Glorifying Allaah and seeking His forgiveness – Imaam Ibn-ul-Qayyam Al-Jawziyyah

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ

شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن ابی بکر ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ المتوفی سن 751ھ

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: إعلام الموقعين عن رب العالمين 1\266۔

پیشکش: توحید خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سیدنا  عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام سے فرمایا:

’’مَا تَقُولُونَ فِي: ﴿اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ﴾ [النصر: 1] السُّورَةَ؟ قَالُوا: أَمَرَ اللَّهُ نَبِيَّهُ إذَا فَتَحَ عَلَيْهِ أَنْ يَسْتَغْفِرَهُ، فَقَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا تَقُولُ أَنْتَ؟ قَالَ: هُوَ أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، أَعْلَمَهُ إيَّاهُ، فَقَالَ: مَا أَعْلَمُ مِنْهَا غَيْرَ مَا تَعْلَمُ‘‘([1])

(آپ اس آیت کے بارے میں کیا کہتے ہیں: ’’جب اللہ کی مدد اور فتح آپہنچے‘‘ جو سورۃ النصر ہے؟ فرمایا: اللہ تعالی نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ جب انہیں فتح نصیب ہو تو وہ استغفار کریں۔  سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ کیا کہتے ہیں؟ فرمایا: اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت کی خبر ہے، جو اللہ تعالی انہیں دے رہا ہے۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی اس کے سوا اس کی کوئی تفسیر  نہيں جانتا جو آپ جانتے ہیں (یعنی واقعی اس کی یہی تفسیر ہے))۔

حافظ ابن القیم " فرماتے ہیں:

یہ نہایت ہی دقیق وباریک ولطیف فہم ہے، جس کا ادراک ہر کوئی نہيں کرسکتا۔ کیونکہ بلاشبہ اللہ تعالی نے یہاں استغفار کو بالکل بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی عمل کے ساتھ معلق نہیں فرمایا بلکہ اسے اس چیز کے ساتھ معلق فرمایا جو وہ خود سبحانہ وتعالی واقع فرمائے گا یعنی اپنے رسول کو فتح کی اور لوگوں کے دین میں داخل ہونے کی نعمت عطاء فرماکر، جبکہ یہ استغفار کا سبب تو نہيں۔ چناچہ معلوم ہوا کہ استغفار کا سبب اس کے علاوہ کچھ اور ہے، اور وہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت  کا قریب ہونا۔ اور اللہ تعالی کی اپنے بندے پر تمامِ نعمت میں سے یہ ہے کہ وہ اسےاپنے سامنے  سچی توبہ اور استغفار کی توفیق عنایت فرمائےتاکہ وہ اپنے رب سے ہر گناہ سے پاک وصاف  ہوکر ملاقات کرے، اور وہ اس کی طرف خوشی خوشی روانہ ہو اس حال میں کہ وہ اپنے رب سے راضی اور رب اس سے راضی ہو۔

اور اللہ تعالی کا یہ فرمان :

﴿فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ﴾ (النصر: 3)

(پس اپنے رب کی تسبیح (پاکی) حمد (تعریف) کے ساتھ بیان کریں، اور اس سے استغفار (بخشش طلب) کیجئے)

اس  بات پر بھی دلالت کرتا ہے  کہ  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ویسے ہی ہر وقت اللہ تعالی کی تسبیح وحمد بیان کرتے رہتے تھے، جس سے معلوم ہوا کہ یہاں فتح اور لوگوں کے دین میں داخل ہونے کے بعد جس تسبیح کا حکم دیا جارہا ہے  وہ پہلے سے کیے جانے والے عمل سے بڑھ کر کچھ ہے۔ تو گویا کہ یہ مقدمہ ہوا آپ کا رفیق ِاعلیٰ کی جانب انتقال سے پہلے۔ اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبودیت وبندگی میں سے اب اس قدر  تسبیح واستغفار باقی رہ گیا ہے کہ جس کے ذریعے آپ اس مقام تک پہنچ جائیں گے، لہذا آپ کو اسے پورا کرنے کا حکم دیا جارہا ہے۔

اور اس بات پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالی نے توبہ واستغفار اعمال کے خاتمے پر مشروع قرار دیا ہے۔چناچہ حج اور قیام اللیل کے خاتمے پر اسے مشروع قرار دیا:

’’وَكَانَ النَّبِيُّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – إذَا سَلَّمَ مِنْ الصَّلَاةِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا‘‘([2])

(اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو تین بار استغفار فرماتے)۔

اسی طرح سے وضوء کرنے والے کے لیے مشروع ہے کہ وہ وضوء مکمل کرنے کے بعد یہ کہے:

’’اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنْ الْمُتَطَهِّرِينَ‘‘([3])

(اے اللہ مجھے بہت توبہ کرنے والوں میں سے بنادے، اور مجھے بہت پاک رہنے والوں میں سے بنادے)۔

اس سے معلوم ہوا کہ اعمال صالحہ کے خاتمے پر توبہ کرنا مشروع ہے۔ چناچہ اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسالت کی تبلیغ اور اس کی راہ میں جہادکی جو ذمہ داری تھی اسے پورا کرنے پر استغفار کا حکم دیا کہ جب لوگ دین میں فوج در فوج داخل ہونے لگے۔ گویا کہ تبلیغ دین ایک عبادت تھی جس کی تکمیل وادائیگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی، لہذا اس کے اختتام پر آپ eصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے استغفار کرنا مشروع ہوا۔

 


[1] صحیح بخاری 3627، 4970۔

[2] صحیح مسلم 593 کے الفاظ ہیں: ’’ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ، اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا‘‘۔

[3] سنن الترمذی 55 اور شیخ البانی نے صحیح الترمذی  میں اسے صحیح فرمایا۔