جب مرد عورت کو رشتے کا پیغام بھیجنا چاہے – امام احمد بن حنبل

جب مرد عورت کو رشتے کا پیغام بھیجنا چاہے – امام احمد بن حنبل

When a man wants to propose to a woman – Imaam Ahmed bin Hanbal

جب مرد عورت کو رشتے کا پیغام بھیجنا چاہے

امام اہلسنت والجماعت احمد بن حنبل رحمہ اللہ المتوفی سن 241ھ

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الإنصاف – (ج 12 / ص 206)

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

(اگرچہ یہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ:

’’تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ‘‘([1])

(عورت سے چار چیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے: اس کے مال کی وجہ سے، اس کے حسب نسب کی وجہ سے، اس کے حسن وجمال کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے۔ تم دین دار سے نکاح کرکے کامیابی وکامرانی حاصل کرنا، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں)۔

اس حدیث سے اگرچہ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ سب سے پہلے جس عورت کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا جارہاہے اس کی دینداری کے بارے میں دیکھا جائے لیکن بعض آئمہ کرام اس حدیث کا صحیح مفہوم کچھ یوں بیان کرتے ہیں)۔

امام احمدبن حنبل   رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’إذَا خَطَبَ رَجُلٌ امْرَأَةً سَأَلَ عَنْ جَمَالِهَا أَوَّلًا، فَإِنْ حُمِدَ،سَأَلَ عَنْ دِينِهَا. فَإِنْ حُمِدَ: تَزَوَّجَ، وَإِنْ لَمْ يُحْمَدْ : يَكُونُ رَدُّهُ لِأَجْلِ الدِّينِ.وَلَا يَسْأَلُ أَوَّلًا عَنْ الدِّينِ، فَإِنْ حُمِدَ سَأَلَ عَنْ الْجَمَالِ.فَإِنْ لَمْ يُحْمَدْ رَدَّهَا، فَيَكُونُ رَدُّهُ لِلْجَمَالِ لَا لِلدِّينِ‘‘

(جب کوئی مردکسی عورت کو رشتے کا پیغام بھیجے تو اس کے حسن کے بارے میں پہلے دریافت کرے۔ اگر اس کی تعریف کی گئی تو پھر اس کی دینداری کے بارے میں پوچھا جائے۔ اور اگر اس کی بھی تعریف کی گئی تو شادی کرے۔ اور اگر اس کے دینداری کی تعریف نہ کی گئی تو اس کا رشتے کو رد کرنا دین کی وجہ سے کہلائے گا۔ ایسا نہ کرے کہ پہلے پہل ہی اس کی دینداری کے بارے میں سوال کرلیا جائے اور اگر اس کی دینداری قابل تعریف ہو تو پھر اس کے حسن کی بابت پوچھا جائے۔ اگر اس کے حسن کی تعریف نہ ہو(یا اسے اچھی نہ لگے) تو وہ اسے رد کردے، لیکن اس صورت میں تو رشتے کو مسترد کرنا حسن کی وجہ سے ہوا ناکہ دینداری کی وجہ سے(یعنی گویا کہ حسن کو دینداری پر ترجیح دی گئی))۔

(اور بعض علماء کرام نے اس آیت سے ﴿فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ﴾ (النساء: 3) (اور ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں پسند ہوں) یہی مراد لی ہے کہ جو انسان کو پسند آئے اس سے نکاح کرے، کیونکہ نکاح سے مقصود اپنے آپ کو فتنہ وحرام شہوات سے محفوظ رکھنا ہے اگر ناپسند عورت سے شادی کرلی تو اسے یہ مقصد حاصل نہ ہوگا اور دین داری کا نقصان ہوسکتا ہے، اللہ اعلم)۔

 


[1] صحیح بخاری 5090، صحیح مسلم 10/15۔

2015-02-03T14:34:50+00:00