ختم قرآن پر پارٹی یا کھانے کی دعوت کا اہتمام کرنے کا حکم؟ – شیخ عبید بن عبداللہ الجابری

ختم قرآن پر پارٹی یا کھانے کی دعوت کا اہتمام کرنے کا حکم؟ – شیخ عبید بن عبداللہ الجابری

Arranging a party on completion or memorization of Qura'an? – Shaykh Ubaid bin Abdullaah Al-Jabiree

ختم قرآن پر پارٹی یا کھانے کی دعوت کا اہتمام کرنے کا حکم؟   

فضیلۃ الشیخ عبید بن عبداللہ الجابری حفطہ اللہ

(سابق مدرس جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ میراث الانبیاء۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: ختم قرآن پر پارٹی یا کھانے کی دعوت کا اہتمام کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: اس میں بہت سے لوگوں نے بہت توسع اختیار کیا ہے یہاں تک کہ شادی کے ولیمے کے مشابہ بنادیا ہے۔ جو اسراف کی حد تک پہنچ چکا ہے۔ جب یہ اسراف وشہرت کے حد کو پہنچ جائے تو یہ مذموم ہے۔

لیکن اگر حافظ قرآن یا اس کے ولی جیسے والد یا والدہ چاہتے ہوں کہ شکرانے کے طور پر کوئی دعوت کریں جس میں اس کے دوستوں، واقف کاروں اور اقارب کو مدعو کیا جائے۔ ہلکی سے دعوت جس میں وہ کھائیں پئیں اور اس حافظ کے لیے دعاء کریں جس پر اللہ تعالی نے احسان فرمایا کہ اسے حفظ قرآن کی توفیق دی(یعنی اس میں کوئی مضائقہ نہیں)۔

دعاء کریں کہ اللہ تعالی اسے قرآن مجید پر عمل کرنے کی بھی توفیق دے جیسا کہ اسے حفظ کی توفیق دی۔ کیونکہ محض حفظ قرآن کافی نہیں بلکہ لازم ہے کہ اس پر عمل کیا جائے جیسا کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا ہے۔ یہی وہ شخص ہے جو قرآن کے ذریعے جنت کے بلند درجوں پر چڑھتا جائے گا، اور دنیا وآخرت میں اہل قرآن اور اس کے خواص میں شمار ہوگا۔

2016-06-08T12:14:00+00:00

Articles

Scholars