Advice to the youth regarding the endless doubts of Ahl-ul-Bida'ah – Shaykh Ubaid bin Abdullaah Al-Jabiree

اہل بدعت کے لامتناہی شبہات کے تعلق سے نوجوانوں کو نصیحت   

فضیلۃ الشیخ عبید بن عبداللہ الجابری حفظہ اللہ

(سابق مدرس جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: أصول و قواعد في المنهج السلفي، سوال 3.

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: اہل بدعت کے شبہات جو ختم ہونے کا نام نہيں لیتے کے تعلق سے آپ کیا رہنمائی فرمائیں گے کہ جو نوجوانوں او راس امر (سلفی منہج) کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں؟

جواب: آپ کو یہ حدیث یاد ہے:

’’إِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ مِنَ الْغَنَمِ الْقَاصِيَةَ‘‘([1])

(بھیڑیا تو کھاتا  ہی ریوڑ سے الگ تھلگ بکری کو ہے)۔

تو ہم میں سے ’’القاصي‘‘ (الگ تھلگ) کون ہے؟ یہ وہ ہے جو ان معروف اہل علم وفضل سے رابطے میں نہیں رہتا جو کہ اپنی وسیع اطلاع، راست منہج، قوت رائے اور دعوت الی اللہ میں بصیرت اپنانے کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اس قسم کے شخص پر تو لازم ہے کہ شبہات وارد ہوتے رہیں گے۔

آج ہی عصر کے وقت مجھ سے ایک شخص نے فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ وہ طالبعلم ہے اور یہ یہ ہے، اور کبار علماء کمیٹی کے بعض علماء کے پاس پڑھ چکا ہے اور آخر تک جو کچھ اس نے کہا، پھر کہا: جب وہ وعید سے متعلق آیات پڑھتاہے تو اس سے بہت متاثر ہوتا ہے اور سوچتا ہے آخر یہ عذاب کیونکر ہوگا! یعنی اس کے کلام کا یہ معنی تھا۔ یہ شبہہ ہے جو شیطان نے اس کے دل میں ڈالا ہے ۔

 جو چیز آپ کو شبہات سے دور کرے گی(اللہ تعالی ہمیں اور آپ کو دنیا وآخرت میں عافیت دے) عزم کو قوی کرے گی، ثابت قدمی دے گی، اور آپ کے دل کو آپ کے منہج کے تعلق سے یقین اور ثبات سے بھر دے گی وہ تفقہ فی الدین ہے۔ اور اس کا طریقہ یہی ان اہل علم وفضل سے رابطہ ہے اور جڑنا ہے جو صحیح عقیدے اور سیدھے منہج کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

ثانیاً: طلب علم میں بس منہمک ہوجاؤ، اس سے کبھی بھی سیر نہ ہو، علم کا زاد راہ اپناؤ۔

ثالثاً: اپنے آپ کو اہل شبہات پر پیش ہی نہ کرو۔ یہ کوشش ہی نہ کرو کہ اپنے آپ کو ان پر پیش کرو یہ کہتے ہوئے کہ میں دیکھنا چاہتا ہوں آخر ان کے پاس کیا ہے، نہیں نہیں ہرگز نہيں! بلکہ اہل سنت کے گروہ میں اضافے کا سبب بنو اور اللہ تعالی سے اعتصام کرو(چمٹ جاؤ) اور پھر ان (سلفیوں) سے اعتصام کرو، ان میں ضم ہوجاؤ، ان کے ساتھ ساتھ رہو۔ دوسروں کو چھوڑ دو آپ ان کے مسئول نہیں ہیں۔ کبھی کسی دن آپ کے دل میں یہ خام خیالی نہ آئے کہ آپ اخوانیوں یا تبلیغیوں یا صوفیوں کو سنت کی طرف لے آئیں گے۔ جو کچھ ہمارے سامنے ظاہر ہے وہ یہ کہ انسان کی  قدرت کے تعلق سے جو سنت مقرر ہے اس اعتبار سے تو محال ہے۔ یہ سنت کونیہ ہے(یعنی پورے کا پورا بدعتی گروہ ہی سنت پر آجائے او رختم ہوجائے ایسا ہوتے عموماً کبھی دیکھا نہیں گیا)۔ ہاں البتہ ان کے افراد کو انفرادی طور پر نصیحت کریں اور اللہ تعالی نصیحت کے ذریعے ان کے افراد کو نفع پہنچاتا ہے۔ لہذا ان کی مجالس سے دور رہو کیونکہ اس کے ناقابل ستائش نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ اور اچھا ماحول سونے کے بلاک وبسکٹ سے بھی بڑھ کر نظیف ہوتا ہے۔ اہل سنت والجماعت کا جو ماحول ہے اس میں کسی قسم کی گندگی نہیں، اس میں سنت کے سوا کچھ ہے ہی نہیں: قال الله وقال رسوله قال الصحابة۔

پھر یہ بھی ضروری ہے اگر ان پرکوئی شبہہ پیش ہوتا بھی ہے جس میں وہ مبتلا ہوا چاہتے ہیں تو اس کا فوراً رد کردیا جائے۔ اور اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو پھر اہل علم سے پوچھا جائے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴾ (الانبیاء: 7)

(پس اہل ذکر (علم) سے سوال کرلو، اگر تمہیں علم نہ ہو)

اہل علم سے پوچھیں سوال کریں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمارا پالا دو قسم کے یا پھر تین قسم کے سلفی نوجوانوں سے پڑا ہے، جن کی وجہ سے یہ (سلفیت میں) پھوٹ اور کمزوری پیدا ہوئی ہے:

پہلی صنف(قسم): جنہیں کوئی قرار ہی نہیں، ہر دن آپ پائيں گے کسی نئی جہت میں متوجہ ہوں گے۔ اس کی مثال تو ایسی ہے جو کوئی نوٹس وکاغذات اٹھائے کھڑا ہوتا ہے او رکسی بھی اخوانی، تبلیغی وصوفی مجلس سے پرہیز ہی نہیں کرتا۔ نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ پراگندہ خیالات وافکار میں مبتلا رہتاہے۔ بلکہ بعض تو ان میں سے سنت سے ہی آگے نکل جاتے ہیں اور منحرف ہوجاتے ہیں اور ناجائز نرمی برتنے لگتے ہیں۔ اور ان میں سے بعض (العیاذ باللہ) کو تو حیرت آلیتی ہے جانتا ہی نہیں کہ آخر کرنا کیا ہے، اسے وساوس، قلق وفکری تشویش گھیر لیتی ہے۔

دوسری صنف: جلد باز قسم کے (سلفی نوجوان)۔ بس تھوڑا سا کچھ کتاب سے پڑھتے ہی اسے بیان کرنے کے لیے خود کو لوگوں پر پیش کردیتے ہیں۔یعنی اہل علم سے رابطہ نہیں کرتے تاکہ اس کی فکر پروان چڑھے، وہ قوی ہوجائے اور ان علمی اصولوں کو اچھی طرح سے جان جائے جو اس نے پڑھے ہیں  اور اس منہج کو بھی جو اس نے اپنایا ہے۔اور ایسے لوگ بہت ہیں اور یہی لوگ نوجوانوں کے مابین نفرتوں کے بیج بونے کا سبب بن رہے ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ حکم لگانے میں پیش پیش ہوتے ہیں حالانکہ جانتے ہی نہیں کہ ان احکام کو کیسے بروئے کار لایا جاتا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کیا جاتا ہے کہ انہوں نے فرمایا:

’’ما أفتيت حتى أذن لي سبعون من مشائخي، قيل: ولو لم يأذنوا لك؟، قال: ما أفتيت‘‘

(میں نے اس وقت تک فتویٰ نہيں دیا جب تک مجھے میرے ستر مشایخ نے اجازت نہ دی۔ ان سے کہا گیا: اگر وہ آپ کو اجازت نہ دیتے تو فرمایا: میں فتویٰ بھی نہ دیتا)۔

جبکہ ہمارے نوجوانوں کا یہ حال ہے کہ شیخ کو معلوم ہی نہيں کہ وہ کہاں بیٹھتا ہے۔ حالانکہ قدیم زمانے میں وہ کسی تلمیذ (طالبعلم) کو تعلیم وفتویٰ دینے کے لیے چھوڑتے ہی نہیں تھے جب تک اس کے مشایخ اسے اجازت نہ دیں۔ان سے باقاعدہ وہ اجازت لیتا۔ بلکہ وہ اس کے لیے ایک جگہ بھی مقرر کردیتے کہ جہاں اسے بیٹھنا ہے۔اور یہ بڑی عظیم عزت افزائی کی بات ہے۔سلف اس پر تربیت پاتے تھے۔ جو بعد والے تھے وہ اپنے سے پہلوں سے یہ تربیت پاتے، اسی چیز پر ان کی تربیت ہوتی۔ اور زمانۂ قدیم میں وہ کہا کرتے تھے کہ:

’’امتحنوا أهل مصر بالليث، وأهل الشام بالأوزاعي، وأهل الموصل بالمعافى بن عمران …‘‘

(اہل مصر کو امام اللیث کے ساتھ آزماؤ، اہل شام کو الاوزاعی کے ساتھ اور اہل موصل کو المعافی بن عمران کے ساتھ۔۔۔وغیرہ)۔

تیسری صنف: یہ ایسی صنف ہے جن کے پاس کوئی فرقان (حق باطل میں تمیز) ہی نہيں۔ وہ سب باتوں کو جمع کرنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتا۔ اس کےپاس فقط اچھی نیت ہوتی ہے۔ پس ممکن ہے کہ ایک ہی دن میں اس پر کئی مشارب وارد ہوتے ہوں۔ وہ اپنے اعتقاد کے اعتبار سے تو اچھا ہے اور سلفیت سے محبت کے اعتبار سے بھی اچھا ہے، لیکن اس کے پاس وہ فرقان ہی نہیں کہ وہ جانے کہ کس سے دوستی کرنی ہے اور کس سے دشمنی، کس پر ناگواری کا اظہار کرنا ہے اور کس کے لیے سینہ کشارہ رکھناہے۔ اور اس قسم کے لوگ بھی سلفیوں پر ایک مصیبت وآزمائش سے کم نہيں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان کے ذریعے سے لاشعوری طور پر اہل بدعت کو تقویت ملتی ہے ، ان کے ذریعے سے قوت پکڑتے ہیں۔ لہذا لازم ہے کہ انسان کے پاس فرقان ہو۔

ہاں نصیحت کرنا تو اچھی بات ہے قابل قبول ہے، لیکن میر ےبیٹوں نصیحت کی بھی اپنی حد ہوتی ہے۔ ایک بدعتی شخص ہے اگر آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کا اس سے قریب ہونا اس پر اثر انداز ہوتا ہے اس کی بدعت کی شدت وحدت میں کمی کرتا ہےاور اسے سلفیت کے قریب کرتا ہے تو آپ کو چاہیے اسے لازم پکڑیں، اور اس کے ساتھ لگے رہیں۔ لیکن اگر آپ کا اس کی نصیحت چاہنااسے کوئی فائدہ نہ پہنچا رہاہوتو اس سے مایوس ہوکر اپنے ہاتھ اٹھا لیں۔ پھر اس کے بعد اس سے وہی معاملہ کیا جائے گا جس کا وہ مستحق ہوگا: کبھی اس سے ہجر (بائیکاٹ) کیا جائے گااور کبھی نہیں۔ لیکن اس کے افکار سے تو بہرحال تحذیر  کی جائے گی(خبردار کیا جائے گا)۔ یہ معاملہ اس قاعدے کی جانب رجوع کرکے کیا جائے کہ ہمیں اس کے نتیجے میں ہونے والے مفاسد ومصالح پر نظر کرنی چاہیے۔

الغرض لازم ہے کہ ایک سلفی کے پاس فرقان ہو، وہ جانے اچھی طرح سے کہ کس سے دوستی کرنی ہے اور کس سے دشمنی، اور وہ جانے کہ لوگوں میں سے  اسے کس کی شان وشوکت کو تقویت دینی ہے اور کن کے گروہ میں اضافے کا سبب بننا ہے۔

بلکہ ممکن ہے ہم اس پر ایک چوتھی صنف کا بھی اضافہ کریں: بعض ایسے نوجوان پائے جاتے ہیں وہ سلفی منہج سے محبت تو رکھتے ہیں لیکن اسے اپنی دعوت میں اپناتے نہیں ہیں۔ وہ یونہی سلفیت کی طرف انتساب کرتے ہیں اور سلفیوں سے محبت بھی کرتے ہیں، لیکن بعض بدعیہ مخالفات میں واقع ہوجاتے ہیں، اس حجت کے ساتھ کہ وہ انہیں قریب لانا چاہتے ہیں۔ہرگز نہیں! سلف اس طرح کبھی بھی نہیں ہوا کرتے تھے، بارک اللہ فیکم۔ سلف سلفی منہج کے اظہار کے ذریعے تفریق کیا کرتےتھے اور جو اس پر نہیں چلتا تھا اسے بالکل بھی منظور نظر نہيں رکھتے تھے۔

 


[1] صحیح الترغیب 427۔