مخالفین واہل بدعت پر رد نہ کرنے کے تعلق سے ایک عمومی قول کی وضاحت – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

مخالفین واہل بدعت پر رد نہ کرنے کے تعلق سے ایک عمومی قول کی وضاحت – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Shaykh Saaleh Al-Fawzaan (hafidaullaah) explaining a general speech of 'Ulamaa not to refute anyone

مخالفین واہل بدعت پر رد نہ کرنے کے تعلق سے ایک عمومی قول کی وضاحت   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ سحاب السلفیۃ

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

پیر 2 جمادی الاولی 1435ھ بمطابق  3 مارچ، 2014ع  عمدة الفقه کے درس میں سوال ہوا ۔۔۔

 

سوال: سائل کہتا ہے کچھ دن قبل دار الافتاء کی جانب سے بیان صادر ہوا جس میں تفرقے اور اختلاف کو چھوڑ دینے کی نصیحت تھی ۔ کہتے ہیں کہ: بعض لوگ اس فتویٰ کو لے کر اس طور پر پھیلانے میں مشغول ہیں اورایسا اجمالی سا کلام کرتے ہیں گویا کہ مخالفین یا اہل بدعت پر رد کرنا جائز ہی نہیں؟

 

الشیخ: اس بیان میں ایسا کچھ نہیں۔ اس بیان میں یہ کہیں نہيں کہ مخالف پر رد نہ ہو، اور حق کو باطل سے واضح کرکے بیان نہ کیا جائے۔ یہ اس بیان پر جھوٹ افتراء ہے۔ اس بیان میں طالبعلموں کو یہ نصیحت کی گئی تھی کہ معمولی سی باتوں پر ایک دوسرے سے نہ جھگڑیں، نہ بائیکاٹ کریں اور نہ ایک دوسرے پر چڑھائی کریں، محض باہمی معمولی سے اختلاف  یا سوء ظن کی وجہ سے۔ انہيں چاہیے کہ باہمی نصیحت وخیرخواہی سے کام لیں۔ یہ تھا اس بیان کا اصل مقصود۔ لیکن ان کا اس بیان کو ایسی ایسی باتوں پر از خود محمول کرنا ۔۔۔تو اس کی ذمہ داری ومسئولیت ان کے اپنے اوپر ہے۔

 

بیان تو واضح ہے اس میں کوئی اشکال نہيں۔ بہت سے لوگ تو کلام اللہ تک کو اپنی اہوا وخواہش نفس کے مطابق محمول کرتے ہیں، اور جیسا چاہتے ہيں اس کی تفسیر کرتے ہیں۔  یعنی اس بیان کو غلط معانی پہنانا صرف اس بیان کے ساتھ خاص نہیں۔ اہل باطل اپنے باطل کی اتباع کرتا ہے اور وہی مراد بیان کرتا ہے جو اس کے باطل کی تائید کرتی ہو، اگرچہ وہ جھوٹ ہی کیوں نہ ہو۔ خواہ انہیں وہ جھوٹ لوگوں کے ذمے لگا کر کہنا ہو، یا قرآن کریم کے یا علماء کرام کے(وہ یہ کرگزرتے ہیں)۔

2014-06-08T07:15:52+00:00

Articles

Scholars