برما میں بدھ متوں کے ہاتھوں ہمارے مسلم بھائیوں کے قتل عام کے بارے میں ہماری ذمہ داری – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

برما میں بدھ متوں کے ہاتھوں ہمارے مسلم بھائیوں کے قتل عام کے بارے میں ہماری ذمہ داری – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

The responsibility of the Muslims towards the Buddhist massacre of our brothers in Burma – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

برما میں بدھ متوں کے ہاتھوں ہمارے مسلم بھائیوں کے قتل عام

کے بارے میں ہماری ذمہ داری     

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ سحاب السلفیۃ، مكة 9-8-1433هـ

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: احسن اللہ الیکم فضیلۃ الشیخ: ہم  آپ سے مسلمانوں کے لیے رہنمائی وتوجیہ پر مبنی کلام چاہتے اس بارے میں کہ فی زمانہ بدھ مت والے  برما میں ہمارے مسلمان بھائیوں کا جو قتل عام کررہے ہیں، جو کہ اسی قتل وغارت ونسل کشی کی کڑی ہے جو وہ کئی دہائیوں سے کرتے آرہے ہیں، یہ بات بھی علم میں رہے کہ عالمی میڈیا بھی اس قضیہ کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے؟

الشیخ: یہ مسئلہ صرف برمیوں کے ساتھ خاص نہيں۔ بلکہ کئی علاقوں میں اسلام کو پسپا کیا جارہا ہے۔ کافر ممالک اب مسلمانوں پر مسلط ہوچکے ہیں۔ جو نہيں چاہتے کہ ان کا کوئی ملک باقی ہو بلکہ نہيں چاہتے کہ اسلام کا کوئی وجود ہی باقی ہو، جس قدر ان میں استطاعت ہے وہ یہ کرتے ہيں۔ آپ جانتے ہیں کہ اب یہ مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کررہے ہیں، یہ  اسےڈیموکریسی کا نام دیتے ہیں؟! ہم پر جبراً اپنامذہب اور اپنا کافرانہ حکم نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ اپنا کفریہ حکم ہم پر نافذ کریں اور اسے نام ڈیموکریسی و سیکولرازم کا دیتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالی کچھ بھی ہو اپنا نور ضرور پورا کرکے رہے گا۔

ہمیں چاہیے کہ دعاء کو لازم پکڑیں اور کثرت کے ساتھ اللہ تعالی کے حضور الحاح وزاری کریں(گڑگڑا کر دعاء کریں) اپنے مسلمانوں بھائیوں کے لیے جہاں کہیں بھی وہ ہوں کہ اللہ تعالی ان کی نصرت فرمائے اور انہیں ان کے دشمن سے نجات بخشے۔ ہمارے ذمے دعاء کرنا ہے فی الحال تو ہم دعاء کے سوا کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے۔ اور جس کےپاس اس سے بڑھ کر کچھ قدرت ہے تو اسے چاہیے وہ اسے استعمال کرے جس قدر ہو([1])۔

 


[1] اس کے علاوہ علماء مسلمین کی عالمی کمیٹی نے رابطہ العالم الاسلامی میں برما میں ہونے والے مسلمانوں کے قتل عام کا سختی سے نوٹس لیا اور بیان جاری کیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: مسلمان سب آپس میں بھائی ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کی جہاں کہیں بھی ہوں مدد کرنی چاہیے۔ ہم برما/میانمار  کے علاقے اراکان میں جو روہنگیا مسلمان کے ساتھ قتل وغارت ، جبری ملک بدر کرنے اور گھروں، املاک ومساجد کی تباہی کی جارہی ہے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔اور مسلمان حکومتوں اور تنظیموں پرزور دیا کہ وہ پچھلے پندرہ برسوں سے جاری ان مظالم کے خلاف اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کریں۔ اور نسلی ودینی امتیاز کی اس سیاست کی بھی مذمت کی جو اس امتیازی سلوک کو روا رکھتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی اپنی ذمہ داری یاد دلوائی کہ وہاں کے شہریوں کو برابر انسانی حقوق ملنے چاہیے۔اور رفاہی وخیراتی تنظیموں واداروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ان کی بھرپور مدد کریں خواہ وہ برما میں ہوں یا جنہوں نے بنگلہ دیش میں پناہ لے رکھی ہے اور بنگلہ دیشی حکومت سے اپیل کی کہ وہ اپنی سرحدوں کو اسلامی اخوت وبھائی چارے کی خاطر ان لوگوں پر بند نہ کرے۔ اور تمام اسلامی ممالک سے عموماً اور خلیجی مجلس تعاون کے ممالک سے خصوصاً اپیل کی کہ وہ بنگلہ دیش کا اس میں ساتھ دیں تاکہ وہ اس ذمہ داری سے بخوبی سبگدوش ہوسکیں۔  (تاریخ  هـ 1433 / 8 / 7 الموافق :": م 2012 / 6 / 27)۔

 

 

 

2015-06-12T13:40:19+00:00