اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور شرمگاہوں کی حفاظت کریں سے کیا مراد ہے؟ – شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ

اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور شرمگاہوں کی حفاظت کریں سے کیا مراد ہے؟ – شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ

What is meant by: lower their gaze, and protect their private parts? – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah Aal-Shaykh

اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور شرمگاہوں کی حفاظت کریں سے کیا مراد ہے؟   

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ حفظہ اللہ

(مفتئ اعظم، سعودی عرب)

مصدر: فتاوی نور علی الدرب: التوجيه من هذه الآية الكريمة (قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ)۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: اللہ تعالی کا جو یہ فرمان ہے: ﴿قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ۭ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ﴾ (النور: 30) (مومن مردوں سے کہہ دیجئے کہ وہ  اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔ بےشک اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو وہ کرتے ہیں) غض بصر (نگاہوں کو نیچا رکھنا) اور حفظ الفروج (شرمگاہوں کی حفاظت کرنا) کے بارے میں اللہ تعالی کی جانب سے کی گئی اس رہنمائی کے تعلق سے سوال کرتے ہیں کہ اس میں ہمیں کیسی رہنمائی ملتی ہے؟

 

جواب: اللہ جل وعلا فرماتے ہیں:

﴿قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ۭ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ﴾ (النور: 30)

(مومن مردوں سے کہہ دیجئے کہ وہ  اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔ بےشک اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو وہ کرتے ہیں)

 

جب اللہ تعالی نے زنا کو حرام قرار دیا اور جو کچھ اس کے بارے میں وعید اور حد مرتب ہوتی ہے تو پھر ہمیں فرمایا کہ: ﴿ قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا﴾ یعنی نگاہوں کو نیچا رکھنے میں  شرمگاہوں کی حفاظت ہے کہ وہ زنا کے اسباب سے دور رہتی ہے۔ لیکن جو اپنی نظروں کو یونہی آزاد وآوارہ چھوڑ دیتا ہے اسے بھی دیکھتا ہے اسے بھی دیکھتا ہے، تو یہ بدنظری ہے۔ ہوسکتا ہے اس کے دل میں برے خیالات آجائیں اور وہ اس عورت سے دل لگی کربیٹھے۔ پھر ہر ذریعے سے کوشش کرے اس سے رابطہ کرنے کی حتی کہ کسی منع کردہ کام میں مبتلا ہوجائے۔ چناچہ ان وسائل اور ذرائع میں سے جو آپ کو اس فحاشی سے بچا سکتے ہيں یہی ہے کہ آپ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کریں۔ اور بس اپنی کام سے کام رکھیں، ساتھ ہی اللہ تعالی سے درگزر وسلامتی کا سوال کرتے رہا کریں۔

 

لیکن اگر آپ اپنی نگاہوں کو یونہی کھلا چھوڑ دیں گے اور عورتوں سے باتیں کریں گے، تو ان سے دل لگا بیٹھیں گے، پھر ان سے موبائل وغیرہ سے رابطہ رکھیں گے۔ کیونکہ اس طرح شر وبرائی کے ایسے دروازے آپ پر کھلیں گے جنہیں آپ بند نہيں کرپائیں گے۔ اللہ عزوجل فرماتے ہیں(خواتین کو):

﴿فَلَا تَخْـضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا﴾ (الاحزاب: 32)

(تو نرم نرم باتیں اوربات میں لچک اختیار نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ  ہووہ کوئی طمع کر بیٹھے، ہاں عام دستور کے مطابق مناسب طریقے سے بات کرو)

 

شدید افسوس کی بات ہے کہ ہماری بعض لڑکیاں اور بعض نوجوانوں کے مابین فون اور اس کے وابستہ دیگر وسائل کے ذریعے رابطہ قائم ہوتے ہیں، ایک دوسرے سے مطالبات کرتے ہیں، ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، ایک دوسرے سے چیٹ کرتے ہیں ایسے امور کے متعلق جو کسی مسلمان کے لائق نہیں، یہی وجہ ہے فحاشی کے پھیلنے کی اور دلوں کے گناہوں سے جڑ جانے کی۔ اور دل جب گناہوں اور برائیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اس میں سے ایمان کا نور بجھ جاتا ہے۔ پس ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ تعالی سے ڈریں، اس کا تقوی اختیار کریں اور ہر حال میں یہ دھیان میں رکھیں کہ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ اور عورتوں سے بالکل بھی رابطہ نہ کریں سوائے اس کے جو کوئی ضروری بات ہو، جبکہ اجبنی عورتوں سے رابطہ ، بات چیت اورچیٹنگ ، تصویروں کا تبادلہ اور (ویڈیو) کالنگ(وغیرہ)، تو یہ بہت خطرناک امور ہیں جو انہیں فحاشی کی طرف اس طور پر لے جاتے ہیں کہ انہیں احساس وشعور بھی نہیں ہوپاتا۔

2015-11-23T08:24:54+00:00

Articles

Scholars