یہ کہنا غلطی پر مبنی ہے کہ حکمرانوں کی سمع وطاعت سے متعلق جتنے نصوص ہیں وہ تمام مسلمانوں کا ایک خلیفہ ہونے کے ساتھ مقید ہیں – مختلف علماء کرام

یہ کہنا غلطی پر مبنی ہے کہ حکمرانوں کی سمع وطاعت سے متعلق جتنے نصوص ہیں وہ تمام مسلمانوں کا ایک خلیفہ ہونے کے ساتھ مقید ہیں – مختلف علماء کرام

Mistake of those who claim that the evidences regarding obeying the ruler is restricted to the Khalifah of the Muslim Ummah – Various 'Ulamaa

یہ کہنا غلطی پر مبنی ہے کہ حکمرانوں کی سمع وطاعت سے متعلق جتنے نصوص ہیں وہ تمام مسلمانوں کا ایک خلیفہ ہونے کے ساتھ مقید ہیں

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

اہل سنت والجماعت کے مشہور امتیازی عقیدے مسلم حکمران کی سمع وطاعت اور عدم خروج خواہ نیک ہو یا بد کے بارے میں بہت سے شبہات پھیلائے جاتے ہيں، انہی میں سے ایک مشہور شبہے  کہ ’’حکمرانوں کی سمع وطاعت سے متعلق جتنے نصوص ہیں وہ تمام مسلمانوں کا ایک خلیفہ ہونے کے ساتھ مقید ہیں‘‘ کے تعلق سے مختلف علماء کرام کا کلام پیش خدمت ہے۔

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’ہر مذہب کے آئمہ کرام  اس بات پر متفق ہیں کہ جو کوئی بھی کسی ایک یا اس سے زائد ممالک پر غالب آجائے تو تمام چیزوں کے بارے میں اس کا حکم امام (امام اعظم/خلیفہ) کا ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کبھی بھی یہ دنیا کے امور استقامت پر نہیں آسکتے تھے، کیونکہ لوگ تو ایک زمانۂ طویل سے یعنی امام احمد بن حنبل " کے دور سے پہلے سےلے کر اب تک کسی ایک امام وخلیفہ پر تو کبھی متفق ہوئے ہی نہیں۔ اس کے باوجود ہمیں نہیں معلوم کہ کسی عالم نے یہ کہا ہو کہ (خلیفہ یا امام کے تعلق سے دینی) احکام جب تک امام اعظم (یعنی تمام مسلم دنیا کا ایک ہی خلیفہ) نہ ہو تو ان پر عمل درست نہیں‘‘۔

الدرر السنیۃ فی الاجوبۃ النجدیۃ  7/239۔

علامہ الشوکانی رحمہ اللہ مصنف کتاب ’’الازھار‘‘ کے اس قول کہ ’’ولا يصح إمامان‘‘ (دو امام (خلیفہ/حکمران) ہونے جائز نہیں) کی شرح میں دلائل ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

’’۔۔۔کیونکہ یہی شرعی قواعد کے اور دلائل جس بات پر دلالت کرتے ہیں کے زیادہ مناسب حال ہے۔ اور جو کوئی اس کی مخالفت میں بولے تو اس کی قطعی پرواہ نہ کرو، کیونکہ اول اسلام میں جو اسلامی ولایت وحکومت تھی اور اب جو اس کی حالت ہے اس میں واضح فرق ازہر من الشمس ہے۔ جو اس حقیقت کا انکاری ہو تو وہ بہت ہی بیکار وفضول شخص ہے کہ جو کسی حجت ودلیل سے مخاطب کیے جانے کے لائق ہی نہیں، کیونکہ وہ اسے سمجھ ہی نہیں سکتا ‘‘۔

شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ اس شبہے کے رد پر دلائل ذکر کرکے فرماتے ہیں:

’’چناچہ اس فاسد اور باطل رائے کے مطابق اس کا مطلب ہوا کہ آج امت کا کوئی امام نہیں ہے، اور امت جاہلیت کے دور میں رہ رہی ہے، کہ نہ کوئی امام ہے نہ اس کی رعایا، نہ سلطان ہے نہ ان کے ماتحت!‘‘۔

(لقاء الباب المفتوح – 94)

اور فرماتے ہیں:

۔۔۔ پس جب مسلمانوں کا ایک عام خلیفہ موجود نہیں تو پھر جو بھی کسی علاقے کے امور پر والی ہو تو وہ وہاں کا ولی امر حاکم ہے، ورنہ ہم اس گمراہ کن رائے کے مطابق اگر کہنے لگیں تو اس کا مطلب ہوگا آج مسلمانوں کا کوئی خلیفہ ہی نہيں ہے! اور تمام لوگ جاہلیت کی موت مرتے جارہے ہیں، آخر ایسی بات کون کرتا ہے؟!

۔۔۔ پس یہ شخص مسلمانوں کی حکومت کے خلاف نکلنے والا ہے اس پہلو سے کہ وہ بیعت کا التزام نہیں کرتا، اور اس پہلو سے بھی کہ اس نے قدیم زمانے سے چلتے آنے والے اجماع مسلمین کی بھی مخالفت کی۔

آخر میں فرماتے ہیں: ۔۔۔ لیکن بات یہ ہے کہ اس قسم کی آراء دراصل شیطان بعض لوگوں کے دلوں میں ڈالتا ہے تاکہ جماعۃ المسلمین میں تفریق ڈالی جائے، اور لوگوں میں باہمی رنجشیں پیدا ہوں۔

۔۔۔ پس اس بھائی تک میری یہ نصیحت پہنچا دیں کہ وہ اللہ تعالی سے ڈرے، اور یہ عقیدہ رکھے کہ وہ ابھی ایک ولایت وحکومت کے حامل امیر کے تحت جی رہا ہے، تاکہ اس کے بعد کہیں وہ جاہلیت کی موت نہ مرجائے۔

(لقاء الباب المفتوح – 128)

اس عقیدے کے متعلق شبہات پھیلانے والوں کی حقیقت کے بارے میں ایک  عام قاعدہ شیخ صالح الفوزان d اپنی کتاب ’’اسلام میں امام(حکمران) کے نصب کرنے کی کیفیت‘‘ جس کا ترجمہ ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہےمیں بیان فرماتے ہیں:

سوال 49: کیا وجہ ہے کہ آج بہت سے داعیان فتنہ کا اس بارے میں اتفاق نظر آتا ہے کہ وہ احادیث نبویہ e خصوصاً جو ولایت وامامت کے تعلق سے ہیں کہ بارے میں شکوک وشبہات پیدا کرتے ہیں جیسا کہ حدیث ہے کہ : ’’حکمران کی سنو اور اطاعت کرو اگرچہ وہ تمہاری کمر پر مارے اور تمہارا مال چھین لے‘‘؟

جواب: وجہ یہ ہے کہ اس بارے میں ان کے خفیہ معاہدے ہيں، کیونکہ ان سب کا مشرب ایک ہی ہے، لہذا اس بارے میں خفیہ طور پر سب ملے ہوئے ہیں۔

سوال 52: سائل کہتا ہے احسن اللہ الیکم کیا امامت کی جو شرائط فقہاء کرام نے بیان فرمائی ہیں جیسے علم، عدل اور کفایت وغیرہ، کیا یہ امامت کے کمال کی شرائط ہيں یا اس کی صحت کی شرائط ہيں، وجزاکم اللہ خیراً؟

جواب: یہ شرائط حسب امکان  ہوتی ہیں، لازم نہيں کہ سو فیصد پائی جائيں، بلکہ حسب امکان جو بہتر سے بہتر ہو۔

سوال 57: کوئی ایسا بھی جو کہتا ہے کہ ہمارے زمانے کے جو حکام ہيں ان میں ولایت کی شرائط ہی پوری نہيں ہوتی، اسی لیے جو علانیہ ان پر انکار کرتا بھی ہے تو اس کے بارے میں یہ تساہل اور نرمی سے کام لیتے ہیں(یعنی ٹھنڈے پیٹوں اسے برداشت کرتے ہیں)، کیا یہ صحیح ہے؟

جواب: یہ بات غیر صحیح ہے، جو کوئی بھی مسلمانوں کے امور کا والی بن گیا او روہ مسلمان ہے تو پھر معصیت الہی کے علاوہ اس کی اطاعت واجب ہے، اور اس کے لیے بھی وہی سب کچھ واجب ہے جو ولاۃ امور کے لیے (شریعت میں) ہوتا ہے۔

اور بعض لوگ کہتے ہیں موجودہ اسلامی ممالک کے حکام پر وہ نصوص منطبق ہی نہیں ہوتے کے جواب میں شیخ الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

۔۔۔ ایسا شخص فتنے کی طرف دعوت دیتا ہے اور فتنے کی آگ کو ہوا دے کر دنگا فساد پر ابھارنے کی کوشش کرتا ہے۔یہ داعئ شر اور داعئ گمراہی ہے، اس کی طرف بالکل بھی توجہ نہ دی جائے ، نہ اس کی بات سنی جائے۔

دیگر علماء کرام کا تفصیلی کلام جاننے کے لیے مکمل مقالہ پڑھیں۔