Six important points regarding the month of Sha’baan – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

ماہ شعبان کے بارے میں چھ اہم نکات   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ  المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: شیخ ابن عثیمین کی آفیشل ویب سائٹ سے خطبہ بعنوان ’’من الآداب الاسلامیۃ‘‘۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

اے مسلمانو! ہم ماہ شعبان میں داخل ہوچکے ہیں اور ابھی ہم اس سے متعلق چھ اہم نکات بیان کریں گے جس میں ہم ان باتوں کی وضاحت کریں گے جن کا بیان کرنا ہم پر واجب ہے۔ اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں اور آپ کو علم نافع اور عمل صالح کی توفیق عنایت فرمائے۔

پہلا نکتہ: شعبان کے روزے

کیا ماہ شعبان روزوں کے اعتبار سے دوسروں مہینوں سے ممتاز ہے؟

جواب: جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ماہ میں باکثرت روزے رکھا کرتے تھے یہاں تک کہ گمان ہوتا گویا کہ پورے ماہ ہی روزے رکھ لیے ہوں سوائے چند ایام کے۔ لہذا یہ بات سنت میں سے ہے کہ انسان اس ماہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں باکثرت روزے رکھے ۔

دوسرا نکتہ: نصف یا پندرہویں شعبان کا روزہ رکھنا

یعنی خصوصی طور پر اس کی پندرہ تاریخ کا روزہ رکھنا۔ اس بارے میں کچھ احادیث وارد ہوئی ہیں مگر وہ سب ضعیف ہیں کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت نہیں نہ ہی ان پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ ہر وہ چیز جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہ ہو کسی انسان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کے ذریعے سے اللہ تعالی کی عبادت کرے۔ لہذا خصوصی طور پر نصف شعبان کا روزہ نہ رکھا جائے، کیونکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں اور جو بھی چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہ ہو وہ بدعت ہے۔

تیسرا نکتہ: نصف شعبان کی رات کی فضیلت

اس بارے میں بھی کچھ ضعیف احادیث آئی ہیں جو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت نہیں۔ لہذا نصف شعبان کی یہ رات دیگر مہینوں جیسے رجب یا ربیع الاول وثانی یا جمادی الاولیٰ والثانی وغیرہ کی راتو ں کی طرح عام سی رات ہے۔ اس کو کوئی خاص امتیاز حاصل نہیں بلکہ یہ سال کی دیگر راتوں کی طرح ایک رات ہے۔ کیونکہ اس بارے میں جتنی احادیث وارد ہوئی ہیں سب ضعیف ہیں۔

چوتھا نکتہ: اس رات کو قیام کے لیے مخصوص کرنا

یہ بھی بدعت ہے، کیونکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس رات کو قیام کے لیے مخصوص فرمایا ہو۔ بلکہ یہ دیگر راتو ں کی طرح ایک رات ہے اگر انسان عادی ہے دیگر راتوں میں قیام کا تو وہ اس رات بھی قیام کرے اپنی اس اچھی عادت کو جاری وساری رکھنے کے لیے نہ کہ اس رات کی خصوصیت کی وجہ سے۔ اور اگر قیام اللیل اس کی عادات میں سے نہیں ہے تو وہ محض اس رات کو قیام کے لیے مخصوص نہ کرے، کیونکہ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔اور اس سے بھی دور کی گمراہی یہ ہے کہ اس رات کے قیام کو مخصوص تعداد کی رکعتوں کے ساتھ خاص کرنا جو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں۔ لہذا ہم اس رات کو قیام کے ساتھ خاص نہیں کریں گے۔

پانچواں نکتہ: کیا اس رات تقدیریں لکھی جاتی ہیں

یعنی اس سال جو جو کام ہونے ہیں ان کے فیصلے اس رات ہوتے ہیں؟

جواب: نہیں، یہ وہ لیلۃ القدر(شب ِقدر) نہیں جس میں فیصلے ہوتے ہیں لیلۃ القدر تو رمضان میں ہے۔ فرمان الہی ہے:

﴿اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ، لَيْلَةُ الْقَدْرِ ڏ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ﴾ (القدر: 1-3)

(یقیناً ہم نے اس(قرآن )کو  شب قدر میں نازل فرمایا،  آپ کیا سمجھیں کہ شب قدر کیا ہے؟،  شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے)

اور فرمایا:

﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ﴾ (البقرۃ: 185)

(ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا)

لہذا اس سے ثابت ہوا کہ لیلۃ القدر رمضان میں ہے جس رات قرآن کریم نازل ہوا۔ اور قرآن  کریم رمضان میں ہی نازل ہوا ہے۔ چناچہ یہ بات متعین ہوگئی کہ لیلۃ القدر رمضان میں ہی ہے ناکہ دوسرے کسی مہینے میں جن میں نصف شعبان کی رات بھی شامل ہے کہ یہ لیلۃ القدر نہیں ہے۔ نہ ہی اس رات سال میں ہونے والے کاموں کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ بلکہ یہ دیگر عام راتوں کی طرح ایک رات ہے۔

چھٹا نکتہ: نصف شعبان کو خصوصی کھانوں کا انتظام

بعض لوگ نصف شعبان کو خاص کھانے بنا کر فقراء میں تقسیم کرتے ہيں اور کہتے ہیں یہ ماں کا ڈنر ہے یا باپ کا ڈنر ہے اور یہ والدین کا ڈنر ہے وغیرہ۔ یہ بھی بدعت ہے، کیونکہ یہ نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے نہ ہی آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے۔

پس یہ چھ اہم نکات تھے جو میں فی الوقت جمع کرسکا ہوں ہوسکتا کہ اور بھی باتیں ہوں جن کا مجھے علم نہ ہو۔ لیکن جو کچھ علم تھا اسے بیا ن کرنا مجھ پر واجب تھا۔

اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں اور آپ کو سنت کو نشر کرنے اور بدعت سے خبردار کرنے والوں میں سے کردے۔ اور ہمیں اور آپ کو لوگوں کو ہدایت کی راہ بتانے والوں میں سےکردے۔ اور ہمیں اور آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے کی پیروی کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کرنے والوں میں سے کردے۔

shabaan_baray_6_aham_nuqaat