We do not go against Jamat-ul-Muslimeen in any way – Shaykh Saaleh bin Abdul Azeez Aal-Shaykh

ہم کسی طور پر جماعۃ المسلمین کی مخالفت نہیں کرتے   

فضیلۃ الشیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ حفظہ اللہ

(وزیر مذہبی امور، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: شرح العقیدۃ الطحاویۃ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام الطحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’ہم جماعت المسلمین کی مخالفت نہيں کرتے‘‘۔

’’جماعت المسلمین‘‘([1]) یہ کلمہ ان عظیم کلمات میں سے ہے جو کتب اہل سنت میں وارد ہوتا ہے اور ان کے عقائد میں۔ اور ان کے نزدیک جماعت سے مراد دو انواع ہیں:

پہلی نوع: دین کی جماعت۔

دوسری نوع: ابدان کی جماعت([2])۔

اور ان دونوں سے التزام کا حکم ہے، اور ان دونوں سے تمسک اختیار کرنا مطلوب ہے، یعنی جماعت المسلمین سے تمسک ان کے دین میں، اور جماعت المسلمین سے تمسک ان کے ابدان میں (یعنی دینی اور جسمانی وحسی طور پر مجتمع رہنا)۔

اور الجماعۃ کے مقابل الفرقہ (تفرقہ) ہے۔ ہم نے کیوں جماعت الدین اور جماعت الابدان کی تقسیم کی؟ کیونکہ نصوص میں لزوم جماعت کا حکم آیا ہے اور نصوص میں تفرقے کی ممانعت بھی آئی ہے۔ اور جو تفرقے کی نہی ہے تو وہ دونوں طرح کی ہے دین میں تفرقے کی بھی نہی ہے اور ابدان میں بھی علیحدگی کی نہی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ﴾ (الشوری: 13)

(اس دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو، جدا جدا نہ ہو)

اس میں یعنی دین میں، اور دین میں تفرقے کا نتیجہ ابدان میں تفرقہ ہوتا ہے، لہذا ان دونوں کا آپس میں باہمی تعلق ہے۔چناچہ ابدان میں باجماعت رہنے سے دین میں اجتماع کو تقویت ملتی ہے، جبکہ ابدان میں تفرقے وجدائی سے دین میں تفرقہ حاصل ہوتا ہے، اسی طرح دین میں اجتماع سے ابدان میں اجتماع حاصل ہوتا ہے، لہذا یہ دونوں ایک دوسرے کے حصول کا باعث ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ جب باطل عقائد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں ظاہر ہوئے ، اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی، تو پھر ابدان میں بھی تفرقہ ہونےلگا، اور آئمہ (حکام) پر خروج ہوا اور اس جیسی باتیں رونما ہوئيں۔ لہذا یہ اور وہ  ایک دوسر ےکی طرف لے جاتے ہیں (یعنی دین میں تفرقہ ابدان میں تفرقے کی طرف، اور ابدان میں تفرقہ دین میں تفرقے کی طرف)۔ چناچہ امام الطحاوی رحمہ اللہ کا یہاں یہ فرمانا کہ:

’’ہم جماعت المسلمین کی مخالف نہیں کرتے‘‘۔

یہ ایک عظیم عقیدہ ہے جو ہر اس مسلمان پر جو اہل سنت والجماعت کا عقیدہ رکھتا ہے واجب ہے کہ وہ اس کا خاص اہتمام کرے۔ پس جماعت المسلمین کا مطلب ہے دین میں جماعت واجتماع اس کا التزام وپابندی واجب ہے، اور اس چیز پر خروج نہ کیا جائے جس پر صحابہ رضی اللہ عنہم قائم تھے، اور جس پر سلف صالحین وآئمہ دین چلتے آئے ہيں۔ اسی طرح سے ابدان میں جماعت اس طرح سے ہوتی ہے کہ جماعت المسلمین سے لزوم اختیار کیا جائے، اور ان کے ولی امر (حکمران) سے، اور حکومت کی اطاعت  کو نہ چھوڑا جائے، اور معروف میں سمع وطاعت کی جائے، اس بات پر بھی اجتماع ہونا واجب ہے، اور اس پر متحد ہونا۔ یہی وہ عقیدہ ومنہج تھا جس پر آئمہ اسلام رحمہم اللہ قائم تھے۔

پس جو کوئی بھی عقائد اسلام میں سے کسی عقیدے کی مخالفت کرتا ہے تو فی الواقع وہ جماعت المسلمین کی مخالفت کرتا ہے۔ یعنی جماعت المسلمین جس چیز پر قائم تھی جماعت کے بگاڑ سے پہلے  جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں وہ جس چیز پر قائم تھی۔ اور امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب اغاثۃ اللھفان کے شروع میں فرمایا کہ ایک شخص بھی زمانوں میں سے کسی زمانے میں اکیلا ہی جماعت ہوسکتا ہے، اگر وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عقیدے کے موافق اعتقاد رکھتا ہے، اور تابعین وآئمہ اسلام رحمہم اللہ کے عقیدے کے مطابق، جبکہ اس کے ساتھ اور کوئی نہ ہو، تو وہ خود ہی جماعت ہے، اگرچہ تمام لوگ اس کی مخالفت ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔ کیونکہ بلاشبہ جماعت کا معنی ہے: جو الجماعۃ کے ساتھ موافق ہو اپنے اعتقاد میں تو وہ جماعت ہے۔ چناچہ امام احمد رحمہ اللہ کے زمانے میں خلقِ قرآن کے قول کا فتنہ ہوا جس میں امام احمد رحمہ اللہ اور جو ان کے ساتھ تھے اس وقت کے امراء کے سامنے اس عقیدے پر ڈٹ گئے، اور انہوں نے اسی چیز کو مقرر کیا اور مانا جس پر جماعت المسلمین تھی، تو پھر یہی جماعت تھے اور جو ان کے مخالفین تھے اکثر الجماعۃ کے مخالف تھے۔ اور یہ بہت اہم مسئلہ ہے کہ الجماعۃ بمعنی عقیدہ اس طور پر ہوتا ہے کہ جس پر الجماعۃ تھی اپنے عقیدے میں اس پر رہا جائے۔

پس جماعت کا اطلاق دو طرح سے ہے:

پہلا اطلاق: الجماعۃ بمعنی عقیدۂ سلف پر اجتماع، کہ جو کوئی بھی اس اعتقاد پر ہو، تو وہ عقیدے میں الجماعۃ ہے، اگرچہ اکیلا ہی کیوں نہ ہو۔

دوسرا اطلاق: ابدان میں الجماعۃ جس کا مطلب ہے کہ امام المسلمین اور اس کی جماعت سے لزوم اختیار کیا جائے۔ اور اگر نہ جماعت المسلمین ہو نہ ان کا امام  تو پھر ان تمام فرقوں سے علیحدگی اختیار کی جائے۔ اور بصیرت کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرتا رہے، اس صورت میں اس نے وہ حق ادا کردیا ہے جو اس پر واجب تھا([3])۔

ہر طالب علم پر واجب ہے کہ وہ اس کلمے کو خود بھی اپنے پلے باندھ لے اور دوسروں کو بھی اس کی اس کی وصیت کرتا رہے۔ کیونکہ یہ ان عظیم باتوں میں سے جس سے بندہ اپنے رب کا تقرب حاصل کرتا ہے کہ وہ جماعت کے ساتھ ہو۔ اور اس وجہ سے بھی کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گمراہ فرقوں کا جب ذکر فرمایا اور انہیں جہنم کی آگ کی وعید سنائی تو یوں فرمایا کہ:

’’لَتَفْتَرِقَنَّ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَنْ هُمْ؟ قَالَ: الْجَمَاعَةُ ‘‘([4])

(میری امت بھی ضرور تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، پس ان میں سے ایک جنت میں جائے گا، جبکہ بہتّر (جہنم  کی )آگ میں۔ کہا گیا: یا رسول اللہ! وہ کون ہوں گے؟ فرمایا: الجماعۃ)۔

اور دوسری روایت میں فرمایا:

’’يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنِ السَّوَادُ الأَعْظَمُ ؟ قَالَ: مَنْ كَانَ عَلَى مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي‘‘([5])

(یا رسول اللہ! سواد اعظم کون ہیں؟ فرمایا: جو اس چیز پر ہوں گے جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں)۔

یا اس جیسے الفاظ۔

اور پہلی روایت اسناد کے اعتبار سے جید ہے، اس میں فرمایا:

’’هي الْجَمَاعَةُ‘‘

(وہ الجماعۃ ہیں)۔

یعنی جس چیز پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے جو اس پر ہیں، اور جو ان کے منہج پر چلتے ہیں۔ اور یہ ایک عظیم وعدہ ہے کہ  : ’’وہ سب کے سب آگ میں ہيں سوائے ایک کے‘‘۔ تو پھر اگر کسی شخص کو کسی مسئلے میں کوئی اشتبہ واشکال ہوجائے تو اس پر کیا واجب ہوتا ہے؟ اس پر یہ واجب ہوجاتا ہے کہ وہ دین میں جو یقینی باتیں ہیں ان کو لے، اور آئمہ اسلام کے عمل سے جو یقینی باتیں ہيں ان کو لے، اور جو اہل سنت والجماعت کے صحیح عقائد پر مشتمل کتب مدون ہیں ان سے لے، اور جس بارے میں اسے اشتبہ واشکال ہے اسے چھوڑ دے۔ کیونکہ بلاشبہ اللہ عزوجل کی کچھ حدود ہيں جیساکہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے:

’’الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ‘‘([6])

(حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، جبکہ ان دونوں کے مابین کچھ مشتبہ امور ہیں)۔

یعنی فی نفسہ مشتبہات ہیں اس شخص پر جو انہیں چاہتا ہے، یا جو ان میں نظر کرتا ہے، اور صحیح بخاری کی دوسری روایت میں ہے کہ:

’’وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ‘‘([7])

یعنی اللہ تعالی نے انہیں اس طرح کیا ہے تاکہ اپنے بندوں کا امتحان لے۔ جیسا کہ بعض کلام محکم آتا ہےاور بعض متشابہ۔ چناچہ متشابہات کے متعلق فرمایا:

’’فَمَنِ اتَّقَى الْمُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ‘‘

(جو ان متشابہات سے بچا اس نے اپنے دین وعزت کو بچالیا)۔

یعنی عہدہ براء ہوگیا اور یہ واجب ہے تاکہ کوئی بھی متشابہات میں نہ پڑے، یہ کہتے ہوئے کہ: میں اسے نہيں جانتا تھا، کیونکہ اگر وہ آپ پر مشتبہ تھا تو اسے چھوڑدیتے یہی آپ کے دین کے لیے زیادہ سلامتی کا باعث ہے، خصوصاً جماعت کے مسائل کے تعلق سے، اور اعتقاد کے مسائل اور اختلاف کے مسائل کے بارے میں، کیونکہ بے شک آپ کو اندازہ ہی نہيں کہ یہ باتیں آپ کو کہاں تک پہنچادیتی ہيں۔ خوارج کو دیکھ لیں ان کے ساتھ بعض ایسے لوگ بھی ہوگئے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں پیدا ہوئے لیکن وہ ان (خوارج) میں سے نہيں تھے، مگر ان پر انہوں نے معاملہ مشتبہ اور خلط ملط کردیا جیسا کہ محمد بن ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہما تھے، ان کی والدہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے انہيں حج کے موقع پر جنم دیا یعنی حجۃ الوداع کے، اس میں ان کا وضع حمل ہوا تو محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے  یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہی ان کی ولادت ہوئی۔ مگر حال یہاں تک پہنچا کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے اس اشتبہ کی قوت کے سبب، دیوار پھلانگ کر ان کے گھر میں داخل ہوگئے اور شدت کے ساتھ ان کی داڑھی سے پکڑا، جس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہيں نصیحت فرمائی تو محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہما رو پڑے اور انہوں نے یہ سب ترک کردیا([8])۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل ہوا۔ وہ گمراہی پھیلاتا ہے جو کہتا ہےکہ جنہوں نے ان کا قتل کیا یا اس میں معاونت کی وہ محمد بن ابی بکررضی اللہ عنہما تھے۔

مقصود یہ ہے کہ بلاشبہ جو مشتبہ مسائل ہوتے ہیں وہ کبھی کبھار بڑی بڑی ہستیوں تک پر مشتبہ ہوجاتے ہیں، پس ایک طالبعلم جو اپنے دین کی سلامتی چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہی اعتقاد رکھے جس پرالجماعۃ ہے، اس چیز کی مخالفت نہ کرے جس پر جماعت المسلین ہے۔ اور یہ طلب علم کے عظیم فوائد میں سے ہے: کہ انسان اس بات کو جان لیتاہے جس کے ذریعے وہ اپنے دین کو سلامت رکھ سکے، اور بروز قیامت فرقۂ ناجیہ میں شامل ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’وہ سب کے سب آگ میں جائيں گے سوائے ایک کے، انہوں نے عرض کی: وہ ایک کون سا ہوگا یا رسول اللہ؟ فرمایا: وہ الجماعۃ ہوگا‘‘۔

یہ وہ چیز ہے جس کی رغبت آپ عقیدے کے طلب علم رکھنے والوں میں سے ہر کوئی رکھتا ہے، کیونکہ اسی کے ساتھ دلوں کی سلامتی ہے، عمل کی سلامتی ہے، یقین سے نکل کر گمراہ فرقوں  میں داخل ہوجانے سے سلامتی ہے، اور جماعت کے طریقے کا التزام ہے۔ چناچہ یہ جو کلمہ ہے یعنی امام طحاوی رحمہ اللہ کا یہ فرمان:

’’ہم جماعت المسلمین کی مخالفت نہيں کرتے‘‘۔

ایک عظیم کلمہ ہے یعنی ہم نہ عقیدے میں ان کی مخالفت کرتے ہيں، نہ ان کی اقوال میں مخالفت کرتے ہیں، اسی طرح سے ہم جماعت المسلمین کو ابدان کے اعتبار سے بھی نہيں چھوڑتے، کیونکہ یہ اہل سنت والجماعت کے عقیدے کے اصول میں سے ہے جو کہ کتاب وسنت کے تابع ہے،اور ان سے ہرگز بھی باہر نہيں۔

 


[1] عام اردو لکھت کے موافق ہم کبھی جماعت میں ’’ت‘‘ کا استعمال کرتے ہیں تو کبھی عربی کے موافق ’’ۃ‘‘ لہذا اسے ملحوظ رکھا جائے کہ اس سے ایک ہی مراد ہے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[2] دیکھیں: العزلۃ للخطابی ص 5-6۔

[3] جیسا کہ صحیح بخاری 3606 اور صحیح مسلم 1847 میں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے کہ فرمایا:

’’كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏وَفِيهِ دَخَنٌ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَمَا دَخَنُهُ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَوْمٌ يَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏صِفْهُمْ لَنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا، ‏‏‏‏‏‏وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ.‘‘

(لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خیرکی بابت سوال کیا کرتے تھے جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شر کے متعلق دریافت کیا کرتا تھا، اس خوف سے کہ کہیں وہ مجھے پانہ لیں۔ چناچہ میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول !  ہم جاہلیت اور شر میں تھے  پس اللہ تعالی ہمارے لیے یہ خیر لے آیا ، تو کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ میں نے پوچھا کہ کیا اس شر کے بعد پھر سے خیر ہوگی؟  آپ نے فرمایا: ہاں لیکن اس میں دخن (دھبہ) (دلوں میں میل) بھی ہوگا۔ میں نے پوچھا: اس کا دخن کیا ہوگا؟ فرمایا: ایسی قوم ہوگی جو میری ہدایت کے علاوہ کسی اور ہدایت کو اپنا لیں گے، ان کی کچھ باتیں تمہیں بھلی معلوم ہوں گی اور کچھ منکر۔  میں نے کہا کہ کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہوگا؟ فرمایا: ہاں، ایسے داعیان ہوں گے جو جہنم کے دروازوں کی طرف دعوت دیں گےجو ان کی دعوت قبول کرلے گا وہ اسے جہنم واصل کروادیں گے۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے ان کے اوصاف بیان کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہماری ہی قوم میں سے ہوں گے اور ہماری ہی زبان بولتے ہوں گے۔ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کیا حکم دیتے ہیں اگر میں انہیں پالوں؟ فرمایا: تم جماعۃ المسلمین اور ان کے امام کو لازم پکڑو۔ میں نے کہا: اگر ان کی کوئی جماعت ہی نہ ہو اور نہ ہی امام؟  فرمایا: تو پھر ان تمام فرقوں سے علیحدہ ہوجانا اگرچہ تجھے درخت کی جڑیں چبا کر ہی گزارا کیوں نہ کرنا پڑے، یہاں تک کہ تجھے اسی حال میں موت آجائے)۔

[4] اسے امام ابن ماجہ نے اپنی سنن 3992 میں روایت فرمایا اور شیخ البانی نے صحیح ابن ماجہ 3241 میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

[5] اخرجہ الدیلمی (5/301)، واخرجہ ایضاً: ابن حبان فی الضعفاء (2/225، ترجمۃ 899 کثیر بن مروان)، وقال: منکر۔

[6] اخرجہ البخاری (2051) باختلاف، واخرجہ مسلم (1599)، وھذا لفظہ۔

[7] اخرجہ البخاری (52)۔

[8] اس قصے کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے قصے کے ضمن میں ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف 7/520 میں روایت کیا۔ دیکھیں: فضائل الصحابۃ للامام احمد (1/472)، تاریخ دمشق (39/418،419)، اخبار المدینۃ لابن شبہ (2/279)، الاستعیاب (3/1044) اور تھذیب الکمال (19/454)۔