5 important keys for receiving provisions – Shaykh Muhammad bin Umar Bazmool

رزق کی پانچ اہم ترین کنجیاں

فضیلۃ الشیخ محمد بن عمر بازمول حفظہ اللہ

(سنئیر پروفیسر جامعہ ام القری ومدرس مسجد الحرام، مکہ مکرمہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: سلسلۃ علمنــــــي دينـــــــــي۔

پیشکش: توحید خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

1- پنج وقتہ نمازوں کی محافظت کرنا۔ اور یہی راز ہے اقامۃ الصلاۃ (نماز قائم کرنے) کے ساتھ اداء الزکوۃ (زکوۃ ادا کرنے) کو بار بار ذکر کرنے کا۔  کیونکہ (اللہ اعلم) یہ اشارہ ہے کہ جو نماز قائم کرتا ہے اس کے رزق اور مال کی ملکیت میں اضافہ ہوجاتا ہے، اور وہ اس کی حاجت سے بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ اس پر زکوۃ واجب ہوجاتی ہے۔ اسی لیے (اللہ اعلم) بار بار اللہ تعالی کا یہ فرمان دہرایا جاتا ہے:

﴿وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ﴾

 

2- استغفار کرنا۔ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے:

﴿وَيٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا وَّيَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰي قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِيْنَ﴾ (ھود: 52)

(اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آؤ، وہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا،  اور تمہیں تمہاری قوت کے ساتھ اور قوت بڑھا دے گا،  اور مجرم بنتے ہوئے منہ نہ موڑو)

اور فرمایا:

﴿فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًا، يُّرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا، وَّيُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّيَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًا، مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًا﴾ (نوح: 10-13)

(تو میں نے کہا اپنے رب سے استغفار کرو، یقیناً وہ ہمیشہ بہت معاف کرنے والا ہے، وہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا، اور وہ مالوں اور بیٹوں کے ساتھ تمہاری مدد کرے گا ، اور تمہیں باغات عطا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کردے گا، تمہیں کیا ہے کہ تم اللہ کے وقار وعظمت کا خیال نہیں کرتے)۔

 

3- صلہ رحمی (رشتہ ناطے جوڑنا) اور ان میں سے سب سے اہم اور سرفہرست والدین کے ساتھ نیک سلوکی کرنا۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہيں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

’’مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ أَوْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ‘‘([1])

(جسے پسند ہو کہ اس کے رزق میں کشادگی یا عمر میں درازی ہو تو اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے)۔

 

4- اللہ تعالی کا تقویٰ اختیار کرنا، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا، وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۭ وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ   ۭ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ  ۭ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا﴾ (الطلاق: 2-3)

(اور جو اللہ تعالی سے ڈرے گا تو وہ اس کے لیے (ہر مشکل سے) نکلنے کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور بنا دے گا، اور اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں اس کا وہم وگمان بھی نہ ہوگا ، اور جو کوئی اللہ تعالی پر (کماحقہ) توکل کرتا ہے تو وہ اسے کافی ہوجاتا ہے، بےشک اللہ تعالی اپنے کام کو ضرور پورا کرکے رہتا ہے، یقیناً اللہ تعالی نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے)۔

5- باکثرت حج وعمرہ کرنا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَليْسَ لِلْحَجَّةِ الْمَبْرُورَةِ ثَوَابٌ دُونَ الْجَنَّةِ‘‘([2])

(پے در پے حج وعمرہ کرتے رہا کرو کیونکہ بلاشبہ یہ فقر ومفلسی اور گناہوں کو یوں دور کردیتے ہيں جیسے بھٹی دھونکنے سے لوہے، سونے اور چاندی کا میل کچیل دور ہوجاتا ہے، اور حج مبرور (مقبول) کا ثواب جنت سے کم کچھ نہيں)۔

 


[1] صحیح بخاری 2067۔

[2] امام الترمذی نے اسے سنن الترمذی 810 میں روایت کیا اور شیخ البانی نے اسے صحیح الترمذی میں ’’حسن صحیح‘‘ فرمایا۔