حزبیوں سے خبردار کرنے میں سستی کا مظاہرہ کرنا – شیخ احمد بن یحیی النجمی

حزبیوں سے خبردار کرنے میں سستی کا مظاہرہ کرنا – شیخ احمد بن یحیی النجمی

Being relaxed and showing laziness in warning against Hizbees – Shaykh Ahmed bin Yahyaa An-Najmee

حزبیوں سے خبردار کرنے میں سستی کا مظاہرہ کرنا

فضیلۃ الشیخ احمد بن یحیی النجمی رحمہ اللہ  المتوفی سن 1429ھ

(سابق مفتی جنوبی سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الفتاوى الجلية عن المناهج الدعوية۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: فضیلۃ الشیخ احمد بن یحیی النجمی حفظہ اللہ ہم طالبعلموں کا ان نوجوانوں کے ساتھ کیا کردار ہونا چاہیے کہ جو ایسی جماعتوں اور حزبیوں کے ساتھ چلنا شروع ہوگئے ہیں کہ جن کی جانب آپ نے اپنی بعض کتب ودروس میں اشارہ فرمایا ہے۔ پس آپ کے پاس اس موضوع پر اگر کوئی اچھی توجیہ وتجویز ہو کہ جس کا اہتمام واس پر خاص عنایت کی جائےتو ہمیں مستفید فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً؟

 

جواب: میں یہ کہتا ہوں کہ سلفی منہج  والے طالبعلموں کا اس سلسلے میں بہت بڑا کردار ہے۔لازم ہے کہ اس باب میں ان کا کردار بڑا عظیم ہواور لازم ہے کہ اس بارے میں ان کی سرتوڑ جدوجہد ہو۔ کبھی اللہ تعالی کی ، اس کی راہ کی اور منہج حق یعنی منہج نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب دعوت کے طور پر تو کبھی جدید مناہج والوں کی غلطیاں بیان کرنے کے طور پر۔ اور یہ کام خواہ تالیف کے ذریعے ہو یا اچھے کلمات، خفیہ یا اعلانیہ نصیحت کے ذریعے ہو۔ یہ سب کے سب طریقے استعمال کرنے ضروری ہیں۔ شاید کہ اللہ تعالی انہیں ہدایت دے،یا ان میں سے جسے بچانا چاہے بچا لے،یا ان میں سے جسے رجوع کی توفیق دینا چاہے تو دے دے۔

 

پھر یہ بات بھی ہے کہ اگر ہم اسباب کو اختیار کرتے ہیں تو ہم ان ہلاک ہونے والوں سے برئ الذمہ ہوسکتے ہيں۔ اللہ تعالی نے ہمیں ان بستی والوں کی خبردی کہ جو ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرگئے تھےکہ وہ تین گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے۔ ایک گروہ وہ تھا جس نے ہفتے کے ممنوعہ دن مچھلیوں کو پکڑنے کے لیے حیلہ اختیار کیا تھا۔ اس طرح کہ جہاں ہفتے کے دن مچھلیاں زیادہ آتی تھیں وہاں گڑھے کھود دیتے اور ہفتے کی چھٹی کرکے اتوار کے دن آتے اور ان گڑھوں میں پھنسی مچھلیوں کو شکار کرلیتے۔ لیکن کہتے کہ ہم نے تو انہیں اتوار کو پکڑا ہے ہفتے کو نہیں۔ چناچہ اس حیلے سازی کے ساتھ انہوں نے اس شریعت الہی کے ساتھ کھلواڑ کیاجو اللہ تعالی نے ان کے لیے مقرر کی تھی۔ پس ایک گروہ نے ان پر انکار کیا اور ایک گروہ خاموش رہا۔ یہاں تک کہ کہا:

﴿لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَۨا اللهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا،  قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ﴾ (الاعراف: 164)

(تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ بالکل ہلاک کرنے والا ہے یا ان کو سخت سزا دینے والا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے رب کے روبرو عذر کرنے کے لئے اور اس لئے کہ شاید یہ ڈر جائیں)

 

جب وہ قوم ہلاک ہوئی تو کہا جاتا ہے کہ اس جرم کے مرتکبین کے ساتھ ساتھ خاموش رہنے والے بھی اس کی لپیٹ میں آگئے کہ جنہوں نے اس بارے میں اپنے آپ کو برئ الذمہ نہیں کیا تھا۔ اور عذاب سے صرف وہی سلامت رہے جنہوں نے ہفتے کی دن مچھلی شکار کرنے کے اس حیلے کے سبب ان حیلہ سازوں پر انکار اور ردکیا تھا۔

 

پس ان طالبعلموں پر جو معرفت رکھتے ہیں سلفی منہج کی بھی اور دیگر مناہج کی بھی واجب ہے کہ وہ دوسرو‎ں کے لیے بھی اس کی وضاحت کریں،  اس پر بات کریں، لوگوں کو بتائیں، خطبے دیں، اور ہر مقام پر اس کی وضاحت کریں، اور ہر مناسبت پر اس حق کو  بیان کریں کہ جس کی اتباع واجب ہے اور اس باطل کو بھی بیان کریں کہ جسے چھوڑنا اور اس سے اجتناب کرنا واجب ہے۔

 

البتہ جو لوگ دوسرے لوگوں کے سامنے حق بیان کرنے سے خاموشی اختیار کرتے ہیں ان کی یہ خاموشی ان کا عذر نہیں بن سکتا۔ اگرچہ وہ یہ کہتے رہیں کہ ہم تو ان کے ساتھ نہیں۔ انہیں اس بات پر عذر نہیں دیا جاسکتا چاہے کہتے رہیں کہ ہم ان حزبی جماعتوں اور ان لوگوں کے ساتھ نہیں ہیں کہ جو راہ حق سے گمراہ ہیں۔ جب تک کہ وہ ان پر اور ان کی گمراہیوں پر انکار ونکیر نہ کریں۔

2016-03-06T06:05:35+00:00

Articles

Scholars