Feeling secure against the Plan of Allah in the life of a Muslim – Various 'Ulamaa

ایک مسلمان کا زندگی میں اللہ تعالی کی خفیہ تدبیر سے نڈر ہوجانا   

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: ہمارے یہ بھائی سوال پوچھتے ہیں کہ اللہ تعالی کے اس فرمان: ﴿اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ ۚ فَلَا يَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ﴾ (الاعراف: 99) (پھر کیا وہ اللہ کے مکر(چال/ خفیہ تدبیر )سے بےخوف ہوگئے ہیں، تو اللہ کی تدبیر سے بےخوف نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو خسارہ اٹھانے والے ہیں) سے کیا مراد ہے؟

 

جواب از شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ:

یہ آیت اپنے ظاہر ی معنی پر ہی ہے یعنی ﴿اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ ۚ فَلَا يَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ﴾ (الاعراف: 99) (پھر کیا وہ اللہ کے مکر(چال/ خفیہ تدبیر )سے بےخوف ہوگئے ہیں، تو اللہ کی تدبیر سے بےخوف نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو خسارہ اٹھانے والے ہیں) اس سے مقصود اللہ تعالی کے مکر سے (جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے) ڈرایا گیا ہے۔ اور اللہ کا مکر یہ ہوتا ہے کہ وہ انہیں ڈھیل دیتا ہے اور انہیں نعمتوں اور بھلائیوں کے ساتھ چھوٹ دیے رکھتا ہے حالانکہ وہ اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی مخالفت پر ڈٹے رہتے ہیں۔ پس یہ لوگ اس لائق ہیں کہ اللہ تعالی انہیں اچانک سے اچک لے، اور ناگہانی پکڑ آجائے، اس سبب سے کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے غفلت میں تھے، اس کی نافرمانی پر ڈٹے ہوئے تھے، اور اس کے عقاب وغضب سے بے خوف تھے۔

 

چناچہ اس کا معنی ہے کہ اس سے بچو یعنی اس اللہ کی پکڑ سے بے خوف ہونے والی کیفیت سے دور رہو۔ کیونکہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے  نڈر ہوجانے کا بہت عظیم خطرہ ہے، اسی طرح سے اللہ کی رحمت سے ناامید ہوجانا بھی عظیم خطرہ ہے۔ پس واجب ہے کہ  نہ مایوس ہوا جائے اور نہ ہی بے خوف۔  بلکہ ایک مومن اپنے اللہ تعالی کی جانب سفر میں خوف اور امید کے درمیان رہتا ہے۔ نہ مایوس وناامید ہوتا ہے ، اور نہ ہی اللہ کے مکر وتدبیر اور اس کے عقاب سے نڈر ہوتا ہے،  کہ آس توڑ کر بیٹھا رہے ساتھ میں گناہ پر بھی مصر رہے۔ لیکن واجب ہے کہ وہ ان دو حالتوں کے درمیان میں رہے، اس دنیا میں اللہ کی طرف سفر کرنے میں اور عمل کرنے میں خوف اور امید کے مابین رہے۔ پس اس کی عظمت اور عذاب وعقاب کی شدت کو یاد کرے جو اس کی مخالفت کرتا ہو تاکہ وہ اس سے ڈرے اور اللہ کی خشیت اس کے دل میں پیدا ہو۔ ساتھ میں اس کی عظیم رحمت، حلم وبردباری اور عظیم جود وکرم کو بھی یاد کرے جس سے اس سبحانہ وتعالی کے احسان کی امید بندھی رہے ، اور اس کے جود وکرم کی امید رکھے۔

 

چناچہ ایک مومن اِس کے اور اُس کے درمیان رہتا ہے یعنی خوف اور امید کے مابین یہاں تک کہ اپنے رب سبحانہ وتعالی سے جا ملتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف جو غافل ہے اور اللہ کی پکڑ سے نڈر ہے، وہ اللہ تعالی سے نہيں ڈرتا نہ اس کے عقاب وعذاب سے۔ بلکہ وہ اپنی غفلتوں اور گناہوں میں مگن ہے اور لاپرواہ ہے، تو یہ شخص خطرے میں ہے کہ اسے اچانک ہی اللہ تعالی پکڑلے، اور وہ دنیا وآخرمت کے خسارہ میں مبتلا ہوجائے نعوذ باللہ۔ یعنی خطرہ ہے شدید اس بات کا کہ اسے اس کے گناہوں پر بغیر توبہ کیے پکڑ لیا جائے، تو دنیا وآخرت کا خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجائے۔ اور آگ اور دردناک عذاب اس کا ٹھکانہ بن جائے، ہم اس سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ اللہ تعالی سے ہی سلامتی کا سوال ہے۔

 

(نور علی الدرب 20123)

 

سوال: ایک مسلمان کی زندگی میں اللہ تعالی کے مکر سے بے خوف نہ ہونے کی کیفیت کیسے پیدا ہوسکتی ہے؟

 

جواب از شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ حفظہ اللہ:

اللہ تعالی کے مکر وتدبیر سے بے خوف ہونا یہ ہوتا ہے کہ  وہ دنیا کھیل تماشوں اور حرام لذتوں میں غرق ہو، اللہ تعالی کے ذکر سے منہ موڑ رکھا ہو، گناہوں سے توبہ نہ کرتا ہو اور مسلسل  گناہ جاری وساری رہیں، اور منکر کو دیکھ کر بدلنے کی کوشش نہ کی جائے، اور لوگوں کو شتر بے مہار چھوڑ دیا جائے کہ جو چاہیں کرتے پھریں۔ جب امر بالمعروف ونہی عن المنکر معطل ہوکر رہ جائیں، اور امت ضائع ہوجائے، اور ہر کوئی اپنے ہی بارے میں نفسا نفسی کا شکار ہو، انسانوں کے بارے میں کوئی اہتمام نہ ہو، نہ عنایت وتوجہ ہو، بلکہ انہیں چھوڑ دیا گیا ہو کہ جو چاہیں کریں تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسے لوگ اللہ کی تدبیر وپکڑ سے نڈر وبے خوف ہوچکے ہيں۔ کیونکہ جو اللہ تعالی کے مکر وپکڑ کا خوف رکھتا ہے تو وہ ڈرتا ہے اور اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن وہ جو اللہ تعالی کی تدبیر سے بے خوف ہے وہ اس کی نافرمانی میں پڑا رہتا ہے اور اس کا مقابلہ مزید گناہوں سے کرتا ہے۔

 

امام حسن رحمہ اللہ سے کہا گیا : ہم ایسی قوم کی صحبت اختیار کریں جو ہمیں آگ سے ڈراتے ہیں۔ فرمایا: ایسی قوم کی صحبت اختیار کرنا  جو تمہیں آگ سے ڈراتے رہیں تاکہ (آخرت میں) تمہاری بے خوفی میں اضافہ ہو، بہتر ہے اس سے کہ تم ایسی قوم کی صحبت اختیار کرو جو تمہیں آگ سے  بے خوفی میں مبتلا کریں تاکہ (آخرت میں) تمہیں خوفزدگی میں اور بڑھا دیں۔

 

پس ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ کے مکر سے بے خوف ونڈر نہ رہے:

﴿اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ ۚ فَلَا يَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ﴾ (الاعراف: 99)

(پھر کیا وہ اللہ کے مکر(چال/ خفیہ تدبیر )سے بےخوف ہوگئے ہیں، تو اللہ کی تدبیر سے بےخوف نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو خسارہ اٹھانے والے ہیں)

 

اللہ عزوجل کا فرمان ہے:

﴿اَفَاَمِنَ الَّذِيْنَ مَكَرُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ يَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ يَاْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ، اَوْ يَاْخُذَهُمْ فِيْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِيْنَ، اَوْ يَاْخُذَهُمْ عَلٰي تَخَــوُّفٍ ۭ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ ﴾ (النحل: 45-47)

(تو کیا وہ لوگ جنہوں نے بری تدبیریں کی ہیں، اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے، یا ان پر عذاب ایسی جگہ سے آجائے جہاں سے انہوں نے سوچا بھی نہ ہو، یا وہ انہیں ان کے چلنے پھرنے کے دوران پکڑلے، سو وہ کسی طرح عاجز کرنے والے نہیں، یا وہ انہیں خوفزدہ ہونے پر پکڑلے، پس بےشک آپ کا رب یقیناً بہت نرمی کرنے والا،بہت رحم کرنے والا ہے)

 

(فتاوی نور علی الدرب –  الأمن من مكر الله في حياة المسلم)