ماہ شعبان کے روزے اور شب برأت – شیخ محمد بن صالح العثیمین

ماہ شعبان کے روزے اور شب برأت – شیخ محمد بن صالح العثیمین

Fasting in the month of Sha'baan and the Night of Decree – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

شعبان کے روزے اور شبِ برأت کی حقیقت   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ  المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: فتاوی نور علی الدرب – فتاوی الزکاۃ والصیام۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: احسن اللہ الیکم، سائل رجب اور پندرہ (15) شعبان کے روزے اسی طرح اس رات کے قیام کا حکم دریافت کرتا ہے؟

جواب: ان تمام کاموں کی کوئی اصل نہیں۔ جہاں تک رجب کے روزوں کا تعلق ہے تو وہ دیگر ایام کی طرح ہیں نہ تو اس کے دن روزوں کے لئے اور نہ اس کی راتیں قیام کے لئے مخصوص ہیں۔ جبکہ شعبان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باکثرت روزے رکھا کرتے تھے لیکن اس مہینے کی پندرہ (15) تاریخ کو مخصوص نہیں فرمایا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ r فرماتی ہیں کہ:

’’كان أكثر ما يصوم يعني في النفل شعبان‘‘([1])

(آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ (نفلی) روزے شعبان میں رکھا کرتے تھے)۔

 اس کے علاوہ جو عوام میں مشہور ہے کہ نصف شعبان کی رات (15ویں رات) کی کوئی خاص تہجد کی نماز ہے اور اس کے دن کا کوئی خاص روزہ ہے اور یہ کہ اس رات سارے سال کے اعمال لکھے جاتے ہیں وغیرہ تو ان کی کوئی اصل وحقیقت نہیں کہ جس پر اعتماد کیا جاسکے۔

 


[1] صحیح بخاری 1969 کے الفاظ ہیں: ’’وَمَا رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ‘‘ (میں نے رسول اللہ ﷺ کو کسی ماہ میں شعبان سے زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا)۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)۔

2016-05-13T13:38:12+00:00

Articles

Scholars