بدعتیوں کی جانب سے جانی خطرے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

بدعتیوں کی جانب سے جانی خطرے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

What should be done when there is a threat to one's life from innovators? – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

بدعتیوں کی جانب سے جانی خطرے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟   

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: کیسٹ بعنوان: إن الله لا ينزع العلم انتزاعا۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: فضیلۃ الشیخ ہم سلفی بھائی لوگوں کو بدعتیوں کی دعوت سے خبردار کرتے ہیں، لیکن خدشہ ہوتا ہے کہ عنقریب بدعتی لوگ ہمیں شدت کے ساتھ مار پیٹ کریں اگر ہم یہ کہيں کہ بلاشبہ ان کی جماعتیں بدعتی جماعتیں ہیں، اور ان کا فرقہ بلاشبہ بہتّر گمراہ فرقوں میں سے ہے، اور ساتھ میں وہ ہمیں منع بھی کرتے ہیں کہ ہم سلفی دعوت پر بات کریں، اور ہم یہاں اپنے علاقے میں اقلیت میں ہیں، جبکہ بدعتیوں کے پاس بڑے عہدے اور بہت تعلقات ہيں۔ لہذا اس صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے، کیا ہم اسی طرح اپنی دعوت کو جاری وساری رکھیں اگرچہ مارپیٹ کا خطرہ رہے، یا پھر اگر وہ ہمیں مارپیٹ کرتے ہیں تو کیا ہمارے لیے جائز ہے کہ ہم اپنے قریبی علاقوں کے سلفی بھائیوں سے کہيں کہ وہ ان کا شدت کے ساتھ رد کریں، اور اس کے برعکس  حالت میں کیا ہمارے لیے جائز ہےکہ ہم پولیس اسٹیشن تک اس بات کو لے کر جائيں تاکہ ہم ان لوگوں سے اپنا تحفظ کرسکیں اور بڑے فتنے سے بچ سکیں، پس آپ ہمیں اس بارے میں کیا نصیحت فرماتے ہیں، بارک اللہ فیکم؟

جواب: آپ کو چاہیے کہ منہج انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام پر گامزن رہیں۔ سب سے پہلے دعوت الی اللہ حکمت کے ساتھ دیں جیساکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ (النحل: 125)

(آپ اپنے رب کی راہ کی طرف دعوت حکمت اور بھلی نصیحت کے ذریعہ دیجئے، اور ان کے ساتھ اس طریقہ سے بحث وجدال کیجئے جو بہت اچھا ہو)

اس عظیم منہج کو اپنا نصب العین بنائيں، اس سے ہرگز بھی باہر نہ نکلیں۔ اور صبر سے آراستہ ہوں، جیسا کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا:

﴿فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ﴾ (الاحقاف: 35)

(پس صبر کیجئے جس طرح اولو العزم (پختہ ارادے والے  اور بلند حوصلہ) رسولوں نے صبر کیا، اور ان کے لیے جلدی کا مطالبہ نہ کریں)

پس ہم انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے وارث ہيں کہ ان کی میراث کو اٹھاتے ہيں جو کہ علم ہے، جو کہ وہ وحی ہے جو خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنچا کر گئے۔ وہ ہمارے لیے نمونہ ہيں حکمت میں، صبر میں اور دعوت کی تمام مطلوبہ باتوں میں۔

میرے خیال سے آپ کو پولیس تک نہيں جاناچاہیے نہ کسی اور تک، نہ ہی دوسروں سے استدعاء کرو کہ وہ ان کا سامنے کریں یا لڑائی جھگڑا کریں، کیونکہ یہ دعوت کے چہرے کو بگاڑنےکا سبب ہوگا، لیکن میرا یہ خیال ہے کہ اگر آپ لوگ حکمت، صبر اور اخلاق عالیہ کے زیور سے آراستہ ہوں گے تو یقیناً لوگ ان شاء اللہ آپ کی دعوت کی طرف لپکیں گے اور اسے قبول کریں گے، ان شاء اللہ، جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے:

﴿وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ، وَمَا يُلَقّٰىهَآ اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَآ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ، وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ ۭاِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ﴾ (فصلت: 34)

(اور نیکی اوربرائی آپس میں کبھی برابر نہیں ہوسکتیں۔ (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹاؤ جو سب سے اچھا ہو، (جس کا نتیجہ یہ ہوگا) کہ اچانک وہ شخص کہ تمہارے اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوجائے گا جیسے وہ کوئی  دلی دوست ہو، اور یہ چیز نہیں دی جاتی مگر انہی کو جو صبر کریں اور یہ نہیں دی جاتی مگر انہی کو جو بہت بڑے نصیب والے ہوں، اور اگر کبھی شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ آپ کو  ابھارہی دے تو اللہ کی پناہ طلب کریں، بلاشبہ وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے)۔

2016-10-25T10:29:12+00:00