اگر سلفی پارلیمنٹ میں شرکت نہیں کریں گے تو ہمیشہ سیکولر ہی اقتدار میں رہیں گے؟ – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

اگر سلفی پارلیمنٹ میں شرکت نہیں کریں گے تو ہمیشہ سیکولر ہی اقتدار میں رہیں گے؟ – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

If Salafees do not participate in parliament then secular people will always be in power? – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

اگر سلفی پارلیمنٹ میں شرکت نہیں کریں گے تو ہمیشہ سیکولر ہی اقتدار میں رہیں گے؟   

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: کیسٹ بعنوان: وقفات في المنهج الكويت 02-1423۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: بعض کہتے ہيں کہ اگر سلفی پارلیمنٹ اور انتخابات میں حصہ نہيں لیں گے تو وہ انہیں سیکولروں کے لیے چھوڑ دیں گے، آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

جواب: اللہ کی قسم! میں نے تو انہیں دیکھا ہے کہ جب وہ پارلیمنٹ میں داخل ہوتے ہيں تو وہ ان سیکولروں کے ہاتھ میں آلۂ کار بن کر رہ جاتے ہيں۔ جو لوگ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ اگر وہ پارلیمنٹ میں داخل ہوں گے اور انہیں ان کرسیوں سے اٹھا پھینکیں گے اور ان کی جگہ خود قابض ہوجائيں گے، تو کیا پارلیمنٹ میں حصہ لینے والوں کو یہ حاصل ہوپایا؟ کیا انہوں نے سیکولروں کو ان کی کرسیوں سے اٹھا پھینکا؟ یا پھر اس کے برعکس الٹا سیکولروں کو مزید رسوخ حاصل ہوگیا۔ کیونکہ جب  یہ مد مقابل آئے تو انہوں نے بھرپور تیاری کرلی اور شدت کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ٹھان لی، اب آپ ان پر غالب آنا چاہتے ہیں اور وہ آپ پر، اور آخری نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ وہ آپ پر غالب آجاتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے وہ شرعی راستہ اختیار کیا ہی نہيں جو اللہ تعالی کی طرف سے نصرت کو لازم کرتاہے۔یہ بات تو بالکل معروف وجانی پہچانی ہے۔ کیا اخوان المسلمین کامیاب ہوئی جب وہ شام، عراق اور مصر وغیرہ کی پارلیمنٹ میں داخل ہوئی، کیا وہ کامیاب ہوئی اور اسلام کو قائم کردیا؟ یا الٹا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعثی، کمیونسٹ اور ان کے شرکاء نصاریٰ وغیرہ میں سے اس وجہ سے مزید طاقت میں آگئے اور دوسری طرف یہ لوگ مزید کمزور پڑ گئے، پھر کون سے مقاصد کی تکمیل ہوپائی؟

میرے بھائی ہم تو یہ کہتے ہیں: آپ دعوت الی اللہ میں حکمت اور اچھے پیرائے میں وعظ ونصیحت کا راستہ اختیار کریں اور لوگوں کی اس پر تربیت کریں، جیسا کہ انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام نے کیا تھا۔ وہ ایسے لوگوں کی طرف بھیجے گئے جو طواغیت تھے اور ہوسکتا ہے ان کے وہاں پارلیمنٹ یا اس پارلیمنٹ کے قائم مقام کوئی نظام موجود ہو۔ پس وہ جاتے ہی ان سے کرسی کے لیے مقابلہ نہيں کرنے لگے کہ اس طرح نفسوں کی اصلاح ہوگی، انہوں نے ایسا نہیں کہا۔ سیدنا ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام آئے  جبکہ وہاں ایک بادشاہ تھا، اللہ کی قسم! انہوں نے یہ نہيں کہا کہ میں پارلیمنٹ میں داخل ہوتا ہوں اس کے بعد اصلاح کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھیں انہیں تو مکہ کی بادشاہت کی پیشکش بھی کی گئی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ ٹھکرا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ٹھکرا دیا اور دعوت الی اللہ کے راستے پر چلتے رہے اور لوگوں کو شرک وگمراہی سے بچانے کی مہم پر گامزن رہے۔ پس کیا آپ لوگ سیکولروں سے لڑائی میں شرک اور گمراہی کو مزید تقویت نہيں دیتے، کیونکہ ایسا نہ کرنے پر آپ اس کے مخالف کہلائے جائيں گے؟! میرے بھائی آپ کفریہ مواد پر حلف اٹھاتے ہیں ، حلف اٹھاتے ہیں کہ آپ اس کا احترام کریں گے، اس کی تصدیق کرتے رہیں گے اور اس پر عمل پیرا رہیں گے۔ پس اس صورت میں آپ شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں العیاذ باللہ، نعوذ باللہ۔ پھر اسلام کے لیے کچھ بھی پیش نہيں کرپاتے۔

میں یہ سوال کرتاہوں: جب ان کی حکومت ہوئی مصر میں  تو انہوں نے  اسلام میں سے کوئی چیز نافذ کی؟ تاکہ ہم بھی انہیں اپنا نمونہ بنائيں، انہیں سیکولروں کے مقابلے میں غلبہ ملا، انہيں کرسیوں سے اتار پھینک کر خود قابض ہوئے، جب وہ ایسا کرلیتے ہیں اور واقعی اسلام نافذ کردکھاتے ہيں تو پھر ہم بھی اس معاملے پر ذرا دیکھ سکتے ہيں، ہوسکتا ہے ہم ان کے نقش قدم پر چلنے کا سوچیں یہ کہتے ہوئے کہ ان جیسوں کو اس طرح سے وہاں کامیابی حاصل ہوئی تو ہمیں بھی یہاں حاصل ہوجائے گی۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں سوائے شکست کے، سوائے ضیاع کے، سوائے نوجوانوں کو دعوت الی اللہ سے ہٹا کر اس میں مشغول کرنے  کے کچھ نظر نہيں آتا ، بلکہ انہیں جھوٹ کی تعلیم دیتے ہيں اور جھوٹے پروپیگنڈہ پھیلانے کی تاکہ جسے انہوں نے کرسی کے لیے بطور امیدوار منتخب کیا ہے اس کی جیت ہوسکے، بلکہ انہیں تعلیم دیتے ہیں کہ کیسے رشوت کا لین دین کریں، پس وہ ان کے اخلاق برباد کردیتے ہيں۔ کتنا ہی ان انتخابات، امیدوار بننے اور مزاحمت ومقابلے نے اخلاق کو تباہ وبرباد کیا ہے۔ کتنا ہی انہوں نے اخلاق کوبگاڑا اور جھوٹ، رشوت، خیانت اور دھوکہ بازی اورآخر تک برائیوں کی تعلیم دی ہے۔  پھر ان اعمال کی وجہ سے دعوت مر جاتی ہے، دعوت کی موت واقع ہوجاتی ہے، یعنی دعوت الی اللہ تبارک وتعالی۔ جب داعیان ہی جھوٹے ، فتنے کی آگ بھڑکانے والے فتنہ باز ہوں گے تو اللہ کی قسم! لوگ ان پر اعتماد کرنا چھوڑ دیں گے اور ان کی دعوت کو قبول نہيں کریں گے۔  لیکن وہ آپ کو دیکھتے ہیں کہ آپ ایک ایسے انسان ہیں ۔ ۔ ۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

﴿قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ﴾ (ص : 86)

(کہہ دیجئے کہ  میں تم سے اس (تبلیغ حق) پر کوئی اجر (اجرت  وبدلہ) نہیں مانگتا،  اور نہ میں تکلف وبناوٹ کرنے والوں  میں سے ہوں)

پھر یہ تکلف کیوں کرتے ہیں؟ آپ کو اجر چاہیں، آپ کو کرسی چاہیے جس پر آپ کا قبضہ ہو، اور لوگوں کا  ماشاء اللہ آپ کے گرد حلقہ ہو، یہ سب تو جلد مل جانے والا اجر ہے، بارک اللہ فیکم۔ جبکہ انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام اللہ تعالی کی قسم! کرسیوں کی خاطر نہيں لڑے، انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام نے تو لوگوں کو اللہ تعالی کی عبادت کی طرف دعوت دی اور شرک و گناہوں سے نکلنے کی طرف دعوت دی، چناچہ وہ اس کے پیچھے نہیں بھاگے۔ اگر یہ واقعی صحیح طریقہ ہوتا تو اللہ کی قسم! ضرور ہمارا رب سبحانہ وتعالی اپنے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کو یہ سیاست سکھاتا اور انہیں سیاسیات ومنصوبوں میں سے وہ کچھ سکھلاتا جسے کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ تعالی کے، پھر وہ بے دین (سیکولروں ) اور مشرکین سے کرسیاں چھین لیتے۔ لیکن جو صحیح طریقہ وراستہ ہے وہ یہی ہے کہ اللہ تعالی کی راہ کی طرف صحیح دعوت دی جائے، عقائد کی تصحیح ہو، لوگوں کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جوڑا جائے، لوگوں کے اندر یہ شعور بٹھایا جائے کہ آپ کو ان کی دنیا میں سے کچھ نہیں چاہیے، آپ نہیں چاہتے مگر صرف وہی چیز جو خود ان لوگوں کو فائدہ دے۔ یہاں تک کہ خود اس کرسی پر براجمان سیکولر کے پاس جائيں اس سے کہیں واللہ! مجھے کچھ نہيں چاہیے، تمہاری کرسی تمہیں مبارک ہو، اس کے خلاف اس کی کرسی کی خاطر لڑنے اور مقابلہ کرنے کے بجائے اس کے پاس اس کے گھر جائيں اس کے سامنے نصیحت پیش کریں جس میں دلائل ہوں ہوسکتا ہے اللہ تعالی آپ کے ہاتھوں اسے ہدایت عطاء فرمائے۔ یہ بہت بہترین واحسن طریقہ ہےبنسبت اس کے کہ اس کا مقابلہ اور جنگ کی جائے اور اس معرکہ آرائی میں رشوت وجھوٹ کے ساتھ داخل ہوا جائے۔  کبھی بھی یہ سیکولر آپ کی بات نہیں مانے گا اور نہ وہ سیکولر،  جب اسے یہ اچھی طرح معلوم ہوگا کہ آپ تو اس کی کرسی کے پیچھے پڑے ہیں، اور مال کے اور دنیا کے اور مناصب کی پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ جب پاک صاف دعوت آئے گی جو لوگوں سے ان کی تجارتوں میں مزاحمت نہیں کرتی نا ہی ان کی حکومت میں، نہ ہی ان کی کرسیوں پر لڑتی ہے، ہم تو بس انہیں خیر کی جانب رہنمائی کرنے  اور ان کے سامنے حق پیش کرنے والے ہیں،  ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی ان سے راضی ہوجائے تو وہ دنیا وآخرت کی سعادت مندی سے ہمکنار ہوجائيں([1])۔

لیکن اگر ہم آئيں اور ان سے مقابلہ کریں اس دوڑ میں ان کے ساتھ شریک ہوجائيں تو وہ آپ کو نہيں چاہیں گے، اگر لوگ دیکھیں گے کہ آپ ان سے کرسی کے بارے میں مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو وہ کبھی بھی آپ کو نہیں چاہیں گے۔ پس کیا اس طرح سے سلفی دعوت کمزور نہیں ہوئی یہاں کویت میں  کہ جب سلفیوں نے یا جو سلفی کہلاتے تھے انہوں نے انتخابات ، پارلیمنٹ  اور اس قسم کی  جھنجھٹ میں حصہ لینا شروع کیا، تو سلفی دعوت کمزور پڑ گئی، اگر وہ اپنی پہلی ڈگر پر ہی چلتے رہتے تو عین ممکن تھا کہ خود حکام ہی حق پر آجاتے اور ایسی حکومت راشدہ بن جاتی  جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق حکومت کرتی۔

 


[1] جیسا کہ شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ اپنی مایہ ناز کتاب ’’منہج الانبیاء فی الدعوۃ الی اللہ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے سیدنا موسی علیہ الصلاۃ والسلام کو سرکش بادشاہ وخدائی کے دعویدار فرعون کی طرف بھیجا تو یہ ہدایت فرمائی:

آپ کو رسالت کے آغاز ہی میں عقیدۂ توحید بتلایا گیا اور شخصی طور پر آپ کو مکلف کیا گیا کہ اسے دل میں اچھی طرح بٹھا لیں، پھر آپ کو حکم ہوا کہ اسی دعوت کو لے کر فرعون کے پاس جائیں، ساتھ ہی اللہ نے آپ کو دعوت کا حکمت بھرا طریقہ بھی بتایا، جس سے آپ نے فرعون کا سامنا کیا۔اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے: ﴿اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى، فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰٓى اَنْ تَـزَكّٰى، وَاَهْدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰى﴾  (النازعات:17-19) (آپ فرعون کے پاس جائیں اس نے سرکشی اختیار کر رکھی ہے، اور اس سے کہیں کہ کیا تو اپنی درستگی اور اصلاح چاہتا ہے؟ اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تاکہ تیرے اندر اس کا خوف پیدا ہو) پھر آپ کے (بڑے) بھائی سیدنا ہارون علیہ الصلاۃ والسلام کو نبوت عطا کر کے آپ کے ہاتھوں کو مضبوط کیا گیا تاکہ اچھی طرح حجت قائم کی جا سکے، پھر دونوں کو دعوت الی اللہ میں نرمی کی تعلیم دی گئی کیوں کہ یہ اس شخص کی ہدایت کا قریب ترین وسیلہ ہے جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے، فرمایا: ﴿اِذْهَبَآ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى، فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى﴾ (طہ:43-44) (آپ دونوں فرعون کے پاس جائیں اس نے بڑی سرکشی کی ہے اسے نرمی سے سمجھائیں شاید کہ وہ سمجھ لے یا ڈر جائے)۔ آپ دونوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے، فرعون کی ہدایت اور توبہ کی امید کرتے ہوئے اس کو اللہ کی طرف بلایا تاکہ وہ اللہ سے ڈر جائے اور ظلم و شرک کے بھیانک انجام سے بچ جائے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

 

2016-09-14T08:17:55+00:00