یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی سے بچنے کے لیے حیلے اختیار کرنے کا حکم؟ – فتوی کمیٹی، سعودی عرب

یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی سے بچنے کے لیے حیلے اختیار کرنے کا حکم؟ – فتوی کمیٹی، سعودی عرب

The ruling on using various methods of trickery to avoid paying utility bills – Fatwaa committee, Saudi Arabia

یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی سے بچنے کے لیے حیلے اختیار کرنے کا حکم؟

علمی تحقیقات اور افتاء کی مستقل کمیٹی، سعودی عرب

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: فتاوى اللجنة الدائمة > المجموعة الأولى > المجلد الثالث والعشرون (الأيمان – النذور – الإمامة) > الإمامة العظمى والسياسة الشرعية > التحايل للامتناع عن دفع فاتورة الكهرباء

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال 6: کیا ایسے حیلے اپنائے جاسکتے ہیں جس سے بجلی کے یا پانی یا ٹیلی فون یا گیس وغیرہ کے بل کی ادائیگی سے بچا جاسکے؟ جبکہ یہ بات بھی علم میں رہے کہ اس قسم کی زیادہ تر خدمات کی مالک جوائنٹ اسٹاک کمپنیاں ہوتی ہیں جس کے شئیر ہولڈرز عامۃ الناس ہوتے ہیں؟

جواب: جائز نہیں، کیونکہ اس میں لوگوں کا مال باطل طور پر کھانا شامل ہے، اور امانت کی عدم ادائیگی بھی، حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا﴾ (النساء: 58)

(بےشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں کو ادا کرو)

اور فرمایا:

﴿ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ، وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا﴾ (النساء: 29)

(اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے نہ کھاؤ، مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضا مندی سے تجارت کی کوئی صورت ہو، اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بےشک اللہ تم پر ہمیشہ سے بےحد مہربان ہے)

فتوی رقم 11967

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء

نائب صدر                                   صدر

عبدالرزاق عفیفی                           عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز

2016-05-08T16:51:17+00:00

Articles

Scholars