امارت طلب کرنے کا حکم؟ – شیخ عبید بن عبداللہ الجابری

امارت طلب کرنے کا حکم؟ – شیخ عبید بن عبداللہ الجابری

Ruling on seeking Leadership? – Shaykh Ubaid bin Abdullaah Al-Jabiree

امارت طلب کرنے کا حکم   

فضیلۃ الشیخ عبید بن عبداللہ الجابری حفظہ اللہ

(سابق مدرس جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ میراث الانبیاء: سؤال في حكم طلب الإمارة۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: سائل کہتا ہے: احسن اللہ الیکم فضیلۃ الشیخ، ہم جو یہ سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث امارت کی طلب اور اس کی حرص کی مذمت پر پڑھ چکے ہیں ، اس حوالے سے سوال کرتا ہے اور کہتا ہے کہ: ہم کیسے ان نصوص کو جو طلبِ امارت کی نہی پر دلالت کرتے ہیں اور اس حدیث کے مابین جمع کرسکتے ہیں کہ جس میں سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے امامت طلب فرمائی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’أَنْتَ إِمَامُهُم‘‘([1])

(پس تم ان کے امام ہو)۔

جزاکم اللہ خیراً؟

 

جواب: جو کچھ مجھ پر ظاہر ہواہے اس کے مطابق اس کا حکم احوال کے اختلاف کے ساتھ مختلف ہے۔ اور ابھی جو احوال میرے ذہن میں آرہے ہیں وہ ہیں:

1- لوگوں کو اس شخص کی ضرورت ہو اور اس سے بہتر کوئی موجود نہ ہو، ساتھ ہی اس شخص کی قدرومنزلت اور سیاسی معاملات پر گرفت وقدرت لوگوں میں جانی پہچانی ہو۔ یہ پہلی حالت ہے جائز احوال میں سے۔

 

2- اس کے شہرکے لوگ اسے امام کے سامنے ، حاکم کے سامنے نامزد  کریں تو پہلی حالت کی طرح اسے بھی متعین کیا جائے گا۔

 

3- وہ ضعیف وکمزور ہو اور ضعف کے مختلف احوال ہیں یا تو حسی ہوتا ہے یا معنوی ۔ تو ایسے شخص پر واجب ہے کہ وہ اس سے دور ہی رہے اور اسے طلب نہ کرے۔ اور ایسے ہی پر وہ حدیث لاگو ہوگی۔

 

4- لوگوں کو اس کی ضرورت تو نہ ہو مگر وہ خود سے چاہتا ہو کہ اس سے مقابلہ کرے جو اس کا زیادہ حقدار ہے، یا اس سے مقابلے کرے جو اس کے لیے پیش قدمی کررہا ہو خواہ حقدار ہو یا نہ ہو، اس سے مزاحمت ومقابلہ کرنا چاہے، تو ایسوں پر سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث لاگو ہوگی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’يَا عَبْدَ الرَّحْمنِ بنَ سمرةَ لا تَسْأَلِ الإِمَارَةَ ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا ، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا‘‘([2])

(اے عبدالرحمن بن سمرہ کبھی امارت کا سوال نہ کرنا، کیونکہ اگر بغیر مانگے تجھے مل جائے تو اس پر تیری مدد کی جائے گی، اور اگر مانگے سے تجھے ملے تو اسی کے سپرد کردیا جائے گا)۔

 

اور اس میں تحذیر (ڈرایا) گیا ہے انہیں جو انتخابات کے لیے خود سے امیدوار بنتے ہیں۔ ہم اس بات کی وصیت کرتے ہیں اور فی زمانہ اس کے نقصانات وبرائیاں بھی جان چکے ہيں کہ انسان اس سے اپنے آپ کو دور ہی رکھے سوائے ان حوال کے:

1- اس میں مقابلہ کرنے والے امیدوار وہ ہوں جواس کے اہل ہی نہیں جیسے رافضی، جہمی، اخوانی جیسے سنت کے بدترین دشمن۔ بلکہ بعض ممالک میں تو شاید کفار تک امیدوار ہوتے ہیں۔ اسی آزادی کو وہ ڈیموکریسی (جمہوریت) کہتے ہیں (اللہ تعالی اس پر، اور جس نے اسے مسلمانوں میں ایجاد کیااس پر لعنت فرمائے)۔ تو اس کی قوم والے اسے بطور امیدوار آگے کرتے ہیں اس کے علاقے والے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ انہیں (ان کے مقابلے میں) کفایت کرے گا، تو وہ ان کی اس طلب پر عمل پیرا ہوتا ہے۔

 

2- اس کی قوم نے تو اسے بطور امیدوار آگے نہیں کیا لیکن اگر  اس نے امیدوار بن کر مقابلہ نہ کیا تو ظاہراً ان لوگوں کا پلڑا بھاری ہوجائے گا جو اسلام اور مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہوں، تو وہ آگے بڑھے اور اس کا پلڑا بھاری ہوجائے اور وہ مطلوبہ ووٹ حاصل کرلے یا مطلوبہ غالب اکثریت حاصل کرلے جیسا کہ وہ کہتے ہيں، تو وہ اس پر اجر وثواب کا مستحق ہوگا ان شاء اللہ۔

 

اس مسئلے میں فی الحال میرے سامنے یہی کچھ واضح ہوا ہے۔ اور ہمارا الجزائر سے کیے گئے ایک سوال پر مبنی فتوی بھی نشر ہوچکا ہے۔  شاید کہ وہ پال ٹاک یا کسی دوسری ویب سائٹ پر ہو، اس کی جانب رجوع کریں ان شاء اللہ۔

 


[1] صحیح ابی داود 531۔

 

[2] صحیح بخاری 6622، صحیح مسلم 1654۔

 

2015-05-20T14:10:16+00:00

Articles

Scholars