اس مقولے کا حکم: جو سلفیت کی طرف منتسب ہوتے ہیں ان کا کھلے عام رد نہ کیا جائے؟ – شیخ عبید بن عبداللہ الجابری

اس مقولے کا حکم: جو سلفیت کی طرف منتسب ہوتے ہیں ان کا کھلے عام رد نہ کیا جائے؟ – شیخ عبید بن عبداللہ الجابری

Ruling regarding the statement "those who ascribe themselves to salafiyyah should not be openly refuted"? – Shaykh Ubaid bin Abdullaah Al-Jabiree

اس مقولے کا حکم: جو سلفیت کی طرف منتسب ہوتے ہیں ان کا کھلے عام رد نہ کیا جائے؟   

فضیلۃ الشیخ عبید بن عبداللہ الجابری حفظہ اللہ

(سابق مدرس جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ میراث الانبیاء: هناك من يرى عدم الرد علنًا على المخطئ من المنتسبين للسلفية؛ فما قولكم؟

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: بارک اللہ فیکم، سائل کہتا ہے: بعض لوگ سلفیت کی طرف منسوب ہونے والوں کے علانیہ رد کو درست نہیں سمجھتے، اس دلیل کے ساتھ کہ ان کی دعوت میں بڑی کاوشیں ہیں، اور اس حجت کے ساتھ کہ سلفیوں کی صف میں تفرقہ نہ مچایا جائے، آپ کا اس بارے میں کیا قول ہے، اللہ آپ کی حفاظت فرمائے؟

 

جواب: سلفیوں کی صف، کون ہیں وہ؟  سلفیوں کی صف کا کیا معنی ہے؟ سلفیوں کی صف کی علامات ہیں(محض دعوؤں کا نام نہیں) :

پہلی علامت: کتاب وسنت سے تمسک فہم سلف صالحین کے مطابق۔

دوسری علامت: سنت ومنہج حق کو بیان کرنا علمی وتعلیمی اور لوگوں کو دعوت دینے کے اعتبار سے۔

تیسری علامت: منکر کا انکار، منکر کو وہ کسی بھی حال میں قبول نہیں کرسکتے۔

چوتھی علامت: ان مخالفات کا رد کرنا جو اجتہادی گنجائش اور ان باتوں میں سے نہیں جن میں اختلاف روا ہے۔ ان کا رد کتاب وسنت اور آئمہ علم وایمان ودین کے اقوال سے کرنا۔

پھر دیکھا جائے گاکہ اگر وہ مخالفت علانیہ ہو نشر ہوتی ہو کسی کتاب میں یا کیسٹ کی صورت میں یا تدریس میں تو پھر اس کے رد کے سلسلے میں یہی طریقہ اپنایا جائے گا (یعنی علانیہ)۔ کیونکہ اصل غرض تو جس دین کو اختیار کیا جاتا ہے اسے ہر قسم کی بدعت کے شائبے سے پاک کرنا ہوتا ہے۔ اور اگر کسی خاص مجلس میں (وہ مخالفت) ہو اور وہ ثابت ہوجائے تو اس کا رد کچھ تنگ دائرے میں اپنی حدود میں کیاجائے گا۔ (مثال کے طور پر) اگر بکر ہم سے سعید کے متعلق کوئی مخالفت نقل کرے جس میں اجتہاد کی گنجائش نہیں اور یہ بکر ہمارے نزدیک ثقہ (قابل اعتماد) بندہ ہو، تو میں اس سے کہوں گا یہ غلطی ہے، اور اس کی مخالفت کو کتاب وسنت بفہم سلف صالحین کی دلیل سےواضح کروں گا۔

 

لہذا اس بیان سے آپ کو اس مقولے کے اندر متعدد مخالفات معلوم ہوں گی:

پہلی مخالف: کتاب وسنت کی مخالفت۔ چناچہ متواتر سنت سے یہ دلیل ہے جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالی کا یہ فرمان تلاوت فرمایا:

﴿ ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ۭ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاۗءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاۗءَ تَاْوِيْلِهٖ څ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗٓ اِلَّا اللّٰهُ  ڤ وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا  ۚ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ ﴾  (آل عمران: 7)

(وہی (اللہ) ہے جس نے آپ پر یہ کتاب اتاری، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل ہیں اور کچھ دوسری متشابہات ہیں، پھر جن لوگوں کے دلوں میں کجی (ٹیڑھ پن) ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو متشابہات ہیں، فتنے کی طلب میں اور ان کی تاویل کی طلب میں، حالانکہ ان کی اصل مراد نہیں جانتا مگر اللہ ، اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے، اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر وہی جو عقل والے ہیں)

پھر فرمایا:

’’فإِذَا رأيتم الذين يتبعون ما تشابه منه ابْتِغَاء الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاء تَأْوِيلِهِ فأولئك الذين سَمَّى الله فاحذروهم‘‘([1])

(جب تم ان لوگوں کو دیکھو کہ جو کتاب اللہ میں سے متشابہ کے پیچھے پڑتے ہیں فتنہ مچانے کو اور باطل تاویل کرنے کو تو ان کے بارے میں ہی اللہ تعالی نے تمہیں نام لے کر بتادیا ہے کہ ان سے بچو)۔

 

اور امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح مسلم کے مقدمے میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت فرمایا اور امام بغوی رحمہ اللہ نے شرح السنۃ میں اسے حسن قرار دیا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’سَيَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي أُنَاسٌ يُحَدِّثُونَكُمْ مَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ‘‘([2])

(عنقریب میری امت کے آخری وقت میں ایسے لوگ ہوں گے جو تمہارے سامنے ایسی احادیث بیان کریں گے جو نہ تم نے نہ تمہارے آباء واجداد نے سنی ہوگی پس تمہیں ان سے دور ہی دور رہنا چاہیے)۔

 

اسی طرح سے تواتر کے ساتھ سنت میں خوارج اور گمراہ فرقوں سے تحذیر(ڈرانا، خبردار کرنا) آئی ہے۔ جن میں سے ایک حدیث ’’امت کا تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجانا‘‘  بھی ہے، جو کہ اپنی مجموعی طرق کے اعتبار سے صحیح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’وَسَتَفْتَرِقُ هَذِهِ الأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ، إِلَّا وَاحِدَةً، قَالُوا:مَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:  الْجَمَاعَةُ‘‘([3])

(اور عنقریب یہ امت بھی تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی، سب کے سب آگ (جہنم) میں جائيں گے سوائے ایک کے۔ انہوں نے دریافت کیا: وہ ایک کون ہوگا یا رسول اللہ؟ فرمایا: جماعت)۔

اور علماء کرام فرماتے ہیں:

’’الجماعة ما وافق الحق، وإن كنت وحدك‘‘

(جماعت وہ ہے جو حق کے موافق ہواگرچہ تو اکیلا ہی کیوں نہ ہو)۔

 

جماعت وہ ہے جو حق کے موافق ہو اگرچہ آپ اکیلے ہی کیوں نہ ہوں تو آپ جماعت ہیں۔ یہ ہمارے علماء کا قول ہے۔ کہ جماعت وہ ہے جو حق کے موافق ہو، اگرچہ وہ اکیلا ہی کیوں نہ ہو تو وہ ہی جماعت ہے۔

 

دوسری بات (مخالفت) :

بلاشبہ اہل سنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ مخالفت سے تحذیر (خبردار) کیا جائے گا، اور مخالفین اہل بدعت سے بھی،  ساتھ ہی  مخالف پر رد کیا جائے گا اگرچہ وہ اہل سنت میں سے ہی کیوں نہ ہو۔ ان کی کتب اس بارے میں معروف ہیں جن میں سے کچھ میں نے آپ کے سامنے ذکر بھی کی تھیں([4])۔

 

چناچہ ان باتوں سے آپ نے یہ جان لیا ہوگا کہ اس مقولے کا قائل یا تو جاہل ہے اور اس کے پاس لوگوں کے درمیان فرق کرنے والی کوئی فرقان ہی نہیں۔ یا پھر وہ قاعدہ: ’’المعذرةِ والتعاون‘‘ پر چل رہا ہے عملی طور پر، اگرچہ وہ اس قاعدے اور اس قاعدے والوں سے بظاہر نفرت کا اظہار کرتا ہو اور ان کے خلاف سختی دکھاتا ہو صرف نظری اعتبار سے، لیکن عملی طور پر وہ اسی قاعدے کی خود تطبیق کرنے والا ہے چاہے یا نہ چاہے۔

 

(’’المعذرةِ والتعاون‘‘ یہ قاعدہ اخوان المسلمین کا ہے  کہ: ’’نتعاون فيما اتفقنا عليه ويعذر بعضنا بعضًا فيما اختلفنا فيه‘‘ (ہم آپس میں تعاون کریں اس بات میں جس میں ہمارا اتفاق ہے، اور ایک دوسرے کا عذر قبول کریں (ردنہ کریں) اس  چیز میں جس میں ہمارا اختلاف ہے) (توحید خالص ڈاٹ کام))

 

 


[1] صحیح بخاری 4547، صحیح مسلم 2667، صحیح بخاری کے الفاظ ہیں: ’’فَإِذَا رَأَيْتِ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ فَأُولَئِكِ الَّذِينَ سَمَّى اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ‘‘۔

[2] صحیح مسلم 9۔

[3] صحیح ابن ماجہ 3242 وغیرہ۔

[4] تفصیل جاننے کے لیے پڑھیں ہماری ویب سائٹ پر شیخ حفظہ اللہ کا آرٹیکل ’’ان دنوں سلفیوں کے مابین جاری اختلافات کے بارے میں صحیح سلفی مؤقف ‘‘ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

2015-06-16T06:43:40+00:00

Articles

Scholars