شرعی عذر میں مبتلا خواتین شب قدر میں کیا کریں؟ – شیخ محمد ناصر الدین البانی

شرعی عذر میں مبتلا خواتین شب قدر میں کیا کریں؟ – شیخ محمد ناصر الدین البانی

What can women, who have a legislated excuse from the prayer, do on laylatul Qadr? – Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

شرعی عذر میں مبتلا خواتین شب قدر میں کیا کریں؟   

فضیلۃ الشیخ محمد ناصرالدین البانی رحمہ اللہ  المتوفی سن 1420ھ

(محدث دیارِ شام)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: التسميات:رمضان, سألتُ أبي رحمه الله

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

میں (سکینہ بنت شیخ البانی) نے اپنے والد رحمہ اللہ سے سوال کیا:

جس عورت کو شرعی عذر (حیض وغیرہ) ہو وہ شب قدر میں کیا کرے؟

 

آپ رحمہ اللہ نے مجھے یہ جواب دیا کہ:

دعاء

ذکر

اور تلاوت قرآن۔

اس میں کوئی حرج نہیں اس کے لیے اور میرے خیال سے تم بھی حائضہ کے تعلق سے تلاوت قرآن کی عدم کراہیت کے بارے میں اچھی طرح سے جانتی ہو([1])۔

 

پس اس سے نکلنے کی ایک جہت تو یہ ہے۔

 

دوسری جہت یہ ہے کہ ایک مسلمان کے لیے یہ بہت بہتر ہے چاہے مرد ہو یا عورت کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آداب کے ساتھ اپنے آپ کو ڈھال لے کہ جن کے فرامین میں سے ایک یہ بھی ہے:

’’اغتنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ: شبابَك قَبْلَ هَرمِكَ، وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ‘‘([2])

(پانچ چیزوں سے قبل پانچ چیزوں کو غنیمت جانو: بڑھاپے سے پہلے جوانی کو، بیماری سے پہلے صحت کو۔۔۔)۔

 

یہ کس لیے؟ کیونکہ صحیح بخاری([3]) کی حدیث میں آیا ہے کہ:

’’أنّ المسلم إذا مرض أو سافر؛ كَتَب اللهُ له ما كان يَعمله من الطاعة والعبادة في حالة الإقامة وفي حالة الصحة‘‘([4])

(بے شک جب ایک مسلمان بیمار پڑتا ہے یا سفر کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لیے اطاعت وعبادات کے وہ عمل بھی لکھ دیتا ہے جو وہ اقامت اور صحت کی حالت میں کیاکرتا تھا)۔

 

پس اس قسم کی عورت کو چاہیے کہ وہ اپنی طہارت کے وقت کو اور جب وہ آخری عشرے کا قیام کرسکتی ہے اس وقت کو غنیمت جانے، یا کم از کم طاق راتوں کو، یا اس سے قلیل کم از کم ستائیسویں کے دن یا رات کو تو اللہ عزوجل جب اپنی بندی کے بارے میں یہ جانیں گے کہ وہ یہ سب کچھ کیا کرتی تھی اپنی اس حالت میں جب وہ انہیں ادا کرسکنے پر شرعی طور پر قادر تھی، پھر اچانک اس پر یہ شرعی عذر والی حالت طاری ہوگئی تو اس کے لیے وہی کچھ لکھا جائے گا جو وہ حالت طہارت میں کیا کرتی تھی۔

 

یہ بہت اہم نکتہ ہے جس کا ثمرہ یہ ہے کہ ایک مسلمان کو سابقہ تفصیل کے مطابق چاہیے کہ وہ دائماً اپنے وقت کو اللہ کی اطاعت میں صرف کرے جس قدر ہو۔ یہاں تک کہ جب اس کی اطاعت (عبادت) بڑھ جائے گی پھر اگر کوئی عبادت  (کسی عذر کی وجہ سے ) اس پر سے گزر بھی جائیں تو بھی اس کے لیے وہ عبادات لکھی جائیں  گی حالانکہ وہ اب انہیں ادا کرنے پر قادر نہیں۔

 

 

 


[1] تفصیل کے لیے پڑھیں ہماری ویب سائٹ پر مختلف علماء کرام کے کلام پر مبنی آرٹیکل ’’ایامِ حیض میں قرآن مجید پڑھنے کا حکم؟‘‘ (توحید خالص ڈاٹ کام)۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

[2] آپ " نے اس لفظ ’’قبل مرضك‘‘ کے ساتھ ذکر فرمایا جبکہ جو ثابت ہیں وہ حدیث کے الفاظ ہیں جو اوپر بیان ہوئے اور اس حدیث کی تکمیل یوں ہے: ’’وغِناكَ قَبْلَ فَقْرِكَ، وفَراغَك قَبْلَ شغلِك، وحياتَكَ قَبْلَ موتكَ‘‘ (اپنے فقر سے پہلے غنی کو، مشغولیت سے پہلے فراغت کو اور موت سے پہلے حیات کو غنیمت جانو) اور یہ صحيح الترغيب والترهيب (3355)میں ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

[3] صحیح بخاری 2996۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

[4] نص حدیث یہ ہے: ’’إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ؛ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا‘‘۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

2015-07-04T06:00:14+00:00

Articles

Scholars