غائبانہ نماز جنازہ کا حکم – مختلف علماء کرام

غائبانہ نماز جنازہ کا حکم – مختلف علماء کرام

Ruling regarding offering the funeral prayer in absentia – Various 'Ulamaa

غائبانہ نماز جنازہ کا حکم   

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: غائبانہ نماز جنازہ کا کیا حکم ہے؟ کیا جو ابھی تک دفن نہیں ہوا اس پر بھی غائبانہ پڑھی جاسکتی ہے؟

جواب  از شیخ ابن باز رحمہ اللہ:

غائب میت پر نماز جنازہ پڑھنے کی تفصیل ہے:

بعض اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ جس غائب پر اس کی شہر میں نماز جنازہ پڑھی جاچکی ہے تو اس پر دوبارہ نہ پڑھی جائے، اور بعض اہل علم اس کے پڑھنے کے قائل ہیں۔

لیکن یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے جس کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی جارہی ہے اس کی اسلام میں خاص شان وشوکت ہو جیسا کہ نجاشی رحمہ اللہ تھے۔ کیونکہ جب نجاشی رحمہ اللہ اپنے وطن میں فوت ہوئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی خبر دی اور ان پر غائبانہ نماز جنازہ ادا فرمائی تھی۔ مگر یہ ثابت نہیں کہ ان کے علاوہ بھی اس طرح سے اوروں پر غائبانہ نماز جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑھی ہو۔

اگر جس کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی جارہی ہے کوئی عادل و اچھا حکمران ہوتو اس پر ولی امر غائبانہ نماز جنازہ ادا کرتا ہے اور ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اسی طرح سے علماء حق وداعیان ہدایت پر بھی اگرغائبانہ نماز جنازہ  ادا کردی جائے تو اچھی بات ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجاشی رحمہ اللہ پر ادا فرمائی تھی۔

البتہ عام لوگوں پر غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا مشروع نہیں ہے۔ کیونکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر غائب شخص پر غائبانہ نماز جنازہ نہیں ادا فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بس ایک شخص نجاشی رحمہ اللہ پر غائبانہ نماز جنازہ ادا فرمائی تھی۔ کیونکہ آپ رحمہ اللہ کی اسلام کی خاطر بڑی خدمات تھیں اور اس لیے کہ آپ رحمہ اللہ نے ان مہاجرین صحابہ کرامرضی اللہ عنہم  کو اپنے پاس پناہ دی جو حبشہ ہجرت کرگئے تھے، انہیں پناہ دی، ان کی نصرت کی، دفاع فرمایا اور بہت اچھا برتاؤ فرمایا۔ ان کی طرف سے اسلام کو عظیم تائید حاصل ہوئی۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر غائبانہ نماز جنازہ ادا فرمائی جب وہ فوت ہوئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی۔

لہذا جس شخص کا ایسا درجہ ہو اور اسلام کے لیے ا س کی ایسی خدمات ہوں تو اس پر غائبانہ نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے۔ جیسا کہ ہمارے ملک سعودی عرب میں ضیاء الحق رحمہ اللہ صدر پاکستان پر غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی تھی۔ ان کے اچھے اسلامی مواقف کی وجہ سے ہمارے حکمران نے حکم دیا کہ ان پر حرمین میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کیا جائے۔ چناچہ ان پر غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی کیونکہ وہ اس کے اہل تھے کہ ان کے بڑے اچھے مواقف تھے اور تحکیم شریعت پر خاص توجہ دیتے تھے، اس کا حکم بھی دیتے اور اس کی حرص رکھتے تھے۔ ہم اللہ تعالی سے اپنے اور ان کے لیے عفوومغفرت کا سوال کرتے ہیں۔

مقصود یہ ہے کہ جو شخصیت اس پائے کی ہو مسلمان حکمرانوں میں سے یا علماء کرام میں سے اس صورت میں مسلمانوں پر مشروع ہے کہ وہ ان پر غائبانہ نماز جنازہ ادا کریں خواہ وہ کسی دوسرے ملک یا شہر میں فوت ہوں یا ان کے اپنے ملک وشہر میں، جس کی دلیل یہی نجاشی رحمہ اللہ کا مذکورہ بالا قصہ ہے۔ واللہ ولی التوفیق۔

(مجموع فتاوى ومقالات متنوعة المجلد الثالث عشر)

مزید فتاوی کے لیے مکمل مقالہ پڑھیں  ۔ ۔ ۔

2014-12-27T16:27:55+00:00

Articles

Scholars