جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا کا شرعی حکم؟ – مختلف علماء کرام

جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا کا شرعی حکم؟ – مختلف علماء کرام

Shari'ah ruling regarding celebrating Prophet's birthday (Melaad) – Various 'Ulamaa

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانےکا شرعی حکم

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: شیخ ابن باز، ابن عثیمین، البانی، الفوزان اور فتوی کمیٹی کے کلام سے ماخوذ

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

اصل محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جشن میلاد منانے میں نہیں بلکہ شریعت وسنت کی اتباع، تمسک، دعوت ، استقامت، بدعت واہل بدعت سے نفرت میں ہے۔

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بدعت قرون ثلاثہ وہ تین نسلیں جن کے حق پر ہونے کی گواہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی یعنی صحابہ ، تابعین، تبع تابعین میں میلاد کا وجود نہیں تھا بلکہ میلاد کو چوتھی صدی ہجری میں شیعہ فاطمیوں نے ایجاد کیا۔

اس کی بدعت ہونے کا انکار صرف جاہل یا متعصب ہی کرتا ہے، جاہل کو دلیل کے ذریعہ رشد وہدایت کی جانب دعوت دی جائے جبکہ متعصب کے ہدایت کی دعاء کی جائے۔ہمیں دلیل کی پیروی کرنی چاہیے ناکہ کسی جاہل یا اندھے مقلد و مذہبی متعصب کی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان گرامی ہے:

’’إِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي، وَسَنَةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، فَتَمَسَّكُوا بِهَا، وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ مُحْدَثَاتِ الأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ‘‘([1])

(تم میں سے جو میرے بعد زیادہ عرصے زندہ رہے گا تو وہ بہت اختلاف دیکھے گا ، تمہیں میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا چاہیے، اسے اپنے جبڑوں کے دانتوں سے مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہو۔ اور (دین میں)  نئے نئے کاموں سے بچو، کیونکہ دین میں ہر نیا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے)۔

مکمل تفصیل مقالے میں پڑھیں ۔ ۔ ۔


[1] صحیح ترمذی 2676 وغیرہ۔