Taking accountability of oneself in these fast passing days – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah Aal-Shaykh

ان تیزی سے گزرتے دنوں میں اپنے نفس کا محاسبہ کرنا   

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ حفظہ اللہ

(مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: كلمة توجيهية عن سرعة الأيام

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: امید کرتے ہيں کہ آپ حفظہ اللہ اس پروگرام کے آغاز میں ان تیزی سے گزرتے دنوں کے بارے میں ذکر کریں گے جبکہ ہم ابھی گزرے سال کو الوداع کہہ رہے ہيں اور نئے سال کا استقبال کررہے ہیں، اور اس میں کیا حکمت ہے ،ساتھ ہی ایک شخص کس طرح اپنے نفس کا محاسبہ کرسکتا ہے؟

جواب: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكَ عَلَى عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وأصَحْابِهِ أَجْمَعِينَ، وَعَلَى مَنْ تَبِعَهُمْ بإحسانٍ إلَى يومِ الدِّينِ.

اللہ عزوجل نے ہمیں پیدا فرمایا، رزق دیا اور اپنی کتاب عزیز میں یہ خبر دی کہ وہ عنقریب تمام مخلوقات کو ایک ایسے دن میں جمع کرنے والا ہے جس میں کوئی شک نہيں:

﴿رَبَّنَآ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيْهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ﴾ (آل عمران: 9)

(اے ہمارے رب ! بےشک تو سب لوگوں کو اس دن کے لیے جمع کرنے والا ہے جس میں کوئی شک نہیں، بےشک اللہ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا)

اور فرمایا:

﴿يَوْمَ تَاْتِيْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا﴾ (النحل: 111)

(جس دن ہر شخص اس حال میں آئے گا کہ بس اپنی طرف سے جھگڑ رہا ہوگا)

اور اللہ تعالی نے ہمیں خبر دی کہ بلاشبہ یہ دنیا ختم ہونے والی ہے اور یہ حیات بھی ختم ہوجائے گی، فرمان باری تعالی ہے:

﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ  ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ، كُلُّ نَفْسٍ ذَاىِٕقَةُ الْمَوْتِ ۭ وَنَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً  ۭ وَاِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ﴾ (الانبیاء: 34-35)

(اور ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی بشر کے لیے ہمیشگی نہیں رکھی، سو کیا اگر آپ مرجائیں تو یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں؟!  ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم تمہیں آزمانے کے لیے برائی اور بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں، اور تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے)

اور فرمایا:

﴿كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ، وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ﴾ (الرحمن: 26-27)

(ہر ایک جو اس (زمین) پر ہے، فنا ہونے والا ہے، اور تیرے رب کا چہرہ (اور ذات) ہی باقی رہے گی، جو بڑی شان اور عزت والا ہے)

پس دنیا گزرنے کی جاہ ہے ناکہ ہمیشہ رہنے کی،دارِ عمل ہے دارِ جزاء نہیں، جبکہ آخرت ہمیشہ رہنے کی جاہ اور دارِ جزاء ہے۔ ایک شخص کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالی سے ملاقات کے لیے تیار رہے۔ آل فرعون میں سے جو شخص ایمان لایا تھا اس نے اپنی قوم سے کہا:

﴿يٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ ۡ وَّاِنَّ الْاٰخِرَةَ هِىَ دَارُ الْقَرَارِ، مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَهَا ۚ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فأولئك يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُوْنَ فِيْهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ (غافر: 39-40)

(اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگانی تو متاعِ فانی ہےاور یقینا ًآخرت:  وہی رہنے کا گھر ہے، جس نے کوئی برائی کی تو اسے ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا اور جس نے کوئی نیک عمل کیا، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہوا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اس میں بےحساب رزق دیے جائیں گے)

پس اے بھائی! دن تو گزرتے جارہے ہیں ، اور ہر انسان کو وہ مل رہا ہے جو اس کے لیے مقدر کیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَكًا بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ فَيُكْتَبُ عَمَلُهُ وَأَجَلُهُ وَرِزْقُهُ وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ‘‘([1])

(بے شک تم میں سے ایک اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک (نطفے کی صورت میں) تیار ہوتا ہے، پھر وہ اتنے ہی دنوں تک ’’عَلَقَةً‘‘ یعنی غلیظ اور جامد خون کی صورت میں رہتا ہے۔ پھر اتنے ہی دنوں کے لیے ’’مُضْغَةً‘‘ (گوشت کے لوتھڑا) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چار باتوں (کے لکھنے) کا حکم دیتا ہے۔ اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کے عمل، اس کا رزق، اس کی مدتِ زندگی اور یہ کہ بد ہے یا نیک، لکھ لے)۔

یہ تمام باتیں واضح طور پر اللہ تعالی کی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں جو اس کے علم کے ساتھ خاص ہیں:

﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ  ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا، وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ، اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ ﴾ (لقمان: 34)

(بےشک اللہ، اسی کے پاس قیامت کا علم ہے، اور وہ بارش برساتا ہے، اور وہ جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹوں میں ہے، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرے گا ، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بےشک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے)

اور اللہ تعالی فرماتے ہیں:

﴿ وَلَنْ يُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَاءَ اَجَلُهَا، وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ﴾ (المنافقون: 11)

(اور اللہ کسی جان کو ہرگز مہلت نہیں دیتا جب اس کا وقت آجائے، اور اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کر تے ہو)

مہینوں، سالوں اور دنوں کا گزرنا بندے کو خبردار کرنے کے لیے ہے کہ یہ دنیا کی زندگانی ختم ہونے کو ہے، اور اس زمین کی پشت پر کسی کوباقی نہيں رہنا، موت ضرور آنی ہے، فرمان باری تعالی ہے:

﴿قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِيْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِيْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴾ (الجمعۃ: 8)

(کہہ دیجئے کہ بلاشبہ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو، سو یقیناً وہ تم سے ملنے والی ہے، پھر تم ہر پوشیدہ اور ظاہر چیز کو جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے، تو وہ تمہیں بتادےگا جو کچھ تم کیا کرتے تھے)

اور فرمایا:

﴿ اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ ﴾ (النساء: 78)

(تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں پا لے گی، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو)

لہذا ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی اس زندگی کو غنیمت جانتے ہوئے اسے ان کاموں میں استعمال کریں جس سے اللہ تعالی ہم سے راضی ہو۔ نیک کاموں کی طرف جلدی کرو اور لپکو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:

’’هَلْ يَنْتَظِرُ أَحَدُكُمْ إِلا غِنًى مُطْغِيًا، أَوْ فَقْرًا مُنْسِيًا، أَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا، أَوْ هَرَمًا مُفَنِّدًا، أَوْ مَوْتًا مُجْهِزًا، أَوِ الدَّجَّالَ، وَالدَّجَّالُ شَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَر، أَوِ السَّاعَةَ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ ‘‘([2])

((نیک کام میں جلدی کرو) کیا تم میں سے کوئی انتظار کرتا ہے  سرکش بنادینے والی امیری کا، یا غفلت میں ڈال دینے والی فقیری کا، یا تباہی مچانے والی بیماری کا، یا سٹھیا دینے والے بڑھاپے کا، یا ناگہانی موت کا، یا دجال کا اور دجال  ایک غائب شر ہے جس کا انتظار کیا جاتا ہے،  یا قیامت کا اور قیامت تو سب سے بڑی سخت اور بڑی مصیبت اوربہت کڑوی ہے)۔

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت جاننے کا حکم بھی دیا کہ: ہم اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو اپنے مرض سے پہلے، اپنی امیری کو غریبی سے پہلے اور  اپنی فراغت کو اپنی مصروفیت سے پہلے غنیمت جانیں۔ یہاں تک کہ ہم اپنے رب کی اطاعت پر مستقیم ہوجائيں، اور ہم اللہ تعالی سے خالص اس کی رضا کے لیے کیے گئے اعمال کے ساتھ ملاقات کرنے والے ہیں ان شاء اللہ:

﴿ يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِيْهِ ﴾ (الانشقاق: 6)

(اے انسان! بےشک تو سخت محنت ومشقت کرتے کرتے اپنے رب کی طرف جانے والا ہے، پھر اس سے ملنے والا ہے)

لہذا اللہ تعالی سے ملاقات اور اس کے سامنے پیشی لازمی بات ہے، اسی طرح سے قیامت کی ہولناکیاں بھی ہوکر رہیں گی:

﴿يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ ، يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكٰرٰي وَمَا هُمْ بِسُكٰرٰي وَلٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيْدٌ﴾ (الحج: 1-2)

(اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، بےشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے، جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہوکر اسےبھول جائے گی، اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی، اور تو لوگوں کو نشے میں دیکھے گا، حالانکہ وہ ہرگز نشے میں نہیں ہوں گے اور لیکن اللہ تعالی کا عذاب بہت سخت ہے)

پس اے میرے بھائیو! نیکی اور خیر کی طرف دوڑ لگاؤ:

﴿ وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ ﴾ (آل عمران: 133)

(اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دوڑو اپنے رب کی بخشش کی طرف ،اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین (کے برابر) ہے، جو متقی پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے)

اور حدیث میں ہے کہ:

’’ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبَّكَ اللَّهُ وَازْهَدْ فِيمَا فِي أَيْدِي النَّاسِ يُحِبُّوكَ‘‘([3])

(دنیا سے زہد اختیار کرو تو اللہ تعالی تم سے محبت کرے گا، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے زہد اختیار کرو تو لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے)۔

دنیا سے زہد کرنے کا معنی ہے اس سے دل نہ لگالینا، ایک شخص کو لازمی اس میں سے گزرنا تو ہے، جیساکہ حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’ كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: إِذَا أَمْسَيْتَ، فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ، وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ، وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِك‘‘([4])

(اس دنیا میں یوں رہو جیسے کہ تم اجنبی یا راہ چلتے مسافر ہو۔ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ: اگر شام کرو تو صبح کے منتظر نہ رہو اور صبح کرو تو شام کے منتظر نہ رہو، اپنی صحت کو مرض سے پہلے غنیمت جانو اور زندگی کو موت سے پہلے)۔

الغرض میرے بھائیو! سال بیتتے جارہے ہیں ایک سال کے بعد دوسرا سال، یہ سن 1436ھ ہے جو قریب ہی ختم ہونے والا ہے، اس کے بعد 1437ھ آئے گا([5])، اسی طرح ایک دن کے بعد دوسرا دن گزرتا جائے گا یہاں تک کہ یہ سال اور اس کے علاوہ سب سال ختم ہوجائيں گے۔ اللہ تعالی سے خاتمہ بالخیر کی دعاء ہے اور وہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اعمال صالحہ کا توشہ اور زادِ راہ اپنے ساتھ رکھیں:

﴿ وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى ﴾ (البقرۃ: 197)

(اور زاد راہ لے لیا کرو پس بلاشبہ بہترین زاد راہ تو اللہ تعالی کا تقویٰ وڈر ہے)۔

 


[1] صحیح بخاری 3207، صحیح مسلم 2645۔

[2] اسے امام الترمذی نے اپنی سنن 2306 میں روایت فرمایا اور شیخ البانی نے ضعیف الترمذی میں اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

[3] صحیح ابن ماجہ 3326۔

[4] صحیح بخاری 6416۔

[5] سبحان اللہ! اور ابھی کچھ عرصہ پہلے ہم نے اس کا ترجمہ کیا تھا اور اب  1438ھ شروع ہوا چاہتا ہے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)