسا کہتے ہیں۔ میں نے کہا: میر ےبھائی ہم نے تاریخ پڑھی ہے اور جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معراج میں آ‎سمانوں پر گئے، مکہ سے مدینہ گئے، غزوات کے لیے معروف علاقوں میں گئے اور تبوک بھی گئے۔ لیکن ہم یہ تاریخ میں کہیں نہیں پاتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دھلی آئے ہوں اوراس جگہ ٹھہرے ہوں ۔!! ۔۔۔ پھر میں نے ان کےوالد سے بات کی جب وہ آئے اور میرے ساتھ ایک سلفی بھائی مترجم تھاکہنے لگا (آپ کے جواب میں) یہ لوگ محض بے حیائی سے بلادلیل بے پر کی اڑا رہے ہیں۔

پھر اس سلفی ساتھی نے جو میرے ساتھ تھا بتایا کہ جب ملک سعود رحمہ اللہ  نے ہندوستان کی زیارت کی تھی اور بنارس آئے تھے جو کہ بتوں اور وثنوں (مزاروں) کا مرکز تھا جو کہ ان کے نزدیک کعبے کی طرح ہے۔ اس میں بہت سے بت وغیرہ ہیں۔ جب انہوں نے سنا کہ آپ تشریف لارہے ہیں تو ان بتوں پر کپڑا ڈال کر چھپا دیا، اللہ کی قسم انہوں نے انہیں ڈھک دیا، سبحان اللہ! کیسی یہ توحید کی ہیبت ہے۔

پھر وہ اس مسجد میں آئے نماز پڑھی تو انہو ں نےان سے کہا کہ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک  کے آثار ہیں تو وہ چل دیے اور جان لیا کہ یہ خرافات ہیں۔

ایک توحید پرست کے پاس بصیرت ہوتی ہے اس کے پاس ادراک ہوتا ہے۔ جبکہ اہل بدعت کے پاس بیوقوفی، جہالت وخباثت ہوتی ہے، بارک اللہ فیکم۔

پس دعوے تو بہت سے ہیں ترکی میں بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے پاس موئے مبارک موجود ہے۔اور بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے پاس وہ مصحف سیدنا علی رضی اللہ عنہ موجود ہےجو انہو ں نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھااور جو آخر تک وہ دعوےکرتے ہیں یہ سب جھوٹے دعوے ہیں۔

اللہ تعالی کی ایسی اشیاء کے بارے میں یہی سنت ہے کہ یہ فناء ہوکر ختم ہوجاتی ہیں، اللہ تعالی نے ان کے بارے میں یہی سنت مقرر کی ہے۔