ایسے سلفی نوجوانوں کا کیا حکم ہے جو اسلامی تحریکوں اور فتنہ باز داعیان سے جڑے رہتے ہیں؟ – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

ایسے سلفی نوجوانوں کا کیا حکم ہے جو اسلامی تحریکوں اور فتنہ باز داعیان سے جڑے رہتے ہیں؟ – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

What is the ruling on those Salafi youth who remain attached to Islamic movements and Fitnah-making callers – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

ایسے سلفی نوجوانوں کا کیا حکم ہے جو اسلامی تحریکوں اور فتنہ باز داعیان سے جڑے رہتے ہیں؟   

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: کیسٹ بعنوان: أسئلة في المنهج۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: آپ کا ایسے سلفی نوجوانوں کے متعلق کیا کہنا ہے جو اسلامی تحریکوں اور فتنہ باز داعیان سے جڑے رہتے ہیں، اور جب انہيں نصیحت کی جائے تو وہ نصیحت قبول نہیں کرتے، اور اپنی اس دعوت میں لگے رہتے ہيں، کیا ایسوں سے خبردار کرنا چاہیے اور ان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے، اور کیا ایسے لوگ سلفیت سے خارج ہيں، جزاکم اللہ خیراً؟

جواب: بسم الله والحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه ومن اتبع هداه وبعد:

اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے:

﴿ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ (النحل: 125)

(آپ اپنے رب کی راہ کی طرف دعوت حکمت اور بھلی نصیحت کے ذریعہ دیجئے، اور ان کے ساتھ اس طریقہ سے بحث وجدال کیجئے جو بہت اچھا ہو)

جو کوئی اس مسلک اور طریقے پر چلتا ہو ساتھ میں سلفیت کا بھی دعویدار ہو تو اسے پہلے نصیحت کریں، سب سے پہلے نصیحت کریں کیونکہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کوتاہ علمی کا شکار ہوتا ہے، اس تحریک کے دھوکے میں آگیا ہوتا ہے جس سے وہ جڑا ہوا ہے، تو چاہیے کہ اسے نصیحت کی جائے حکمت اور اچھے طور پر وعظ کرتے ہوئے، اور اسے سلف صالحین کا منہج یاد دلایا جائے ان کے عقائد میں، عبادات میں، سنت کی نصرت اور دفاع میں اور اہل فتن سے دوری اختیار کرنے میں۔ اس کے سامنے ان سب باتوں کی وضاحت کریں  اور بتائیں کہ یہ منہج سلف صالحین ہے۔غالبا ًاس قسم کے لوگ فریب خوردہ ہوتے ہیں، لہذا اگر ان کے سامنے حق واضح ہوجائے تو وہ حق کی جانب رجوع کرلیتے ہيں۔

البتہ ان لوگوں میں یعنی جن کی آپ نے حالت بیان کی کہ وہ سلفی منہج پر ہیں لیکن اہل فتن کے داعیان، ساتھی اور مددگار بن چکے ہيں، اگر ان لوگوں میں سے کسی کے قدم مضبوطی سے باطل میں گڑھ چکے ہيں، کہ جو باطل پر مصر رہتے ہیں اور ہٹ دہرمی کا مظاہرہ کرتے ہيں، اور ایسے لوگ ان کی طرف دعوت دیتے ہيں، ان کی کتب وکیسٹیں نشر کرتے  اور پھیلاتے ہيں، تو پھر یہ واقعی بدعت کی طرف دعوت دینے والے ہیں، لہذا ضروری ہے کہ ان سے تحذیر (خبردار) کیا جائے اور لوگوں کو ان سے متنفر کیا جائے۔ کیونکہ بلاشبہ یہ شر کی طرف دعوت دیتا ہے، اس کے بارے میں یہ کم سے کم حکم ہے کہ بلاشبہ وہ عاصی (نافرمان وگنہگار) ہے، وہ ایک عام معصیت سے بڑھ کر کام کررہا ہے  کہ وہ باقاعدہ گمراہی اور فتنے کی طرف دعوت دے رہا ہے۔ چناچہ اس نوع کے افراد سے خبردار کرنا ، ان سے دوری اختیار کرنا چاہیے۔

پھر اس کے بعد دیکھا جائے کہ اس کے پاس کونسا عقیدہ ہے ، اگر وہ عقیدے میں اس درجے کا منحرف ہوا ہے کہ جو اس کی تبدیع (بدعتی قرار دیے جائے) کا تقاضہ کرتا ہے ، اگر ہم یہ جان لیں کہ اس کا عقائدی انحراف جس میں وہ تساہل کا شکار ہوا ہے تبدیع کا متقاضی ہے تو اس کی تبدیع کی جائے گی، بلاشبہ۔

لہذا یہ جو امور ہيں ان میں ہر فرد کے بارے میں تأمل وغوروفکر کی ضرورت ہوتی ہے، ان سب پر حکم لگانے میں جلدی نہيں کرنی چاہیے، اور سب پر ایک ساتھ ہی حکم لگا دینا کہ یہ بدعتی ہیں اور ان سے ہجر (بائیکاٹ) کرنا اور قطع تعلق کرنا واجب ہے، نہيں شروع میں ہی ایسا نہيں کرنا۔ بلکہ یہ معاملہ اس طرح ہے جیسا کہ ہم نے ابھی آپ کے سامنے بیان کیا، بارک اللہ فیکم۔ یہ وہ سبیل وراستہ ہے جو ہمیں اس قسم کے لوگوں کے بارے میں اپنانا چاہیے۔

2016-11-03T07:46:07+00:00

Articles

Scholars