افضل ترین صدقہ پانی پلانا ہے – مختلف علماء کرام

افضل ترین صدقہ پانی پلانا ہے – مختلف علماء کرام

Providing water for drink is the greatest Sadaqah- Various 'Ulamaa

افضل ترین صدقہ پانی پلانا ہے

مختلف علماء کرام

انتخاب وترتیب: عباس ابو یحیی

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحید خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

1- افضل ترین صدقہ:

سیدنا سعد بن عبادۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’إنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ سَقْيُ الْمَاءِ‘‘

(بے شک افضل ترین صدقہ پانی پلانا ہے)۔

اسے احمد وابو داود نے روایت کیا، اور الالبانی نے  صحيح الجامع الصغير وزياداته 1113 میں حسن قرار دیا ہے۔

2- فوت شدہ والدین کی طرف سے بطور صدقہ پانی پلانا:

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا:

’’ يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ، وَلَمْ تُوصِ، أَفَيَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟، قَالَ:  نَعَمْ، وَعَلَيْكَ بِالْمَاءِ‘‘

(یا رسول اللہ! میری والدہ وفات پاگئیں مگر کوئی وصیت نہ کر پائیں، اب اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو وہ انہيں فائدہ دے گا؟ فرمایا: ہاں، اور تم پانی کو لازم پکڑو(یعنی پانی پلانے کے ذریعے صدقہ کرو))۔

اسے الطبرانی نے الاوسط میں روایت کیا اور الالبانی نے الصحیحۃ 2615 میں اسے صحیح فرمایا۔

اسی طرح سے سیدنا سعد بن عبادۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:

’’يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ، فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الْمَاءُ، قَالَ: فَحَفَرَ بِئْرًا، وَقَالَ: هَذِهِ لِأُمِّ سَعْدٍ‘‘

(یا رسول اللہ! ام سعد فوت ہوگئيں، پس ان کی طرف سے کون سا صدقہ افضل ہوگا؟ فرمایا: پانی۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے ایک کنواں کھدوایا اور فرمایا کہ: یہ ام سعد کے لیے ہے)۔

اسے ابو داود نے روایت کیا اور الالبانی صحیح ابی داود 1681 میں فرماتے ہیں یہ حسن لغیرہ ہے۔

3- سب سے بڑے اجر والا صدقہ:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’لَيْسَ صَدَقَةٌ أَعْظَمَ أَجْرًا مِنْ مَاء‘‘

(اجر کے لحاظ سے پانی پلانے سے بڑھ کر کوئی صدقہ نہيں)۔

اسے البیہقی نے روایت کیا اور الالبانی نے صحیح الترغیب 960 میں اسے حسن لغیرہ فرمایا ہے۔

5- جو کوئی اس میں سے پیے اس کا ثواب:

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’مَنْ حَفَرَ مَاءً لَمْ يَشْرَبْ مِنْهُ كَبِدٌ حَرِيٌّ مِنْ جِنٍّ وَلا إِنْسٍ وَلا طَائِرٍ إِلا آجَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ‘‘

(جس نے پانی کے لیے (کنواں) کھودا، تو اس میں سے جو بھی حرارت رکھنے والے جگر والا (یعنی کوئی بھی جاندار ) پیے گا خواہ وہ جن میں سے ہو یا انسان یا پرندہ، مگر یہ کہ اللہ تعالی بروز قیامت اسے (پانی کا بندوبست کرنے والے کو) اجر دے گا)۔

البخاری نے اپنی تاریخ میں اور ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں روایت کیا اور الالبانی نے صحیح الترغیب 963 میں اسے صحیح فرمایا ہے۔

5- پانی پلانا گناہو ں کی مغفرت کا ذریعہ ہے:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’بَيْنَا رَجُلٌ بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَجَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الرَّجُلُ:‏‏‏‏ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَ مِنِّي، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ مَاءً فَسَقَى الْكَلْبَ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّه، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ‘‘۔ (صحیح بخاری 2466)

(ایک شخص راستے میں سفر کر رہا تھا کہ اسے شدید پیاس لگی۔ پھر اسے راستے میں ایک کنواں ملا تو  وہ اس کے اندر اتر گیا اور پانی پیا، پھر جب باہر آیا تو اس کی نظر ایک کتے پر پڑی جو ہانپ رہا تھا اور پیاس کی سختی سے کیچڑ چاٹ رہا تھا۔ اس شخص نے سوچا کہ اس وقت یہ کتا بھی پیاس کی اتنی ہی شدت میں مبتلا ہے جس میں میں تھا۔ چنانچہ وہ پھر کنویں میں اترا اور اپنے جوتے میں پانی بھر کر اس نے کتے کو پلایا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا یہ عمل مقبول ہوا۔ اور اس کی مغفرت کر دی گئی۔ صحابہ نے پوچھا، یا رسول اللہ کیا جانوروں کے سلسلہ میں بھی ہمیں ضرور اجر ملتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : ہاں، ہرتر جگر رکھنے والے (یعنی جاندار مخلوق) کے سلسلے میں اجر ملتا ہے)۔

صحیح بخاری 3467 کی ہے ایک دوسری روایت میں ہے کہ:

’’بَيْنَمَا كَلْبٌ يُطِيفُ بِرَكِيَّةٍ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ إِذْ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ فَنَزَعَتْ مُوقَهَا فَسَقَتْهُ فَغُفِرَ لَهَا بِهِ‘‘۔

(ایک کتا ایک کنویں کے چاروں طرف چکر کاٹ رہا تھا قریب تھا کہ پیاس کی شدت سے اس کی جان نکل جائے، کہ بنی اسرائیل کی بدکار عورتوں میں سے ایک بدکار عورت نے اسے دیکھ لیا۔ اس عورت نے اپنا موزہ اتار کر کتے کو پانی پلایا، پس  اس کی مغفرت اسی عمل کی وجہ سے ہو گئی

2016-06-26T11:03:39+00:00

Articles

Scholars