ذبح کرنے کی صحیح کیفیت – شیخ محمد بن صالح العثیمین

ذبح کرنے کی صحیح کیفیت – شیخ محمد بن صالح العثیمین

The proper legislated way of slaughtering – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

ذبح کرنے کی صحیح کیفیت   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ  المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: من فتاوى نور على الدرب/ للإمام العثيمين/ شريط رقم353 وشريط رقم93

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: قربانی کو ذبح کرنے کی صحیح کیفیت کیا ہونی چاہیے؟

جواب: اگر قربانی دنبے یا بکرے کی ہے تو ا س کی صحیح کیفیت یہ ہے کہ اسے بائیں کروٹ لٹا ئے اگر اسے داہنے ہاتھ سے ذبح کرنا ہو اور اگر بائیں ہاتھ سے ذبح کرنا ہو تو اسے داہنی کروٹ لٹا دے، کیونکہ اس سے مقصود چوپائے کو راحت پہنچانا ہے، لہذا جو انسان بائیں ہاتھ سے ذبح کرتا ہو تو وہ اسے راحت نہیں پہنچا سکتا سوائے اس کے کہ وہ اسے داہنی کروٹ لٹائے اور ذبح کے وقت اپنے ٹانگ اس کی گردن پر رکھے، اور اپنے بائیں ہاتھ سے اس کے سر کو پکڑے تاکہ جانور کے حلق کا صحیح اندازہ ہوسکے، پھر قوت کےساتھ اس کی شہ رگ ودرمیانی رگ پر چھری چلائے اور خون بہادے۔

 

جہاں تک بات ہے جانور کے ہاتھ وپیر کی تو انہیں نہ باندھنا اور آزاد چھوڑ دینا زیادہ احسن ہے کیونکہ یہ جانور کے لیے زیادہ راحت  اور ان اعضاء میں سے خون کے اخراج کا زیادہ باعث ہے، کیونکہ خون کا اخراج حرکت کے ساتھ ہوتا ہے، پس یہ افضل ہے([1])۔

اور ذبح کرتے وقت یہ پڑھے: ’’بِسْمِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ هَذَا مِنْكَ وَلَكَ، اللَّهُمَّ هَذِهِ عَنِّي  وَ عَنْ أَهْلِ بَيْتِي‘‘۔

جبکہ عید کی قربانی کے علاوہ ذبح کرتے وقت یہی طریقۂ کار اپنائے لیکن ذبح کے وقت صرف ’’بِسْمِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ‘‘ پڑھے۔

 


[1] البتہ اونٹ کو نحر کرنے کا مسنون طریقہ اس سے قدرے مختلف ہے صحیح بخاری 1712 میں ہے: ’’زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَتَى عَلَى رَجُلٍ قَدْ أَنَاخَ بَدَنَتَهُ يَنْحَرُهَا، قَالَ: ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ (زیاد بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک شخص کے پاس آئے جس نے اونٹ کو ذبح کرنے کے لیے بٹھا رکھا تھا تو فرمایا: اس کو کھڑا کرکے (ایک) پاؤں باندھ دو، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے)۔ اور صحیح ابی داود 1767 کے الفاظ ہیں: ’’أَنّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَصْحَابَهُ كَانُوا يَنْحَرُونَ الْبَدَنَةَ مَعْقُولَةَ الْيُسْرَى قَائِمَةً عَلَى مَا بَقِيَ مِنْ قَوَائِمِهَا‘‘ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اونٹ کو اس طرح نحر فرماتے تھے کہ اس کا اگلا بایاں پاؤں باندھ کر اسے کھڑا کردیتےاور وہ اپنے باقی تین پاؤں پر کھڑا رہتا)۔اس کے بعد اس کی گردن اور سینے کے درمیان کےحصے میں خنجر سے مار کر رگیں کاٹ دی جاتی ہیں۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

2015-09-23T11:01:54+00:00

Articles

Scholars