Spreading Ahadeeth through mobiles lacking reliable references and authenticity – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

موبائل کے ذریعے بے حوالہ وغیر ثابت شدہ احادیث کو رواج دینا   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: اسامہ طارق رحمانی

نظر ثانی: طارق علی بروہی

مصدر: شیخ کی ویب سائٹ سے: إرسال الاحاديث عن طريق الجوالات۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: آج کل کے دور میں اور خصوصاً موبائل فون پیغامات کے ذریعے ہمیں بعض احاديث موصول ہوتی ہیں جن کے آخر میں یہ درج ہوتا ہے کہ : اسے نشر کریں تو آپ کو اسی جیسا یا اس سے بھی زیادہ اجر ملے ہوگا۔ تو آپ کی ان بعض احادیث کو آگے بھیجنے (فارور ڈکرنے) کے بارے میں کیا رائے ہے جن کی صحت تک کے بارے میں ہم نہیں جانتے؟

جواب: آپ کے لیے اسے نشر کرنا جائز نہیں۔ احادیث کا حوالہ تو ان کے مصادر ومراجع کی جانب ہوتا ہے اور اہل علم سے ان کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ لہذا آپ انہيں موبائل سے حاصل نہ کریں اور نہ ان کے ذریعے جو آپ کو انہيں نشر کرنے کا کہہ کر اجر وثوا ب کے وعدے سناتے ہیں۔  اس قسم کے لوگوں کے مقاصد کا علم نہیں ہوتا،  بلکہ ہوسکتا ہے ان کے پاس سازش، دسیسہ کاری اور جھوٹ ہو لہذا ان کے شر کا خدشہ تو رہتا ہی ہے۔

چناچہ ان سے اجتناب کریں اور موبائیلوں کے ذریعے نشر ہونے والے ان پیغامات پر عمل نہ کریں، اور ان کے حکم یا درخواست کی تعمیل نہ کریں ، یا ان کے وعدوں یا وعیدوں سے ڈرنے کی بھی ضرورت نہيں۔